حبیب جالب
ضمیر وقت کی آواز روح عصر کا کرب سمیٹے دامن دل میں نہ جانے کب سے تھا حصار جبر و ستم میں دکھوں کی بستی میں جلائے شمع قلم ہم کلام شب سے تھا حریف سنت آزر کلیم جادۂ فن صنم کدے میں مخاطب بتوں کے رب سے تھا وہ اپنے عہد کا منصور حرف حق کا نقیب صلیب وقت پہ فائز وہ شخص کب سے تھا وہ لب جو حرف ...