قومی زبان

اگر نہ زہرہ جبینوں کو بے وفا کہئے

اگر نہ زہرہ جبینوں کو بے وفا کہئے تو پھر تغافل پیہم پہ ان کو کیا کہئے حضور کیوں مری ہر بات ناروا کہیے برا ہوں میں تو یقیناً مجھے برا کہئے حسین یوں تو زمانے میں کج ادا ہیں سبھی مگر سوال یہ ہے کس کو کج ادا کہیے خموشیوں پہ جفاؤں کا جب یہ عالم ہے تو پھر حسینوں سے کس طرح مدعا کہئے جو ...

مزید پڑھیے

آج بزم ناز میں وہ انتشار نغمہ ہے

آج بزم ناز میں وہ انتشار نغمہ ہے ساز دل کی ہر صدا ناساز گار‌ نغمہ ہے میرے ساز غم سے دنیا ہی نہیں ہے مضطرب وسعت کون و مکاں بھی سوگوار نغمہ ہے دست رنگیں میں کسی کے آ گیا پھر ساز دل میرا ہر تار نفس پھر بیقرار نغمہ ہے اس کو آئے گی نظر کیا خاک تصویر الم جس کے دل کا آئنہ پر از غبار نغمہ ...

مزید پڑھیے

دل تھا مانوس سرد آہوں سے

دل تھا مانوس سرد آہوں سے بڑھ گیا ربط کج کلاہوں سے ہم نے بخشا تمہیں فروغ نظر اور ہمیں گر گئے نگاہوں سے مے کدہ کا تو نام ہے بدنام فتنے اٹھتے ہیں خانقاہوں سے جو فسانہ زباں تک آ نہ سکا آج ہم کہہ گئے نگاہوں سے بے سہاروں کا کچھ شمار بھی ہے کون پوچھے جہاں پناہوں سے آج کہنا ہی پڑ گیا ...

مزید پڑھیے

نمود صبح کی پہلی کرن کچھ اور کہتی ہے

نمود صبح کی پہلی کرن کچھ اور کہتی ہے مگر تاریکیٔ خاک وطن کچھ اور کہتی ہے پیام موسم گل باغباں میرے سر آنکھوں پر مگر ویرانیٔ صحن چمن کچھ اور کہتی ہے وہاں ہے ناز اہل جاہ کو قومی ترقی پر یہاں بیکاریٔ ارباب فن کچھ اور کہتی ہے نہ ہو مایوس تم حالات سے دیر و حرم والو کہ اب تنظیم شیخ و ...

مزید پڑھیے

عمر پا کر بھی نہ بدلی رسم مے خانہ ابھی

عمر پا کر بھی نہ بدلی رسم مے خانہ ابھی اپنوں ہی اپنوں میں ہے تقسیم مے خانہ ابھی دیکھ لے دنیا بھی کیا ہوتا ہے انجام وفا بزم میں رہنے دو یوں ہی خاک پروانہ ابھی کیا تماشا ہے کہ بن بیٹھے ہیں وہ پیر مغاں جو نہیں ہیں واقف آداب مے خانہ ابھی ایک دن کھل کر رہے گا تیری الفت کا بھرم غیر تک ...

مزید پڑھیے

مٹا کر آج مجھ کو ان کے ارمانوں کی بن آئی

مٹا کر آج مجھ کو ان کے ارمانوں کی بن آئی ملی سرخی مرے خوں کی تو افسانوں کی بن آئی ہماری سادہ لوحی نے ہمیں برباد کر ڈالا دلا کر خوف رہزن کا نگہبانوں کی بن آئی جدھر دیکھو ادھر ہیں چاک دامانی کے نظارے گلستاں میں بہار آتے ہی دیوانوں کی بن آئی محبت کی قسم ایک ایک ذرہ آج دشمن ہے نظر ...

مزید پڑھیے

گلشن میں پھول کھلتے ہی صد چاک ہو گئے

گلشن میں پھول کھلتے ہی صد چاک ہو گئے رنگین حادثے تھے المناک ہو گئے دور سبو و جام چلا میکدے میں جب ہم بے نیاز گردش افلاک ہو گئے دیکھا جو میرا حال زبوں شام انتظار اپنے تو اپنے غیر بھی نمناک ہو گئے ساقی یہ تیرا فیض کرم ہے کہ میگسار بے باک تھے ہی اور بھی بے باک ہو گئے باد صبا کو ضد ...

مزید پڑھیے

کہکشاں زیر گام کر لوں کیا

کہکشاں زیر گام کر لوں کیا اتنا اونچا مقام کر لوں کیا راس آیا نہ احترام صنم اپنا خود احترام کر لوں کیا مہ و خورشید کی طرح میں بھی سفر نا تمام کر لوں کیا خدمت خواہشات کی خاطر ہر نفس کو غلام کر لوں کیا یاس و حرماں کی ضرب سے ڈر کر اپنا جینا حرام کر لوں کیا شکر بھولوں شکایتیں ...

مزید پڑھیے

آیا آیا وہ دل ربا آیا

آیا آیا وہ دل ربا آیا درد دل لے کے مدعا آیا حسن میرا خدا نہیں لیکن بندگی میں بڑا مزا آیا آنے دو جوش میں تلاطم کو اپنی کشتی میں اب خدا آیا کیا لگائی ہے آگ دنیا کو کس قدر دور سر پھرا آیا حسن کامل تری حضوری میں جو بھی آیا وہ پارسا آیا تم بھی خوش ہو مری تباہی سے یہ بتاؤ کہ ہاتھ کیا ...

مزید پڑھیے

میری قسمت کے ستارے میں سیاہی کچھ نہیں

میری قسمت کے ستارے میں سیاہی کچھ نہیں پھر بھی انوار تجلی یا الٰہی کچھ نہیں اب غم امروز کیا اندیشۂ فردا کہاں اس گدائی کے مقابل بادشاہی کچھ نہیں ایک مدت سے چمن میں بے نشیمن ہوں مگر باغباں سے شکوہ ہائے کم نگاہی کچھ نہیں کر دیا ظاہر مصورؔ نے ہر ایک تصویر کو حسن کے جلوے بجز شان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2461 سے 6203