قومی زبان

دعا

آج کا دن کہ تمہارا دن ہے آج کی دھوپ میں نرمی بھی ہے حدت بھی ہے بام سے اتری ہیں کرنیں تمہیں چھونے کے لیے تم کو چھو لیں تو جدھر سے گزریں رنگ کا نور کا خوشبو کا اجالا پھیلے ہر طرف پھیلے امر ہو جائے تم کو چھو لیں چمن سے گزریں سرخ پھولوں سے گلے مل کے کہیں آج ہر رنگ امر ہو جائے آج کا دن کہ ...

مزید پڑھیے

زندگی کی تلاش

سیڑھیاں آسمان کی چڑھ کے چاند کے ایک ایک کونے میں زندگی کو تلاش کرتے ہیں اور صومالیہ کے صحرا میں ایک مٹھی اناج کی خاطر زندگی ایڑیاں رگڑتی ہے بھوکے بچے سسک کے مرتے ہیں

مزید پڑھیے

تم سے کترا کے نکلنے کا سبب ہے کوئی

تم سے کترا کے نکلنے کا سبب ہے کوئی مل کے تم سے بڑی تنہائی سی ہو جاتی ہے گھر تلک ساتھ اک آہٹ سی چلی آتی ہے سب کواڑوں کو ارادوں کو مقفل کر لو پر یہ آہٹ ہے کہ دیواروں سے چھن آتی ہے خاک اڑا کرتی ہے جس صحن میں سناٹے کی واں عجب شوق کا دربار لگا ہوتا ہے رقص کرتی ہے مرے پاؤں تلے میری زمیں ہوش ...

مزید پڑھیے

سمجھوتہ

سمجھوتے کے دالانوں کی ہر چیز سجل سی ہوتی ہے ہر طاق سجا سا لگتا ہے اک فرض مسلسل کی دھن پر دو پیر تھرکتے رہتے ہیں ہاتھوں کی لکیروں میں لکھے دو بول کھنکتے رہتے ہیں ہمت کی چٹختی شاخوں سے کچے دن توڑے جاتے ہیں اور پال لگائی جاتی ہے راتوں کے بان کے بستر پر تہذیب کے گونگے جسموں کی سنجاب ...

مزید پڑھیے

میں گل نہیں

میں گل نہیں مجھے دست صبا سے کام نہیں نہ مثل برگ نہ مانند گل نہ شاخ گلاب کہ تند و تیز ہواؤں سے کانپ کانپ اٹھوں کہ سرد و گرم سے موسم کے ڈر کے زیست کروں مجھے تو گرم ہواؤں نے مل کے پالا ہے زمیں کے حبس نے دم خم یہ مجھ میں ڈالا ہے کہ ایک ننھا سا بے حیثیت وجود مرا ذرا بھی نم جوں ہی مٹی میں ...

مزید پڑھیے

کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے

کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے اسے سمجھا رہا ہوں جو محبت کی روایت ہے ہزاروں دکھ اٹھاتا ہوں ہزاروں زخم کھاتا ہوں مگر جاتی نہیں یہ مسکرانے کی جو عادت ہے جہاں پر جب بھی جی چاہے زمیں پر بیٹھ جاتا ہوں کہ میرے جسم کی مٹی کو مٹی سے محبت ہے میں اپنے گاؤں کے سب کھیت کھالے یاد ...

مزید پڑھیے

طلب روٹی کی تڑپائے تو خطرے بھول جاتے ہیں

طلب روٹی کی تڑپائے تو خطرے بھول جاتے ہیں پرندوں کو شکاری کے شکنجے بھول جاتے ہیں زمانے نے ازل سے ہی یہ اپنی ریت ہے رکھی جو سستا کچھ میسر ہو تو مہنگے بھول جاتے ہیں مشقت کی نہج اک دن انہیں کندن بناتی ہے جو بچے مفلسی کی زد میں بستے بھول جاتے ہیں ہوا ہے خون کا پیاسا یہاں پر ہر کوئی ...

مزید پڑھیے

محبت اسقدر کا فائدہ کیا

محبت اسقدر کا فائدہ کیا یوں ہونے در بدر کا فائدہ کیا ترے بن ہے مرے کس کام کا یہ مرے برباد گھر کا فائدہ کیا سنو دستار داغوں سے بھری ہے سلامت ہے جو سر کا فائدہ کیا اگر اب بھی نہیں یہ کام کا تو میرے چھلنی جگر کا فائدہ کیا یہ غالب بھوک تھی تم پوچھتے ہو کٹائے بال و پر کا فائدہ ...

مزید پڑھیے

سادہ ورق

اس لئے آپ کو بھیجا تھا وہ سادہ کاغذ اک کوئی حرف مناسب سا میسر ہی نہ تھا اجنبی جیسے تھے انداز تخاطب سارے کوئی پیکر بھی مری سوچ سا پیکر ہی نہ تھا کتنے القاب تھے میں لکھا کیا کاٹا کیا کتنے اوراق میں بے وجہ یوں ہی پھاڑا کیا دل کی ضد برتا ہوا لفظ نہ برتا جائے اک الگ سب سے کوئی حرف تراشا ...

مزید پڑھیے

آگہی

نصف النہار سے میری سوچوں کا آفتاب رکھتا ہے لیر لیر میری زیست کی کتاب مجھ میں ادھر بچھا کے یہ دریا یقین کے ٹھوکر ادھر لگا کے دکھا کے مجھے سراب اے الاماں یہ بھڑکی ہوئی آگہی کی پیاس دشت جنوں میں چیخ رہی ہوں میں آب آب

مزید پڑھیے
صفحہ 2288 سے 6203