کہیں دن گزر گیا ہے کہیں رات کٹ گئی ہے
کہیں دن گزر گیا ہے کہیں رات کٹ گئی ہے یہ نہ پوچھ کیسے تجھ بن یہ حیات کٹ گئی ہے یہ اداس اداس موسم یہ خزاں خزاں فضائیں وہی زندگی تھی جتنی ترے ساتھ کٹ گئی ہے نہ تجھے خبر ہے میری نہ مجھے خبر ہے تیری تری داستاں سے جیسے مری ذات کٹ گئی ہے یہ ترا مزاج توبہ یہ ترا غرور توبہ تری بزم میں ...