قومی زبان

حبیب جالب

ضمیر وقت کی آواز روح عصر کا کرب سمیٹے دامن دل میں نہ جانے کب سے تھا حصار جبر و ستم میں دکھوں کی بستی میں جلائے شمع قلم ہم کلام شب سے تھا حریف سنت آزر کلیم جادۂ فن صنم کدے میں مخاطب بتوں کے رب سے تھا وہ اپنے عہد کا منصور حرف حق کا نقیب صلیب وقت پہ فائز وہ شخص کب سے تھا وہ لب جو حرف ...

مزید پڑھیے

جبر حالات

تری مشروط توجہ مری پابند نظر جبر حالات کا احساس جگا دیتی ہیں چشم بیدار کا ہر خواب سلا دیتی ہیں چاند سورج مری آنکھوں کے بجھا دیتی ہیں با ہمہ غم بہ ہمہ لذت آزار ستم دیکھنا ٹھہرا مجھے آرزوئے وصل کا خوں شخصیت کا تری جادو کہ محبت کا فسوں بارہا چاہوں مگر ترک تمنا نہ کروں زندگی وقت کے ...

مزید پڑھیے

میں کون ہوں

کس سے پوچھوں کہ جھوٹ سچ کیا ہے تیرگی کیا ہے روشنی کیا ہے کون معیار خیر و شر سمجھائے کون تکذیب جبر و جہل کرے وقت کس سمت ہے رواں پیہم وجہ تخلیق و ارتقا کیا ہے زندگی وہم ہے حقیقت ہے شجر درد سایۂ غم ہے کس سے مفہوم ما و من پوچھوں کون تقدیر حسن و عشق بتائے کس سے پوچھوں صلیب و دار کا ...

مزید پڑھیے

وہ لوگ وقت کو اپنا غلام کرتے ہیں

وہ لوگ وقت کو اپنا غلام کرتے ہیں جو حادثوں کو ادب سے سلام کرتے ہیں تمہارے شہر میں تصویریں بولتی ہوں گی ہمارے گاؤں میں پتھر کلام کرتے ہیں مری سنو تو یہ بوڑھا درخت مت کاٹو سنا ہے اس پہ پرندے قیام کرتے ہیں ہم اپنے فرض سے غافل کبھی نہیں رہتے وفا کی رسم کو دنیا میں عام کرتے ...

مزید پڑھیے

خوشبو ہمارے پیار کی ہر سو بکھر تو جائے

خوشبو ہمارے پیار کی ہر سو بکھر تو جائے بستی سے اختلاف کا طوفاں گزر تو جائے میرا یقین ہے اسے مل جائے گا سکوں طوفان میری کشتی میں دو پل ٹھہر تو جائے تنقید و تبصرہ کوئی کچھ بھی کرے تو کیا میری غزل جناب کے دل میں اتر تو جائے اس سے لپٹ کے روئیں گی ساری اداسیاں شام غم فراق کبھی میرے ...

مزید پڑھیے

وہ لاکھ پوچھے اگر تجھ سے خیریت میری

وہ لاکھ پوچھے اگر تجھ سے خیریت میری نہ کہنا اس سے صبا تو یہ کیفیت میری میں ایک لمحہ ہوں گزرے ہوئے زمانے کا تمہیں خبر ہی نہیں کیا ہے اہمیت میری میں ڈوبا رہتا ہوں فکر سخن کے دریا میں کوئی تو دیکھے ذرا آ کے محویت میری تمہارے پیار نے مشہور کر دیا ورنہ میں اک غریب بھلا کیا ہے حیثیت ...

مزید پڑھیے

جس کو جھوٹوں سے پیار ہوتا ہے

جس کو جھوٹوں سے پیار ہوتا ہے وہ بڑا با وقار ہوتا ہے اس کا جینا بھی ہے کوئی جینا جو بروں میں شمار ہوتا ہے بے ادب ہر جگہ ہے بے عزت با ادب با وقار ہوتا ہے اس سے ہوتی ہے سب کو ہمدردی خود بھی جو غم گسار ہوتا ہے بول کر جھوٹ وہ خدا جانے کس لئے شرمسار ہوتا ہے دوسروں کی جو چغلیاں ...

مزید پڑھیے

کس نام سے پکار رہی ہے صبا اسے

کس نام سے پکار رہی ہے صبا اسے چشم حیا سمجھتی ہے جان حیا اسے پھولوں کے کس قبیلے میں اس کا شمار ہے کیا بات کہہ گئی ہے چمن کی ہوا اسے دیوی وہ شاعری کی مرے من میں بس گئی موضوع شعر بننا کچھ اچھا لگا اسے اپنی قبائے جاں ہے سو وہ تار تار ہے وہ گل نما ہے پیش کروں کیا ردا اسے روشن رہے وہ ...

مزید پڑھیے

حریم جبر میں خاموش بھی رہا نہ گیا

حریم جبر میں خاموش بھی رہا نہ گیا سفیر شب کو نقیب سحر کہا نہ گیا عجیب کیفیت کرب ہے فضاؤں میں گلوں نے بارہا چاہا مگر ہنسا نہ گیا شب ستم کا بیاں جرم ہی سہی کیجے گماں نہ ہو کہ سر بزم کچھ کہا نہ گیا خیال خاطر ساقی کی خیر رندوں میں کہیں بھی تذکرۂ تشنگی سنا نہ گیا دیار عشق ہے گویا ...

مزید پڑھیے

شعلے برس رہے ہیں لب جوئبار سے

شعلے برس رہے ہیں لب جوئبار سے ہے مختلف بہار یہ کتنی بہار سے زنداں کی تیرگی ہو کہ مقتل کی خامشی ہیں مطمئن کسی نہ کسی اعتبار سے کیسے کہیں کہ بارش خوں کی امید تھی سائے تو مختلف نہ تھے ابر بہار سے ان کی جبیں پہ شبنم احساس دلبری تشبیہ دیجئے گہر تابدار سے اس جان شعر و فن سے شمیمؔ آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2478 سے 6203