قومی زبان

بکھرے بکھرے دن ہوتے ہیں راتیں جاگا کرتی ہیں

بکھرے بکھرے دن ہوتے ہیں راتیں جاگا کرتی ہیں گلیاں تھک کر سو جاتی ہیں سڑکیں جاگا کرتی ہیں غصہ شوخی عادت قصے سب پیچھے چھٹ جاتا ہے لوگ چلے جاتے ہیں ان کی باتیں جاگا کرتی ہیں جب سے محبت ہوتی ہے اس میں دم اٹکا رہتا ہے جسم بکھر جاتا ہے لیکن آنکھیں جاگا کرتی ہیں وصل کے لمحوں میں سارے ...

مزید پڑھیے

نئے رشتوں سے تو دل کا مکاں آباد کرتا ہے

نئے رشتوں سے تو دل کا مکاں آباد کرتا ہے خبر بھی ہے تجھے اک شخص تجھ کو یاد کرتا ہے نہ جانے کیوں ضدیں ایسی دل ناشاد کرتا ہے جسے میں بھولنا چاہوں اسی کو یاد کرتا ہے مہک تیری تجھے تسلیم کروا لے تو کافی ہے اے میرے پھول تو رنگوں کو کیوں برباد کرتا ہے بدلتا ہے مری زنجیر پنجرہ بھی بدلتا ...

مزید پڑھیے

خیالوں کی بلندی ذات کی کھائی سے بہتر ہے

خیالوں کی بلندی ذات کی کھائی سے بہتر ہے سمندر تیرا ساحل تیری گہرائی سے بہتر ہے یہ میلا پیرہن کردار کی کائی سے بہتر ہے بھلائی کے لئے اک جھوٹ سچائی سے بہتر ہے مرے منصف سزا دے یا مجھے انصاف جلدی دے ترا ہر فیصلہ برسوں میں سنوائی سے بہتر ہے اگر منزل نہ مل پائے تو رستے میں ٹھہر ...

مزید پڑھیے

سب کے غموں میں تھوڑی تھوڑی میں نے حصہ داری کی

سب کے غموں میں تھوڑی تھوڑی میں نے حصہ داری کی خوشیوں کی امید نہ رکھی درد سے رشتہ داری کی دنیا والوں کی عادت ہے یہ تو دکھاوا کرتے ہیں میں نے سب کو اپنا سمجھا دنیا نے مکاری کی سب مصروف تھے کوئی نہ آیا حال مرا سننے کے لئے شہر میں یوں تو پھیل گئی تھی خبر مری بیماری کی ظالم رات بہت ...

مزید پڑھیے

میں دھوپ میں ہوں تو سایہ کر دے امن میں ٹھنڈی ہوائیں مانگے

میں دھوپ میں ہوں تو سایہ کر دے امن میں ٹھنڈی ہوائیں مانگے سفر پہ نکلوں تو ماں کا آنچل سلامتی کی دعائیں مانگے مری عدالت ہے میں ہی منصف وکیل بھی میں دلیل بھی میں خطا کروں تو ضمیر میرا خود اپنی خاطر سزائیں مانگے سنا ہے پردیس میں ہے دولت کما کے لاؤں تو ہوگی عزت مگر یہ دل تو ہمیشہ ...

مزید پڑھیے

اس طرف سے کوئی طوفان ہوا لے کے چلی

اس طرف سے کوئی طوفان ہوا لے کے چلی اور ادھر میں بھی ہتھیلی پہ دیا لے کے چلی مجھ کو یہ دربدری تو نے ہی بخشی ہے مگر جب چلی گھر سے تو میں نام ترا لے کے چلی حادثے راہ میں تھے اور سفر ظالم تھا چند معصوم لبوں سے میں دعا لے کے چلی مال اگر لے کے سبھی آئے تری محفل میں مرے آنچل میں وفا تھی ...

مزید پڑھیے

شکست

اس نے یہ سوچ کے توڑا تھا مرا دل کہ مرے دل میں کوئی عکس ہی اس کا نہ رہے اب یہ عالم ہے کہ جتنے بھی ہیں دل کے ٹکڑے عکس اتنے ہی مرے دل میں ہیں شامل اس کے

مزید پڑھیے

بنجارے ہیں رشتوں کی تجارت نہیں کرتے

بنجارے ہیں رشتوں کی تجارت نہیں کرتے ہم لوگ دکھاوے کی محبت نہیں کرتے ملنا ہے تو آ جیت لے میدان میں ہم کو ہم اپنے قبیلے سے بغاوت نہیں کرتے طوفان سے لڑنے کا سلیقہ ہے ضروری ہم ڈوبنے والوں کی حمایت نہیں کرتے

مزید پڑھیے

اب اپنے درمیاں شیشے کی اک دیوار باقی ہے

اب اپنے درمیاں شیشے کی اک دیوار باقی ہے مرے دکھ اور ترا نا معتبر کردار باقی ہے ادھر دینار و درہم اور ادھر تیرا پھٹا دامن مرے یوسف تجھی سے گرمئ بازار باقی ہے ہمارے سر قلم ہوتے ہیں ہم بیعت نہیں کرتے کہ ہم لوگوں میں اب بھی جرأت انکار باقی ہے بدلتے وقت نے سب کچھ بدل ڈالا مگر خوش ...

مزید پڑھیے

شجر کی شاخ سے جھولا اتر بھی سکتا ہے

شجر کی شاخ سے جھولا اتر بھی سکتا ہے ترے بغیر یہ ساون گزر بھی سکتا ہے سمیٹ رکھا ہے اپنا وجود خود میں نے یہ آئنہ جو گرا تو بکھر بھی سکتا ہے کبھی کبھی ہمیں ملنے کا اذن دے کر وہ ہماری ذات پہ احسان کر بھی سکتا ہے تماشہ یوں نہ دکھا اپنی بے نیازی کا ہمارے صبر کا پیمانہ بھر بھی سکتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2313 سے 6203