قومی زبان

ریا کاری کے دھندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل

ریا کاری کے دھندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل خدا کے نیک بندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل وفا کی سوکھتی جھیلوں سے لاکھوں کوچ کرتے ہیں مگر اڑتے پرندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل تماشا دیکھتے ہیں آپ اپنا اور ہنستے ہیں ہمارے درد مندوں میں نہ تم شامل نہ میں شامل ابھی تو بھیگتے ...

مزید پڑھیے

غروب مہر جہاں تاب ہونے والا ہے

غروب مہر جہاں تاب ہونے والا ہے یہ سب فریب نظر خواب ہونے والا ہے جو تھا وہ نادر و نایاب ہو گیا اور اب جو ہے وہ نادر و نایاب ہونے والا ہے یہ گرم جوش ہواؤں کا آخری نوحہ ہمارے سوگ میں برفاب ہونے والا ہے ہم ایسے گام پہ دریائے خوف میں ہیں کہ اب شعور لقمۂ گرداب ہونے والا ہے یہ پشتہ ...

مزید پڑھیے

ہے بال و پر میں وحشت سی بے سمت اڑانیں بھرتی ہوں

ہے بال و پر میں وحشت سی بے سمت اڑانیں بھرتی ہوں اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانے سے ڈرتی ہوں پھر آس کا دریا بہتا ہے پھر سبزہ اگ اگ آتا ہے پھر دھوپ کنارے بیٹھی میں اک خواب کی چھاگل بھرتی ہوں کیوں آگ دہکتی ہے مجھ میں کیوں بارش ہوتی ہے مجھ میں جب دھیان سے ملتی ہوں تیرے جب تیرے من میں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک حرف ہو امکان تیرے جیسا ہو

ہر ایک حرف ہو امکان تیرے جیسا ہو مری کتاب کا عنوان تیرے جیسا ہو ہزار بار گوارا ہے پارسائی کو جو میری ذات پہ بہتان تیرے جیسا ہو کوئی سوال جو مشکل نہ ہو ترے جیسا کوئی جواب جو آسان تیرے جیسا ہو میں عمر قید بصد ناز کاٹ سکتی ہوں اگر نصیب میں زندان تیرے جیسا ہو محبتوں کا صلہ ہو تو ہو ...

مزید پڑھیے

''کھیل جاری رہے''

بے جھجک، بے خطر بے دھڑک وار کر میری گردن اڑا اور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھر چھین لے حسن و خوبی، انا، دل کشی میرے لفظوں میں لپٹا ہوا مال و زر میری پوروں سے بہتی ہوئی روشنی میرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنر تجھ سے شکوہ نہیں اے عدو میرے میں تیری ہمدرد ہوں تیری بے چہرگی مجھ کو ...

مزید پڑھیے

بہلاوا

ہو سکتا ہے اس منظر سے دھوپ نکل کر چھاؤں پر قابض ہو جائے سورج کی ست رنگی کرنیں دھبوں میں بٹ جائیں وقت کا گرگٹ رنگ بدل لے ساری بستی اپنی آنکھیں دیوتاؤں کو دان میں دے کر سو جائیں لیکن بہلاوے کی پہلی بارش پڑنے دو ہو سکتا ہے پتھر سے خوشبو پھوٹے اور خوشبو سے انگارے ہو سکتا ہے انگاروں ...

مزید پڑھیے

تکمیل

''تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تم ہو''! اس نے مجھے جھنجوڑا ''مگر میں یہ ثابت نہیں کر سکتی'' میں نے احتجاج کیا اس نے مجھے مٹھی میں بھر کر زمیں پر بکھیر دیا اور خوشی سے چلایا! تم'' سبزہ ہی سبزہ ہو، رنگ ہی رنگ ہو'' ''ٹھہرو! ذرا سوچو! مجھے جلد خزاں کے نادیدہ ہاتھ معدوم کر دیں گے...... تم یہ ثابت نہیں ...

مزید پڑھیے

دشت کو برگ و بار کون کرے

دشت کو برگ و بار کون کرے سینے کو لالہ زار کون کرے ہم وفاؤں پہ مٹ تو جائیں گے بے وفاؤں سے پیار کون کرے اس کی رحمت پہ تو بھروسہ ہے آپ کا اعتبار کون کرے موت برحق ہے آ ہی جائے گی موت کا انتظار کون کرے سچ کی ہمت نہ تھی تو چپ ہی رہے جھوٹ کا کاروبار کون کرے پاؤں کے آبلے تو بہہ ...

مزید پڑھیے

یہ جہان رنگ و بو تیری دل لگی بھی ہے

یہ جہان رنگ و بو تیری دل لگی بھی ہے پوچھ اپنے بندوں سے جن کی بے بسی بھی ہے کیسی سخت مشکل ہے کیسا امتحاں ہے یہ جال میں پھنسے بھی ہیں جال زندگی بھی ہے عشق دو جہاں بھی ہے عشق لا مکاں بھی ہے عشق ذات ہے میری عشق آگہی بھی ہے ان کی راہ تک لینا ان کو یاد کر لینا یہ ہی دل کی بیتابی یہ ہی بے ...

مزید پڑھیے

ترے عکس سے مری ذات میں ہے لطیف ہجر و وصال سا

ترے عکس سے مری ذات میں ہے لطیف ہجر و وصال سا دم صبح کوئی امنگ سی سر شام کوئی ملال سا تری بوئے خوش کے سرور سے تری روشنی کے وفور سے مرے نین گہرے سیاہ سے مرا رنگ سرخ گلال سا مگر آگہی کی طلب سے ہے ہمہ وقت نوک زبان پر کوئی لفظ لفظ گمان سا کوئی حرف حرف سوال سا جسے زندگی کے رفو لباس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2379 سے 6203