قومی زبان

خوش فہمیوں کو درد کا رشتہ عزیز تھا

خوش فہمیوں کو درد کا رشتہ عزیز تھا کاغذ کی ناؤ تھی جسے دریا عزیز تھا اے تنگئی دیار تمنا بتا مجھے وہ پانو کیا ہوئے جنہیں صحرا عزیز تھا پوچھو نہ کچھ کہ شہر میں تم ہو نئے نئے اک دن مجھے بھی سیر و تماشا عزیز تھا بے آس انتظار و توقع بغیر شک اب تم سے کیا کہیں ہمیں کیا کیا عزیز ...

مزید پڑھیے

شجر آنگن کا جب سورج سے لرزاں ہونے لگتا تھا

شجر آنگن کا جب سورج سے لرزاں ہونے لگتا تھا کوئی سایہ مرے گھر کا نگہباں ہونے لگتا تھا تسلی دینے لگتی تھیں مجھے جز بندیاں اس کی میں جب اک اک ورق ہو کر پریشاں ہونے لگتا تھا سحر جس کی مناجاتوں سے تھی راتیں تہجد سے میں اس کی پاک صحبت میں مسلماں ہونے لگتا تھا دعا پڑھ کر مری ماں جب مرے ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات کہ موجود اپنے گھر میں ہوں

یہ اور بات کہ موجود اپنے گھر میں ہوں میں تیری سمت مگر مستقل سفر میں ہوں نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جاؤں ابھی تو چاک پہ ہوں دست کوزہ گر میں ہوں میں اپنی فکر کی تجسیم کس طرح سے کروں بریدہ دست ہوں اور شہر بے ہنر میں ہوں نہ جانے کون سا موسم مجھے ہرا کر دے نمو کے واسطے بے تاب ...

مزید پڑھیے

ایک انہونی کا ڈر ہے اور میں

ایک انہونی کا ڈر ہے اور میں دشت کا اندھا سفر ہے اور میں حسرت تعمیر پوری یوں ہوئی حسرتوں کا اک نگر ہے اور میں بام و در کو نور سے نہلا گیا ایک اڑتی سی خبر ہے اور میں مشغلہ ٹھہرا ہے چہرے دیکھنا اس کے گھر کی رہ گزر ہے اور میں جب سے آنگن میں اٹھی دیوار ہے اس حویلی کا کھنڈر ہے اور ...

مزید پڑھیے

عین الیقین

میں نے دکھ نہیں دیکھا میں نے کچھ نہیں دیکھا میں نے سکھ نہیں دیکھا میں نے کچھ نہیں دیکھا دنیا میری ہتھیلی سے باہر کیا رہی ہوگی میں نے دیکھا زمین پر شاید سیلاب آیا تھا میں نے دیکھا کہ دھوپ چونکی اور بھاگ کر درختوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئی اس کا رنگ فق تھا اور اس کی عمر تیرہ برس سے زیادہ ...

مزید پڑھیے

دو بوند پانی

کیا میری آنکھوں میں سناٹا ہے نہیں برف باری ہو رہی ہے لوگ مجھ سے خوف کھانے لگے ہیں جیسے مردے سے کیا مجھ سے کافور کی بو آتی ہے نہیں تو میری سانسوں میں ساون کا عبث اور املتاس کی گرمی ہے اور سانسو اور آنکھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ نہیں پھر بھی بہت ہے اس لیے کہ ختم ہو جائے تو اسٹرگل ہی ...

مزید پڑھیے

پیشانیٔ حیات پہ کچھ ایسے بل پڑے

پیشانیٔ حیات پہ کچھ ایسے بل پڑے ہنسنے کو دل نے چاہا تو آنسو نکل پڑے رہنے دو مت بجھاؤ مرے آنسوؤں کی آگ اس کشمکش میں آپ کا دامن نہ جل پڑے ہنس ہنس کے پی رہا ہوں اسی طرح اشک غم یوں دوسرا پیے تو کلیجہ نکل پڑے نشترؔ وہ اہل عشق بھی ہیں کتنے تنگ نظر ان کی زبان نام مرا سن کے جل پڑے

مزید پڑھیے

صحرا کا پتا دے نہ سمندر کا پتا دے

صحرا کا پتا دے نہ سمندر کا پتا دے اچھا ہو کہ اب مجھ کو مرے گھر کا پتا دے ہے کون مرا دشمن جاں مجھ کو خبر ہے کب میں نے کہا مجھ کو ستم گر کا پتا دے یہ رات اماوس کی تو کاٹے نہیں کٹتی اب آ کے مجھے ماہ منور کا پتا دے خطرے میں پڑی جاتی ہے مقتول کی پہچان شاید ہی کوئی شہر میں اب سر کا پتا ...

مزید پڑھیے

تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دیے

تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دیے شب کو محل بنائے سویرے گرا دیے کمزور جو ہوئے ہوں وہ رشتے کسے عزیز پیلے پڑے تو شاخ نے پتے گرا دیے اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا گھر سے چلے تھے جیب کے پیسے گرا دیے پتھر سے دل کی آگ سنبھالی نہیں گئی پہنچی ذرا سی چوٹ پتنگے گرا دیے برسوں ہوئے تھے ...

مزید پڑھیے

بہت قریب ہے پت جھڑ کی رت پلک نہ اٹھا

بہت قریب ہے پت جھڑ کی رت پلک نہ اٹھا زمیں سے عکس اٹھا دھوپ کی چمک نہ اٹھا غلاف سنگ میں لپٹا ہوا ہے شہر کا شہر چلی ہوا تو زمیں سے غبار تک نہ اٹھا قدم قدم پہ یہ ڈر تھا کہ گھات میں ہے کوئی یہاں تو پائے تفکر میں تھی جھجک نہ اٹھا پھر اپنا اپنا کفن لے کے چل دیئے سب لوگ کسی سے بار غم مرگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2287 سے 6203