قومی زبان

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی شور برپا ہے خانۂ دل میں کوئی دیوار سی گری ہے ابھی بھری دنیا میں جی نہیں لگتا جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی یاد کے بے ...

مزید پڑھیے

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر ادھر وہ دوستی نبھانے والے کیا ہوئے وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ...

مزید پڑھیے

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست تو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمان وفا مر رہیں گے اگر اب یاد آیا پھر کئی لوگ نظر سے گزرے پھر کوئی شہر طرب یاد آیا حال دل ہم بھی سناتے ...

مزید پڑھیے

دیکھ محبت کا دستور

دیکھ محبت کا دستور تو مجھ سے میں تجھ سے دور تنہا تنہا پھرتے ہیں دل ویراں آنکھیں بے نور دوست بچھڑتے جاتے ہیں شوق لیے جاتا ہے دور ہم اپنا غم بھول گئے آج کسے دیکھا مجبور دل کی دھڑکن کہتی ہے آج کوئی آئے گا ضرور کوشش لازم ہے پیارے آگے جو اس کو منظور سورج ڈوب چلا ناصرؔ اور ابھی ...

مزید پڑھیے

جب رات گئے تری یاد آئی سو طرح سے جی کو بہلایا

جب رات گئے تری یاد آئی سو طرح سے جی کو بہلایا کبھی اپنے ہی دل سے باتیں کیں کبھی تیری یاد کو سمجھایا یوں ہی وقت گنوایا موتی سا یوں ہی عمر گنوائی سونا سی سچ کہتے ہو تم ہم سخنو اس عشق میں ہم نے کیا پایا جب پہلے پہل تجھے دیکھا تھا دل کتنے زور سے دھڑکا تھا وہ لہر نہ پھر دل میں جاگی وہ ...

مزید پڑھیے

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے خالی رستہ بول رہا ہے آج تو یوں خاموش ہے دنیا جیسے کچھ ہونے والا ہے کیسی اندھیری رات ہے دیکھو اپنے آپ سے ڈر لگتا ہے آج تو شہر کی روش روش پر پتوں کا میلہ سا لگا ہے آؤ گھاس پہ سبھا جمائیں مے خانہ تو بند پڑا ہے پھول تو سارے جھڑ گئے لیکن تیری یاد کا زخم ہرا ...

مزید پڑھیے

اپنی دھن میں رہتا ہوں

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں ترا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں ترے تن کا کپڑا ہوں تو جیون کی بھری ...

مزید پڑھیے

اسے اپنے فن پہ جو مان تھا سو نہیں رہا

اسے اپنے فن پہ جو مان تھا سو نہیں رہا کبھی وہ بھی جادو بیان تھا سو نہیں رہا مرے لکھنؤ تری شکل کتنی بدل گئی یہ جو شہر اہل زبان تھا سو نہیں رہا مجھے دوسروں کے مقابلے کیا مسترد مگر ان دنوں وہ جوان تھا سو نہیں رہا نئے آسماں کی تلاش میں میں بھٹک گئی کبھی تو ہی میری اڑان تھا سو نہیں ...

مزید پڑھیے

تجھے میں نے پا کے جو کھو دیا یہ مرے نصیب کی چال ہے

تجھے میں نے پا کے جو کھو دیا یہ مرے نصیب کی چال ہے مرے چارہ گر تجھے کیا خبر کہ بچھڑنا کتنا محال ہے کسی غیر سے مری خیریت ترا پوچھنا بھی تو کم نہیں مجھے یہ یقین تو ہو گیا تجھے اب بھی میرا خیال ہے اٹھے زلزلے چلیں آندھیاں یہ چراغ پھر بھی نہیں بجھا یہ کرم نہیں کسی اور کا تری رحمتوں کا ...

مزید پڑھیے

غالبؔ کا رنگ میرؔ کا لہجہ مجھے بھی دے

غالبؔ کا رنگ میرؔ کا لہجہ مجھے بھی دے لفظوں سے کھیلنے کا سلیقہ مجھے بھی دے تیری نوازشیں ہیں ہر اک خاص و عام پر دریا ہے تیرا نام تو قطرہ مجھے بھی دے سجدوں کو میرے پھر تری چوکھٹ نصیب ہو منزل تلک پہنچنے کا رستہ مجھے بھی دے آخر مری دعا سے اثر کیوں چلا گیا میری بھی سن لے خوشیوں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2312 سے 6203