قومی زبان

یہ نفرتوں کا سلگتا الاؤ کیسا ہے

یہ نفرتوں کا سلگتا الاؤ کیسا ہے یہ کاروان سحر کا پڑاؤ کیسا ہے لہولہان ہے پیشانیٔ صبا کیونکر بدن پہ اہل گلستاں کے گھاؤ کیسا ہے محبتوں کی روش میں بپا ہے رقص شرر یہ شہر عشق وفا میں تناؤ کیسا ہے متاع درد کہ ہے اپنا مشترک ورثہ میان ہم نفساں بھید بھاؤ کیسا ہے سمٹ رہے ہیں اجالے افق ...

مزید پڑھیے

زخموں کی فراوانی قاتل کی شکایت بھی

زخموں کی فراوانی قاتل کی شکایت بھی کس درجہ انوکھی ہے یہ رسم محبت بھی اس شہر خموشاں میں کیا ساز غزل چھیڑیں محفوظ یہاں کب ہے احساس کی دولت بھی ساقی کی نگاہوں کے معصوم اشاروں میں جینے کی ہیں تاکیدیں مرنے کی اجازت بھی ہم کفر محبت کے فانوس جلاتے ہیں سر آنکھوں پہ اپنے ہے قاتل کی یہ ...

مزید پڑھیے

نفرت ہے فضا میں تو محبت بھی بہت ہے

نفرت ہے فضا میں تو محبت بھی بہت ہے جینے کے لیے درد کی دولت بھی بہت ہے ہے دست ستم گر کو اگر فرصت آزار دکھیاروں میں دکھ سہنے کی ہمت بھی بہت ہے کچھ شمع کہ ہے حسن جہاں سوز کا جادو پروانوں میں کچھ شوق شہادت بھی بہت ہے مائل بہ کرم بھی ہوا کرتے ہیں وہ اکثر تعزیر پسند اپنی طبیعت بھی بہت ...

مزید پڑھیے

شیشۂ دل شکستہ تر رکھیے

شیشۂ دل شکستہ تر رکھیے اپنے حالات پر نظر رکھیے قتل گل ہو کہ خون باد صبا سارے الزام اپنے سر رکھیے روشنی کا سفر مدام رہے زخم ماتھے پہ تازہ تر رکھیے دست قاتل پہ کیجئے بیعت خون اپنا خود اپنے سر رکھیے دولت اشک لٹ نہ جائے کہیں گھر میں سامان مختصر رکھیے

مزید پڑھیے

افق پر کیسا بادل چھا رہا ہے

افق پر کیسا بادل چھا رہا ہے اندھیرا روشنی کو کھا رہا ہے تلاش سایہ میں پھر آؤ نکلیں تناور پیڑ کاٹا جا رہا ہے یہ موضوع سخن ٹھہرا ہے گویا گھروں کو کون کیونکر ڈھا رہا ہے حدیث موسم گل کیا وہ سمجھیں جنہیں خوں رنگ منظر بھا رہا ہے دل شاعر دل دیوانہ ٹھہرا ہجوم شوق میں گھبرا رہا ہے برس ...

مزید پڑھیے

زیاں ہے جان کا یہ کاروبار مت کرنا

زیاں ہے جان کا یہ کاروبار مت کرنا صبا سے سائے سے خوشبو سے پیار مت کرنا ہمیں وہاں کے بگولے بنے جو کہتے تھے طواف کوچۂ شہر نگار مت کرنا میں ڈھلتی دھوپ کی لو ہوں مرا بھروسہ کیا نگاہ شام مرا انتظار مت کرنا نہ خود تمہیں پہ کچھ الزام وقت آ جائے ہمارا شکوۂ‌ صبر و قرار مت کرنا یہ سچ ہے ...

مزید پڑھیے

جو خس بدن تھا جلا بہت کئی نکہتوں کی تلاش میں

جو خس بدن تھا جلا بہت کئی نکہتوں کی تلاش میں میں تمام لوگوں سے مل چکا تری قربتوں کی تلاش میں تری آنکھ سے مری آنکھ تک فقط ایک منظر خاک ہے وہی شام تیرہ سرشت سی ملی مدتوں کی تلاش میں کوئی خواب سر سے پرے رہا یہ سفر سراب سفر رہا میں شناخت اپنی گنوا چکا گئی صورتوں کی تلاش میں یہ جو ...

مزید پڑھیے

نفس نفس ہے بھنور چڑھتی شب کا منظر ہے

نفس نفس ہے بھنور چڑھتی شب کا منظر ہے حصار جسم میں اک چیختا سمندر ہے ہوائے تازہ کے مانند مت لپٹ مجھ سے گئی رتوں کا بہت زہر میرے اندر ہے نکل کے جاؤں گنہ گار تیرگی سے کدھر ہر ایک ہاتھ میں اب روشنی کا پتھر ہے اک آگ اڑتی ہوئی سی وہی تعاقب میں بدن کی راکھ ابھی شاید بدن کے اندر ہے تو ...

مزید پڑھیے

جو گیا یہاں سے اسی مکان میں آئے گا

جو گیا یہاں سے اسی مکان میں آئے گا تھا ستارہ ٹوٹ کے آسمان میں آئے گا کبھی خواب سا کبھی خوشبوؤں کا حجاب سا بڑی مشکلوں سے وہ میرے دھیان میں آئے گا اسے سوچنا نہ سمندروں کے دماغ سے وہ گہر صدف کے فقط گمان میں آئے گا نہیں آ سکا جو میں گل زمینوں کے جشن تک تو غبار سا کسی سبز لان میں آئے ...

مزید پڑھیے

مجھے بھی اپنا شریک سفر شمار کرو

مجھے بھی اپنا شریک سفر شمار کرو سحر کے بجھتے دیو میرا انتظار کرو ہمارا ذوق نمو کیا شکستہ شیشے ہیں ہم آئنوں کو عطا پردۂ غبار کرو ہمارے اشکوں کی معراج اپنے دامن تک تم اپنی پاکیٔ داماں کا اعتبار کرو چھپائے جاؤ یوں ہی داغ داغ سینوں کو خیال بیکسیٔ عصمت بہار کرو نہ دو دعائے خرد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2480 سے 6203