قومی زبان

کہیں دن گزر گیا ہے کہیں رات کٹ گئی ہے

کہیں دن گزر گیا ہے کہیں رات کٹ گئی ہے یہ نہ پوچھ کیسے تجھ بن یہ حیات کٹ گئی ہے یہ اداس اداس موسم یہ خزاں خزاں فضائیں وہی زندگی تھی جتنی ترے ساتھ کٹ گئی ہے نہ تجھے خبر ہے میری نہ مجھے خبر ہے تیری تری داستاں سے جیسے مری ذات کٹ گئی ہے یہ ترا مزاج توبہ یہ ترا غرور توبہ تری بزم میں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو چراغ شام کی صورت جلا کے دیکھ

مجھ کو چراغ شام کی صورت جلا کے دیکھ آئے اندھیری رات مجھے آزما کے دیکھ موجیں کبھی تو ہاریں گی تیرے یقین سے ساحل پہ روز ایک گھروندا بنا کے دیکھ ٹوٹی ہوئی منڈیر پہ چھوٹا سا اک چراغ موسم سے کہہ رہا ہے کہ آندھی چرا کے دیکھ مانا کہ میں ہزار فصیلوں میں قید ہوں لیکن کبھی خلوص سے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

جب اترے چاند آنگن میں تو راتیں بات کرتی ہیں

جب اترے چاند آنگن میں تو راتیں بات کرتی ہیں وہ چہرہ خوب صورت ہے وہ آنکھیں بات کرتی ہیں سفر کا حوصلہ کافی ہے منزل تک پہنچنے کو مسافر جب اکیلا ہو تو راہیں بات کرتی ہیں شجر جب مضمحل ہوں پھول ہوں شاخوں پہ افسردہ اداس آنگن میں دیواروں سے شامیں بات کرتی ہیں مری آنکھوں سے نیندیں لے ...

مزید پڑھیے

رات کو شمع کی مانند پگھل کر دیکھو

رات کو شمع کی مانند پگھل کر دیکھو زندگی کیا ہے کسی طاق میں جل کر دیکھو اپنے چہرے کو بدلنا تو بہت مشکل ہے دل بہل جائے گا آئینہ بدل کر دیکھو رنگ بکھریں گے تو فریاد کرے گی خوشبو تم کسی پھول کو چٹکی سے مسل کر دیکھو

مزید پڑھیے

بڑھ گیا درد دواؤں کا اثر ہونے تک

بڑھ گیا درد دواؤں کا اثر ہونے تک چھوڑ کر چل دیا بیمار خبر ہونے تک جب سے بیمار کی رخصت کا یقیں آنے لگا آنکھ لگتی ہی نہیں اب تو سحر ہونے تک آبلے پھوٹ کے روتے رہے رفتار کے ساتھ پھول کھلتے رہے انجام سفر ہونے تک اک ریاضت ہے عبادت ہے یہ تخلیق کا فن وقت درکار ہے پودے کو شجر ہونے تک چیخ ...

مزید پڑھیے

سورج کے ہم سفر ہیں ہماری امنگ یہ

سورج کے ہم سفر ہیں ہماری امنگ یہ اور سامنے ہمارے ہے کالی سرنگ یہ میری طرح یہ دل کے لہو میں نہائے ہیں بے وجہ تو نہیں ہے گلابوں کا رنگ یہ اس معرکے میں کام جو ہم آ گئے تو کیا جاری رہے گی بعد ہمارے بھی جنگ یہ اک لمس مل گیا تھا مجھے تیرے دھیان کا اب عمر بھر اترنے نہیں دوں گا رنگ ...

مزید پڑھیے

جو یاد یار سے گفت و شنید کر لی ہے

جو یاد یار سے گفت و شنید کر لی ہے تو گویا پھول سے خوشبو کشید کر لی ہے جدائیوں میں بھی ڈھونڈی ہیں قربتیں میں نے ضرر رساں تھی جو شے وہ مفید کر لی ہے نہیں کھلے تھے جو منظر مری بصارت پر تصورات میں ان کی بھی دید کر لی ہے ستارے ٹانک دیے ہیں فلک کی چادر پر اور اپنی چادر شب بے نوید کر لی ...

مزید پڑھیے

کوئی تو ذہن کے در پر ضرور دستک دے

کوئی تو ذہن کے در پر ضرور دستک دے اگر شعور نہ دے لا شعور دستک دے طلوع صبح کا منظر عجیب ہوتا ہے جب آسماں سے صدائے طیور دستک دے اس انتظار میں ہے میرا قصر بے خوابی کہ کوئی نیند پری کوئی حور دستک دے فصیل شہر تمنا کی تیرگی بھی چھٹے کبھی تو اس پہ کوئی صبح نور دستک دے پھر ایک بار عذاب ...

مزید پڑھیے

مکیں تھا وہ تو محبت کی بارگاہ تھا دل

مکیں تھا وہ تو محبت کی بارگاہ تھا دل پھر اس کے بعد کوئی خانۂ تباہ تھا دل یہاں بھی آ کے غم یار نے ٹھکانہ کیا مرے لیے تو یہی اک پناہ گاہ تھا دل بضد اسی پہ تھا چلنا ہے کوئی جاناں کو جو میں نے راستہ بدلا تھا سد راہ تھا دل بنا لیا ہے اسے بھی حمایتی اس نے وگر نہ پہلے بڑا میرا خیر خواہ ...

مزید پڑھیے

تھکے ہوؤں کو جو منزل کٹھن زیادہ ہوئی

تھکے ہوؤں کو جو منزل کٹھن زیادہ ہوئی سفر کا عزم مصمم لگن زیادہ ہوئی اداس پیڑوں نے پتوں کی بھینٹ دے دی ہے خزاں میں رونق صحن چمن زیادہ ہوئی زباں پہ حبس کی خواہش مچل مچل اٹھی ہوا چلی تو گھروں میں گھٹن زیادہ ہوئی سفر کا مرحلۂ سخت ہی غنیمت تھا ٹھہر گئے تو بدن کی تھکن زیادہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2314 سے 6203