قومی زبان

بارش خوشبو رنگ ہوا ہیں میں اور تو

بارش خوشبو رنگ ہوا ہیں میں اور تو خوابوں کا بے نام سرا ہیں میں اور تو اپنا گھر ہے سات سروں کے آنگن میں گیتوں کی آزاد فضا ہیں میں اور تو منت کی اک ڈوری ہیں پیپل سے بندھی جل میں بہتا ایک دیا ہیں میں اور تو جس نے جنم دیا ہے ہر افسانے کو بھولی بسری کوئی کتھا ہیں میں اور تو ایک نویلا ...

مزید پڑھیے

خوشبو سے تیری ہاتھ ملانے کا شوق ہے

خوشبو سے تیری ہاتھ ملانے کا شوق ہے پھر اس کو دو جہاں سے چھپانے کا شوق ہے آنکھیں ہوں خواب ہوں کہ شکستہ عمارتیں ہر اک کھنڈر میں دیپ جلانے کا شوق ہے کچھ دیر اپنے ساتھ بھی رہنے دو اب ہمیں اس روشنی کو آئینہ خانے کا شوق ہے اظہار آس شوق تماشا فسردگی کیوں دل کو اتنا بار اٹھانے کا شوق ...

مزید پڑھیے

دے کر فریب پیاس کی آزردگی کو ہم

دے کر فریب پیاس کی آزردگی کو ہم آؤ نا گھونٹ بھر کے پئیں زندگی کو ہم کھلنے لگی ہے نیند کی بھیدوں بھری کتھا چھونے لگے ہیں خواب کی دل بستگی کو ہم صحرا قبول کرتا ہے بارش کا عندیہ مٹی میں گوندھ لیتے ہیں جب تشنگی کو ہم رکھ کر ہزار آئینے اس رخ کے روبرو دھوکہ دیا کریں گے تری سادگی کو ...

مزید پڑھیے

حیرت سرائے حرف میں آؤ تو بات ہے

حیرت سرائے حرف میں آؤ تو بات ہے اور واپسی کی راہ نہ پاؤ تو بات ہے خوشبو کے بھید کھلتے نہیں چار روز میں پھولوں کے ساتھ عمر بتاؤ تو بات ہے ایسے کھلو کھلے ہے غزل جیسے میرؔ کی آ کر بھی یعنی ہاتھ نہ آؤ تو بات ہے لے کر تمہارے گیت جو اترے دلوں کے پار کاغذ پہ ایسی ناؤ بناؤ تو بات ہے کیا ...

مزید پڑھیے

مری خوشبو مرے اسرار تجھ میں

مری خوشبو مرے اسرار تجھ میں میں شامل ہوں جمال یار تجھ میں مسیحائی کو جس کی عشق آیا کوئی ایسا پڑا بیمار تجھ میں غبار ذات بیٹھے گا کوئی دم گری ہے آخری دیوار تجھ میں فسون شب بھی ہے قربان جس پر سخن ایسا ہوا بیدار تجھ میں ہوائے تند ہے جلتے دیے ہیں ازل سے برسر پیکار تجھ میں تجھے ہے ...

مزید پڑھیے

سرحد

کیا خوب ہو گر اس دنیا سے سرحد کا نام ختم ہو جائے سارے دیس۔۔۔۔ سب کے دیس ہوں روح کو جسم اور جسم کو روح سے ملنے کے لئے کسی ویزے کی ضرورت نہ ہو جو چاہے، جب چاہے، جہاں چاہے جس سے ملے۔۔۔۔ جو چاہے، جب چاہے، جہاں چاہے چلا جائے۔۔۔۔ کوئی پابندی نہ ہو۔۔۔۔ کاغذ پہ لگائی ہوئی لکیروں سے دنیا کے ...

مزید پڑھیے

کئی سال بعد

ملے ہم جو اب کے کئی سال بعد تمہیں بھی ملامت مجھے بھی ملال تمہارے بھی چہرے کے پھیکے تھے رنگ میرا چہرہ جیسے بھٹکتا ملنگ کئی راز چپ کی صداؤں میں تھے ہماری سلگتی وفاؤں میں تھے عجب وقت و منظر عجب ماہ و سال نہ کوئی جواب اور نہ کوئی سوال بڑی کوششیں کی کہ اک ہو سکیں ذرا کھل کے ہنس لیں ذرا ...

مزید پڑھیے

تجھے تحریر کیا

ایک اک حرف سجا کر تجھے تحریر کیا خون کی ندیاں بہا کر تجھے تحریر کیا درد میں عمر بتا کر تجھے تحریر کیا اب تو کہتا ہے مرا کوئی بھی کردار نہیں میرا کیا ہے، میں انہی راستوں میں رہتا ہوں مجھ کو یہ حکم ہے جا، جا کے پتھروں کو تراش میں ازل سے اسی اک کام میں لایا گیا ہوں میں کبھی پیر، پیمبر، ...

مزید پڑھیے

محبت

تجھ کو گر میری ضرورت ہے تو پھر جان حیات اپنے فرسودہ محبت کے خیالات بدل ہجر و غم رنج و الم وصل و فراق اس کٹھن وقت میں بے جا سی شکایات نہ کر دیکھ وہ سب بھی تو میں دیکھ کہ پہنچا ہوں یہاں جس کو تو دیکھ لے اک بار تو تیری آنکھیں عمر بھر سکتے کے عالم سے نہ نکل پائیں دیکھ میں اس عجب مقام ...

مزید پڑھیے

جس کی طلب میں عمر کا سودا نہیں ہوا

جس کی طلب میں عمر کا سودا نہیں ہوا اس خواب کا سراب بھی اپنا نہیں ہوا اپنی صلیب سر پہ لیے چل رہے ہیں لوگ شہر سزا میں کوئی کسی کا نہیں ہوا کہنے کو جی سنبھل تو گیا ہے مگر کہیں اک درد ہے کہ جس کا مداوا نہیں ہوا اس نے مرے بغیر گزاری ہے زندگی اس آگہی کا زہر گوارا نہیں ہوا اب بھی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2380 سے 6203