قومی زبان

مٹے گا کب تری زلفوں کا خم خدا جانے

مٹے گا کب تری زلفوں کا خم خدا جانے کھلے گا کب ترا ظالم بھرم خدا جانے یہاں تو پاتا ہوں ہر اک کو تشنہ لب ساقی کدھر بڑھا ترا دست کرم خدا جانے وہی تشدد گلچیں وہی غم صیاد قفس میں ہیں کہ نشیمن میں ہم خدا جانے وہ راز غم جسے دل میں چھپا کے رکھا تھا کہاں سے پا گئی یہ چشم نم خدا جانے ضرور ...

مزید پڑھیے

کسے بتائیں محبت میں کیا کیا میں نے

کسے بتائیں محبت میں کیا کیا میں نے بنا کے اپنا نشیمن جلا دیا میں نے غرور عشق خودی اور آبروئے وفا انہیں گنوا کے بہت کچھ بچا لیا میں نے زمانہ اس کو کہے مے کشی کہ مے خواری تمام عمر خود اپنا لہو پیا میں نے بجھا گئی تھی کبھی جس کو بے رخی تیری اسی چراغ کو پھر سے جلا لیا نے کل اس کو ...

مزید پڑھیے

زندگی کا نشان ہیں ہم لوگ

زندگی کا نشان ہیں ہم لوگ اے زمین آسمان ہیں ہم لوگ روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں کس قدر سخت جان ہیں ہم لوگ زندگی مسکرا تو دے اک بار ایک شب میہمان ہیں ہم لوگ صورتیں دھول ہو چکی ہیں مگر حسن کے پاسبان ہیں ہم لوگ خود سے ملتے ہیں دشمنوں کی طرح غیر پر مہربان ہیں ہم لوگ اک یہی درد تو ملا ...

مزید پڑھیے

یہ اجالا ہر اک شے کو چمکا گیا

یہ اجالا ہر اک شے کو چمکا گیا آئنہ دل کا کچھ اور دھندلا گیا آج مغموم ہے وہ سر آئینہ زلف الجھی تو میرا خیال آ گیا اپنی بربادیوں کا مجھے غم نہیں غم یہ ہے کس طرح تجھ سے دیکھا گیا اتنی فرصت کہاں تھی کہ ہم سوچتے عشق میں کیا ہوا، کیا ملا، کیا گیا لٹ گیا جہد ہستی میں احساس بھی زندگی کے ...

مزید پڑھیے

مدتوں یہ سوچ کر تنہائی میں تڑپا کئے

مدتوں یہ سوچ کر تنہائی میں تڑپا کئے ہو گئے ہم سے جدا وہ اور ہم دیکھا کئے ایک لمحہ میں جو کر بیٹھے ہیں دیوانے ترے لوگ صدیوں اس کی لا محدودیت سمجھا کئے کامیابی اپنے حصے میں کبھی تھی ہی نہیں ہم نے ناکامی سے اپنے راستے پیدا کئے بے وفائی اس کی میرے ساتھ مت شامل کرو جرم ہم نے عشق میں ...

مزید پڑھیے

دل سی ویرانی میں سایہ کوئی مہمان تو ہے

دل سی ویرانی میں سایہ کوئی مہمان تو ہے اپنے خوابوں سے ملاقات کا امکان تو ہے کچھ نہ کچھ نذر تو کرنا ہے ترے جلوے کو اور دولت نہ سہی کوئی دل و جان تو ہے کیا ملے گا ہمیں اب اس کی پشیمانی سے بے وفائی پہ کوئی اپنی پشیمان تو ہے یوں نہ ہو خود سے نبھانا تمہیں مشکل ہو جائے ہم کو نظروں سے ...

مزید پڑھیے

ساز بنے ان اشکوں سے جو بہتے ہیں تنہائی میں

ساز بنے ان اشکوں سے جو بہتے ہیں تنہائی میں صدیوں کی محرومی رو رو گاتی ہے شہنائی میں جتنے ہلکے لوگ تھے وہ سب تیر گئے اس پار ہوئے ایک ہمیں تھے ڈوب گئے جو اپنی ہی گہرائی میں اپنا بدن سوتا رہتا ہے بستر پر لیکن اکثر رات گئے ٹہلا کرتا ہے کون مری انگنائی میں دل ہے کس کا جاں ہے کسی کی ...

مزید پڑھیے

دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے

دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے جسے نہ پیار ملا ہو وہ پیار کیا جانے ادا سے آئی چمن میں ادا سے لوٹ گئی گلوں پہ بیت گئی کیا بہار کیا جانے نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اور نہ بے خوابی کہاں رکی ہے شب انتظار کیا جانے اسے بھلائے ہوئے مدتیں ہوئیں لیکن یہ کون چھوتا ہے دل بار بار کیا ...

مزید پڑھیے

جنون شوق میں ایسا بھی وقت آتا ہے انساں پر

جنون شوق میں ایسا بھی وقت آتا ہے انساں پر کہ آتی ہے ہنسی خود اپنے ہی جیب و گریباں پر کلی خاموش پھول افسردہ شبنم ہر نفس گریاں میں حیراں ہوں کہ روؤں یا ہنسوں فصل بہاراں پر بہار سنبل و ریحاں سے تنہا کھیلے والے بڑے احسان ہیں میرے بھی اس صحن گلستاں پر بجھے دل کا فسانہ چھیڑنے والو ...

مزید پڑھیے

مشتاق تھے جس کے جلوؤں کے آنکھوں کا چھلکتا جام لئے

مشتاق تھے جس کے جلوؤں کے آنکھوں کا چھلکتا جام لئے وہ صبح طرب آئی تو مگر دامن میں ہزاروں شام لئے اس دور طرب میں اے ہمدم مت پوچھ مسرت کا عالم بھولے سے ہنسی آئی تو مگر تلخیٔ غم ایام لئے ایسا نہ ہو اک دن گھبرا کر میں ترک محبت کر بیٹھوں دیکھو گے مری جانب کب تک تم سلسلۂ اوہام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2460 سے 6203