قومی زبان

ایک خیال

چاند تالاب کے کٹورے میں رات بھر کھیلتا ہے پانی سے جل پری کانچ کا بدن پہنے اس سے ملنے کو روز آتی ہے تتلی خوشبو پہ رقص کرتی ہے سبز ریشم پہ پھول کھلتے ہیں پھول خوشبو کا بانکپن اوڑھے پنکھڑی پنکھڑی بکھرتے ہیں جھاڑیوں کے قریب راہوں پر جگنوؤں کے چراغ جلتے ہیں سات تاروں کے رتھ میں ہو کے ...

مزید پڑھیے

ایک عام سی لڑکی

وہ ایک عام سی لڑکی ہے دیکھ کر جس کو نہ جانے کیوں مجھے ایسا خیال آتا ہے کہ اس کے ہنسنے کا انداز یہ بتاتا ہے ہوئی نہیں ہے غم دل سے رسم و راہ ابھی پڑی نہیں ہے کوئی چوٹ ابھی رگ جاں پر کسی نگاہ سے الجھی نہیں نگاہ ابھی وہ ایک عام سی لڑکی اک ایسا جذبہ ہے ملی نہیں جسے الفاظ میں پناہ ابھی وہ ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی تیرگی سی آ گئی ہے چاند تاروں میں

یہ کیسی تیرگی سی آ گئی ہے چاند تاروں میں زمیں زادے تماشا دیکھنے آئے قطاروں میں مرے گاؤں کے کچے راستے میں دھول اڑتی ہے تمہارے شہر کے بچے پلے ہیں سبزہ زاروں میں جٹائیں آنکھ پہ ڈالے کوئی برگد یہ کہتا تھا مری شاخوں کے غنچے اب کھلیں گے کن بہاروں میں ہمارے شہر میں کچھ نوجواں ایسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2357 سے 6203