قومی زبان

اتنی شدت بھی کیا پیاس میں تھی

اتنی شدت بھی کیا پیاس میں تھی رات اتری ہوئی گلاس میں تھی اس کا میں مستند حوالہ تھا اس کی خوشبو مرے لباس میں تھی کھا گئی وہ تری دعا کا اثر اک رعونت جو التماس میں تھی چاپلوسی منافقت سازش یہ صفت ہر کنیز و داس میں تھی خوف طاری تھا شہر یاروں پر خلقت شہر بھی ہراس میں تھی اس کی ...

مزید پڑھیے

انا کا ناز لبادہ اتار کر دیکھو

انا کا ناز لبادہ اتار کر دیکھو کسی کے واسطے یہ جنگ ہار کر دیکھو ضرور ہوگا کوئی آس پاس شمع بدست اندھیری رات سہی تم پکار کر دیکھو عدو کا ساتھ نبھا کر تو تم نے دیکھ لیا ہمارے ساتھ بھی کچھ دن گزار کر دیکھو ہمارا چاند بھی کچھ کم نہیں تم اپنا چاند بلندیوں سے زمیں پر اتار کر ...

مزید پڑھیے

اس شہر میں رہنے کو ٹھکانہ بھی نہیں تھا

اس شہر میں رہنے کو ٹھکانہ بھی نہیں تھا وہ شہر جسے چھوڑ کے جانا بھی نہیں تھا اس شخص کی رہ دیکھتے رہتے تھے ہمیشہ جس شخص کو اس شہر میں آنا بھی نہیں تھا کچھ زاد سفر پاس نہ تھا دور تھی منزل رستے میں کوئی یار پرانا بھی نہیں تھا صحراؤں میں سب خرچ ہوئی عمر کی پونجی سو پشت سے مجنوں کا ...

مزید پڑھیے

یقین محکم سے کام لینا نہ درمیاں احتمال رکھنا

یقین محکم سے کام لینا نہ درمیاں احتمال رکھنا سمندروں کے سفر پہ جانا تو حوصلے بھی کمال رکھنا ہزار زاد سفر سے بڑھ کر وہ ایک چھوٹی سی بات ٹھہری بوقت رخصت کسی کا کہنا سفر میں اپنا خیال رکھنا تم اپنی خاطر بچا کے رکھنا مسرتوں کی تمام گھڑیاں جہان بھر کی اداسیوں کو ہمارے حصے میں ڈال ...

مزید پڑھیے

بہاروں کی طرح در بولتا ہے

بہاروں کی طرح در بولتا ہے کوئی آ جائے تو گھر بولتا ہے کبھی دیتا ہے نامہ بر بھی دستک کبھی چھت پر کبوتر بولتا ہے یہ دریا پیڑ پودے اور جھرنے ہر اک وادی کا منظر بولتا ہے تراشا ہے اسے میں نے ہنر سے مرے ہاتھوں کا پتھر بولتا ہے ادب والے سخن کہتے ہیں اس کو یہ جادو سر پہ چڑھ کر بولتا ...

مزید پڑھیے

ہما شما کو نہیں دوست ہی کو بھول گیا

ہما شما کو نہیں دوست ہی کو بھول گیا نہ بھولنا تھا جسے وہ اسی کو بھول گیا تونگری نے بدل ہی دیا ہے اس کا مزاج وہ مجھ کو اور مری دوستی کو بھول گیا کمی تو مے کی نہیں تھی مگر مرا ساقی کسی کو جام دیا اور کسی کو بھول گیا اطاعتیں ہی تو جینے کا عین مقصد ہے خدا کا بندہ مگر بندگی کو بھول ...

مزید پڑھیے

پلکوں پہ بھلا کب یہ ٹھہرنے کے لئے تھے

پلکوں پہ بھلا کب یہ ٹھہرنے کے لئے تھے موتی مری آنکھوں کے بکھرنے کے لئے تھے چمکے نہ کسی طور بھی زندہ رہے جب تک ہم خاک میں مل کر ہی نکھرنے کے لئے تھے اچھا ہے کہ اب صاف ہی کہہ دیجیے صاحب وعدے جو کئے تھے وہ مکرنے کے لئے تھے ہم آج تری راہ میں کام آ گئے آخر زندہ ہی ترے نام پہ مرنے کے لئے ...

مزید پڑھیے

نہیں اب با وفا کوئی نہیں ہے

نہیں اب با وفا کوئی نہیں ہے مگر شکوہ گلہ کوئی نہیں ہے بھٹکتا ہی پھرے ہے قافلہ وہ وہ جس کا رہنما کوئی نہیں ہے یہ نگری ہے فقط گونگوں کی نگری کسی سے بولتا کوئی نہیں ہے یہ کیسے لوگ ہیں بستی ہے کیسی کسی کو جانتا کوئی نہیں ہے چلاتے ہیں یہاں بس اپنی اپنی کسی کی مانتا کوئی نہیں ہے بہت ...

مزید پڑھیے

ستم کا تیر جو ہے وہ تری کمان میں ہے

ستم کا تیر جو ہے وہ تری کمان میں ہے جو کہہ چکا ہوں میں وہ ہی مرے بیان میں ہے میں خالی جسم ہی گھر سے نکل کے آیا ہوں مری جو جان ہے اب بھی اسی مکان میں ہے اسی لئے تو سبھی ہم پہ ہو گئے حاوی یہ پھوٹ آپسی جو اپنے خاندان میں ہے مری طرف جو یہ دیکھے تو اس سے بات کروں یہ میرا دوست مگر جانے کس ...

مزید پڑھیے

کالا تل نسواری آنکھیں

کالا تل نسواری آنکھیں ہیں مشکوک تمہاری آنکھیں صبر کی رشوت مانگ رہی ہیں ساجن کی پٹواری آنکھیں جب بھی شاپنگ کرنے نکلو فٹ کر لو بازاری آنکھیں لرز گیا تن میرا اس نے ایسے جوڑ کے ماری آنکھیں پاس مرے آ بچ کے بچا کے دیکھتی ہیں سرکاری آنکھیں جی میں ہے چھپ جاؤں ان میں ہائے تری الماری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2222 سے 6203