قومی زبان

آتی نہیں ہے منزل دار و رسن ابھی

آتی نہیں ہے منزل دار و رسن ابھی پھر بھی چلا ہوں باندھ کے سر سے کفن ابھی صحرا نوردیاں ہیں نہ سیر چمن ابھی شاید جنوں سے دور ہے ذوق وطن ابھی سائے میں ہوں میں کیا شجر سایہ دار کے ہر قصر میرے حال پہ ہے خندہ زن ابھی یہ بات کیا کہ عقدۂ مشکل نہ کھل سکے پہنچا نہیں عروج پہ دیوانہ پن ...

مزید پڑھیے

سب اٹھ جائیں گے پردے درمیاں سے

سب اٹھ جائیں گے پردے درمیاں سے اشارہ تو کریں وہ لا مکاں سے چنے تا عمر کانٹے گلستاں سے کبھی اجرت نہ مانگی باغباں سے بہت اونچا سہی وہ عرش لیکن بہت نیچا ہے تیرے آستاں سے مرے حسن تخیل کے کرشمے ترے جلوے نکلتے ہیں یہاں سے اڑا دو گرد میخانے کی رندو لڑا دو آسماں کو آسماں سے سراپا گوش ...

مزید پڑھیے

کانٹوں نے تھام تھام کے داماں کبھی کبھی

کانٹوں نے تھام تھام کے داماں کبھی کبھی پوچھی ہے وجہ حال پریشاں کبھی کبھی مشکل ہوئی ہے زیست میں آساں کبھی کبھی ساحل کا لطف دے گیا طوفاں کبھی کبھی کتنی لطیف و شبنمی ہوتی ہے زندگی رو کر تو دیکھ اے گل خنداں کبھی کبھی ماحول اے اسیر قفس خو بدل نہ دے پھرتا رہے نظر میں گلستاں کبھی ...

مزید پڑھیے

جفائے چرخ کہ جور بتاں نہیں ہوتا

جفائے چرخ کہ جور بتاں نہیں ہوتا وفا کے نام پہ کیا کیا یہاں نہیں ہوتا وہ اپنی خوئے جفا تو نہیں بھلا بیٹھے ہے بات کیا جو مرا امتحاں نہیں ہوتا جو بے نیاز تقاضائے آستاں کر دے وہ سجدہ دوش جبیں پر گراں نہیں ہوتا خلوص جذبۂ تعمیر بھی ہے شرط اے دوست کہ چار تنکوں کا نام آشیاں نہیں ...

مزید پڑھیے

چھپا کر میری نظروں سے جمال روئے تاباں کو

چھپا کر میری نظروں سے جمال روئے تاباں کو سہارا دے رہا ہے کوئی میرے ذوق عرفاں کو نہیں جن کو میسر مسکرانا فصل گل میں بھی وہی غنچے بدل دیتے ہیں تقدیر گلستاں کو ہمیں ہر دور میں ہوتے ہیں معمار گلستاں بھی ہمیں دیتے ہیں زینت بھی در و دیوار زنداں کو جدھر دیکھو ادھر ویرانیاں ہیں صحن ...

مزید پڑھیے

چلی ہے آج فلک پر مری فغاں کی بات

چلی ہے آج فلک پر مری فغاں کی بات گئی کہاں سے کہاں تک غم نہاں کی بات کلی کلی میں نہ پڑ جائے جان تو کہنا چمن میں چھیڑ کے دیکھو مری زباں کی بات وہی قفس کی زباں بندیاں یہاں بھی ہیں ہم آشیاں میں کریں کیسے آشیاں کی بات مری جبیں کے فسانے کو بھولنے والے جو میں بھی بھول گیا تیرے آستاں کی ...

مزید پڑھیے

کبھی انجانے میں جب بھی کسی کا دل دکھاتا ہوں

کبھی انجانے میں جب بھی کسی کا دل دکھاتا ہوں تو پھر تنہائیوں میں بیٹھ کر آنسو بہاتا ہوں مجھے معلوم ہے منظر حسیں وہ ہو چکے دھندلے مگر کیوں روز آنکھوں میں وہی منظر بلاتا ہوں مری اس بات سے ناراض ہیں کچھ بستیوں والے خوشی گھر گھر لٹاتا ہوں مگر غم کیوں چھپاتا ہوں مری سانسوں کی قوت کا ...

مزید پڑھیے

ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے

ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے کرتے ہیں اگر کچھ تو دکھاوا نہیں کرتے یہ سچ ہے کہ دنیا کی روش ٹھیک نہیں ہے کچھ ہم بھی تو دنیا کو گوارا نہیں کرتے اک بار تو مہمان بنیں گھر پہ ہمارے یہ ان سے گزارش ہے تقاضا نہیں کرتے دنیا کے جھمیلے ہی کچھ ایسے ہیں کہ ان کو ہم بھول تو جاتے ہیں بھلایا ...

مزید پڑھیے

درد کو درد کہو درد کے قابل ہو جاؤ

درد کو درد کہو درد کے قابل ہو جاؤ ایسا بھی کیا ہے کہ خود دل ہی سے غافل ہو جاؤ تم کو طوفان سے لڑنا جو نہیں ہے منظور پھر تو بہتر ہے کہ کشتی نہیں ساحل ہو جاؤ امتحاں عشق میں ہونا ہے تو ہوگا وہ ضرور آگ کے کھیل میں پہلے ہی سے شامل ہو جاؤ اس سے پہلے کہ کسی اور کا میں ہو جاؤں میں تمہیں زہر ...

مزید پڑھیے

جب اچھے تھے دن رات کم یاد آئے

جب اچھے تھے دن رات کم یاد آئے برا وقت آیا تو ہم یاد آئے جو سمجھو محبت کی توہین ہے یہ ستم گر سے پہلے ستم یاد آئے زمانہ سے جب پڑ گیا واسطہ تو تری زلف کے پیچ و خم یاد آئے ملی جو محبت کے بدلے میں نفرت ہمیں اہل دنیا کے غم یاد آئے ہنسی آ گئی ان کی باتوں پہ یوں ہی وہ سمجھے کہ ان کے کرم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2462 سے 6203