قومی زبان

غم حیات لب شعلہ بار تک پہنچا

غم حیات لب شعلہ بار تک پہنچا ہمارا ذہن حد اعتبار تک پہنچا فسوں یہ کس کی نظر کا بہار تک پہنچا سکوت لالہ و گل انتشار تک پہنچا بھٹک رہا تھا جنوں رہ گزار ہستی میں نہ جانے کب یہ خم زلف یار تک پہنچا سب اہل بزم مرے حسن شعر تک پہنچے مگر نہ کوئی دل سوگوار تک پہنچے یہ کس نے چھیڑ دیا ساز ...

مزید پڑھیے

بجھے بجھے سے ہیں شاعر کے ذہن و دل کے دیے (ردیف .. ن)

بجھے بجھے سے ہیں شاعر کے ذہن و دل کے دیے بھٹک رہا ہے کہاں جائے روشنی کے لیے روش روش پہ درخشاں ہے برق خوف و ہراس جھلس رہے ہیں در و بام جذبہ و احساس نظر اداس ہے ویراں ہیں سارے نظارے جبین صبح سے پھوٹے لہو کے فوارے زمیں پہ لاشوں کے گلشن میں خوں کی نمی اب اہتمام بہار چمن میں کیا ہے ...

مزید پڑھیے

بریدہ دست و قلم کی برات لے کے چلو

بریدہ دست و قلم کی برات لے کے چلو حریم جبر میں شمع حیات لے کے چلو فریب شب ہی سہی آج قصر ظلمت میں سحر کی بات چلی ہے یہ بات لے کے چلو ستم کشو خلش زخم اعتبار کے ساتھ جراحت نگہ التفات لے کے چلو یہ رسم سنگ زنی اجنبی سی بات نہیں جبین شوق پہ نقش ثبات لے کے چلو شمیمؔ جنس وفا زندگی کے ...

مزید پڑھیے

گزشتہ شب ہمہ اوقات غرق جام رہے

گزشتہ شب ہمہ اوقات غرق جام رہے کبھی خدا سے کبھی اس سے ہم کلام رہے دعائے آخر شب میں اسی کو مانگا ہے جو قتل حرف تمنا پہ شاد کام رہے کبھی جو آئی بھی تکمیل آرزو کی گھڑی جو ناتمام تھے قصے وہ ناتمام رہے دئے سجے رہیں پلکوں پہ دل سلگتا رہے وہ آئے یا کہ نہ آئے یہ التزام رہے لہو لہو دل و ...

مزید پڑھیے

اک پیڑ سر دشت تمنا نظر آیا

اک پیڑ سر دشت تمنا نظر آیا تا حد گماں ابر کا سایہ نظر آیا تاریک سمندر میں جزیرہ تھا کوئی دل سورج کسی گوشے سے ابھرتا نظر آیا بنجر تھی زمیں جذبہ و احساس کی کب سے صحرا میں ابلتا ہوا چشمہ نظر آیا جنگل میں بھٹکتا وہ مسافر تھا کہ جس کو پربت پہ محبت کا شوالہ نظر آیا ہیں کب سے سرابوں ...

مزید پڑھیے

وفا کا ذکر ہو بے مہریٔ بتاں کی طرح

وفا کا ذکر ہو بے مہریٔ بتاں کی طرح یہاں خلوص بھی ارزاں ہے نقد جاں کی طرح کبھی جو حال دل خوں چکاں کا ذکر چلے سنائیے انہیں روداد دیگراں کی طرح سروں کے چاند فروزاں ہیں راہ الفت میں چمک رہی ہے زمیں آج کہکشاں کی طرح کسی مسیح کے قدموں کی آہٹیں سن کر صلیب جھوم اٹھی شاخ آشیاں کی ...

مزید پڑھیے

تیری دل نواز باتیں تری دل نشیں ادائیں

تیری دل نواز باتیں تری دل نشیں ادائیں تری آرزو میں کیسے نہ جہاں کو بھول جائیں کوئی گیت گنگنائیں کہ غزل کوئی سنائیں ترے گیسوؤں کے سائے میں یہ سوچ بھی نہ پائیں یہ نہ جانے آج کس نے در دل پہ دی ہے دستک یہ جو اٹھ رہا ہے طوفاں اسے کس طرح دبائیں یہ نوازش جنوں ہے کہ فسوں تری نظر کا یہ ...

مزید پڑھیے

چار سو خوف تیرگی ہے بہت

چار سو خوف تیرگی ہے بہت شب کو احساس برتری ہے بہت حکم تازہ ہے ان کو گل کر دو جن چراغوں سے روشنی ہے بہت نخل جاں پھر جھلس نہ جائے کہیں دھوپ احساس کی کڑی ہے بہت جام مے ہو کہ ساغر زہراب کچھ بھی آئے کہ تشنگی ہے بہت درد کا چاند ہی نکل آئے دل کے صحرا میں تیرگی ہے بہت کم نہ تھا جہل کا ...

مزید پڑھیے

محبت دکھوں کی اک دوا ہے

محبت دکھوں کی اک دوا ہے وگرنہ زندگی حرف دعا ہے اندھیرے کا تناسب بڑھ نہ جائے کوئی سورج زمیں پہ آ گرا ہے ہمارا حال ہے اظہر من الشمس جو سب کا حال ہے کس سے چھپا ہے در کعبہ پہ بھی پہرے بٹھاؤ بتوں کی واپسی کا مرحلہ ہے شکستہ پا سفر کی سمت کھو کر مسافر راہ میں تنہا کھڑا ہے در آئے جس ...

مزید پڑھیے

جذبہ و احساس کی شدت کا اندازہ ہوا

جذبہ و احساس کی شدت کا اندازہ ہوا ہر نفس ہر سانس میں چاہت کا اندازہ ہوا خواب چہرہ سرد لب آنکھوں میں چنگاری کی رت وقت رخصت دل کی کیفیت کا اندازہ ہوا ہجر کا موسم جب آئے وصل کی خوشبو کھلے فاصلوں کے درمیاں قربت کا اندازہ ہوا قطرۂ شبنم میں دیکھوں شعلگی کا مد و جزر صبح سے ہی شام کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2479 سے 6203