آتی نہیں ہے منزل دار و رسن ابھی
آتی نہیں ہے منزل دار و رسن ابھی پھر بھی چلا ہوں باندھ کے سر سے کفن ابھی صحرا نوردیاں ہیں نہ سیر چمن ابھی شاید جنوں سے دور ہے ذوق وطن ابھی سائے میں ہوں میں کیا شجر سایہ دار کے ہر قصر میرے حال پہ ہے خندہ زن ابھی یہ بات کیا کہ عقدۂ مشکل نہ کھل سکے پہنچا نہیں عروج پہ دیوانہ پن ...