قومی زبان

جوالا مکھی

ناگہاں آتشیں لو بھڑکنے لگی سبز پتوں تلے تلملاتی، غضب ناک اور... مشتعل آگ یک لخت بیتاب ہو کر اٹھی آن کی آن میں بیل بوٹے، شجر... پھول، پتے، ثمر.... راکھ کا ڈھیر ہونے لگے اس طرح سرخ شعلے نگلنے لگے گھونسلے (گھونسلوں میں پڑے گوشت کے لوتھڑے) بس دھواں رہ گیا دور تک راہ میں اور بدلتا گیا ایک ...

مزید پڑھیے

مال روڈ سے گزرتے ہوئے اک نظم

اس رستے پر دو جسموں کا اک سایہ تھا! اور دو روحوں کا اک مسلک! گونج رہا تھا اس رستے پر حرف کا پہلا سناٹا دھڑکن کی تسبیح مسلسل اسم انوکھے پڑھتی تھی رسوائی کی شوخ ہوائیں بے باکی سے رقصاں تھیں اس رستے پر گہرے بادل دھوپ کرن سے لڑتے تھے خواب کے پنچھی انجانی سمتوں میں اڑانیں بھرتے ...

مزید پڑھیے

اے مرے شبد

اے مرے شبد، مرے بھید، مہا دھن میرے رات میں خوشبو تری! نیند میں بوسہ تیرا... ٹھنڈ میں آگ تری تاپوں، کھلوں جی اٹھوں! اپنے آنسو ترے ہاتھوں کے کٹورے میں رکھوں دیر تک تجھ سے لپٹ کر یونہی روتی جاؤں اے مرے شبد! ترے معنی کی ست رنگ گرہ کبھی سلجھاؤں کبھی انگلی میں الجھا بیٹھوں گم رہوں تجھ میں ...

مزید پڑھیے

قبر

شہزادہ لپٹتا ہے مجھ سے اور دور کہیں چڑیا کو سانپ نگلتا ہے سانسوں میں گھلتی ہیں سانسیں اور! زہر اترتا جاتا ہے لمحات کے نیلے قطروں میں کانوں میں مرے رس گھولتا ہے شبدوں کا ملن! اور من بھیتر اک چیخ سنائی دیتی ہے جلتی پوروں میں کانپتی ہے بے مایہ لمس کی خاموشی اس کے ہاتھوں سے لکھتی ہوں ...

مزید پڑھیے

پناہ

گزشتہ بارشوں کی بے چراغ راتوں میں جب کہانیاں بنتے ہوئے میری آنکھ لگ جاتی تو کتوں اور بھیڑیوں کا بھونکتا غراتا غول میرے خوابوں پر ٹوٹ پڑتا میری کار کے گرد اور میرے مکان کے چار سو اپنے اپنے بانٹے ہوئے علاقوں سے نکل کر مجھ پر حملہ کرنے کی خاطر ازلی دشمنوں کا ٹولا ایک ہو کر میری بو ...

مزید پڑھیے

اپریل بہار کا استقبال کرتا ہے

فروغ شادابئ چمن کی مہکتی مٹی سے پھوٹ نکلا ہے نرم سبزہ حریص تخلیق نم زمیں نے گلوں سے دامن اداس بیلوں کے بھر دیے ہیں عجیب رت ہے! کہ بوڑھی شاخوں میں سانس لیتا ہے سبز جوبن خیالوں، خوابوں کی رہ گزر پر چٹک رہی ہیں ہزار کلیاں نگاہ دل کے گزیدہ گوشے رہین نکہت فضا کی پوروں میں جاگ اٹھی ہے ...

مزید پڑھیے

فسون خواب

برنگ کیف و سرشاری حدیث دل کہو ہم دم! ہمہ تن گوش ہے ساعت شراب شب اترتی ہے بہت آہستہ آہستہ سفال خواب میں مدھم تمہیں اس پل اجازت ہے کہو! یوں خلوت جاں میں بلوریں چوڑیاں چھن چھن چھنکتی شور کرتی ہیں مرا دل ڈول جاتا ہے وفور حسن میں لپٹی تمہاری عنبریں زلفیں... دھڑکنا بھول جاتا ہے کہو! کاجل ...

مزید پڑھیے

شب آخر

کوئی دستک مسلسل ہے کہیں ہے مستقل آہٹ ہوا کا شور ہے شاید کبھی محسوس ہوتا ہے سنہرے خشک پتوں میں سے گزرا سانپ کا جوڑا پرندہ کوئی سہما ہے فضا میں سرسراہٹ ہے مرے اندر بھٹکتی ہے کوئی آواز یا شاید بلاتیں ہیں مجھے اس دم بچھڑنے والوں کی یادیں وہ جن پر زندگی اک خوف کی صورت مسلط ہے کبھی کے ...

مزید پڑھیے

خوابوں کا کوئی سرا نہیں ہے

خوابوں کا کوئی سرا نہیں ہے ہے بھی تو مجھے پتا نہیں ہے تا دور غبار اڑ رہا ہے ہونے کو تو کچھ ہوا نہیں ہے پھر رات کی سرزمیں ہے میں ہوں اور ہاتھ میں پھر دیا نہیں ہے پھر رات کی سرزمیں ہے میں ہوں اور ہاتھ میں پھر دیا نہیں ہے اک خواب کی لو ہے چشم تر میں تصویر میں کچھ نیا نہیں ہے بیدار ...

مزید پڑھیے

بوجھ اپنا سہارتے ہیں ہم

بوجھ اپنا سہارتے ہیں ہم کون سا تیر مارتے ہیں ہم آنکھ کے پار کس خموشی سے ایک دریا اتارتے ہیں ہم اور ہنستا ہے آئینہ ہم پر اور خود کو سنوارتے ہیں ہم ہر نئی شام اپنے پہلو میں ایک سائے کو مارتے ہیں ہم کوئی بھی تو نہیں ہے کوئی بھی جانے کس کو پکارتے ہیں ہم

مزید پڑھیے
صفحہ 2378 سے 6203