قومی زبان

پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگا

پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگا گھر کا خالی راستہ اچھا لگا ساحلوں پر ہاتھ لہرانے لگے مجھ کو اپنا ڈوبنا اچھا لگا شام جیسے آنکھیں جھپکانے لگی اس کے ہاتھوں میں دیا اچھا لگا بچے نے تتلی پکڑ کر چھوڑ دی آج مجھ کو بھی خدا اچھا لگا ہلکی بارش تھی ہوا تھی شام تھی ہم کو اپنا بھیگنا اچھا ...

مزید پڑھیے

پرانی مٹی سے پیکر نیا بناؤں کوئی

پرانی مٹی سے پیکر نیا بناؤں کوئی دن آ گئے ہیں کہ اب معجزہ دکھاؤں کوئی پکارتے ہیں افق خاک بے صفات ہوئی زمین سے شجر آفتاب اگاؤں کوئی عصا بلند کروں سر کشیدہ لہروں پر فصیل آب اٹھاؤں ہوا چلاؤں کوئی سیاہیوں میں چھپے ہیں دلوں کے آئینے کہیں سے پرتو گم گشتہ ڈھونڈ لاؤں کوئی تراش لوں ...

مزید پڑھیے

ضیائے صبح تبسم کی آرزو نہ کرو

ضیائے صبح تبسم کی آرزو نہ کرو کہ تاک میں ابھی تیرہ شبی ہے بے خبرو سما سکیں گے نہ بکھرے ہوئے حسیں جلوے حصار چشم ابھی اور کچھ کشادہ کرو جو پڑھ سکو تو یہ خاموش و بد نما چہرے خود اپنے وقت کی تاریخ بھی ہیں دیدہ ورو خوشی کی دھوپ میں جلتا ہے زندگی کا بدن غم لطیف کے سائے کہاں ہمیں ہم ...

مزید پڑھیے

خواب راحت میں کھو گئے ہیں لوگ

خواب راحت میں کھو گئے ہیں لوگ حسب معمول سو گئے ہیں لوگ روتے روتے رہ محبت میں آنسوؤں کو بھی رو گئے ہیں لوگ میری آنکھوں میں کیا نظر آیا دفعتاً آگ ہو گئے ہیں لوگ کبھی تڑپے ہیں لالہ و گل پر کبھی کانٹوں پہ سو گئے ہیں لوگ اپنے احساس کے تنوروں میں بیشتر راکھ ہو گئے ہیں لوگ ایک تیر ...

مزید پڑھیے

آ گیا کون سر بزم یہ ساقی بن کے

آ گیا کون سر بزم یہ ساقی بن کے زندگی جھوم اٹھی طرفہ شرابی بن کے ایک سنگین حقیقت ہے مرا خون جنوں دامن گل میں مہکتا ہے کہانی بن کے اب تو محرومیٔ داماں نہیں دیکھی جاتی تم برس جاؤ کبھی یادوں کے موتی بن کے آج جو شیریں اداؤں میں بسر ہوتی ہے کل یہی جام میں گھل جائے گی تلخی بن کے کو بہ ...

مزید پڑھیے

زندگی کروٹیں بدلتی ہے

زندگی کروٹیں بدلتی ہے آ بھی جاؤ کہ رات ڈھلتی ہے صبح نو کی حسیں عمارت میں رات کی تیرگی مچلتی ہے زندگی کتنے ماہ و سال کے بعد اب ذرا پاؤں پاؤں چلتی ہے ہم تہی خواب ہیں تو کیا دل میں خواب کی آرزو تو پلتی ہے چند لفظوں کا زلزلہ ہے مگر دل کی بنیاد تک دہلتی ہے ہم کوئی تیری وہ نظر تو ...

مزید پڑھیے

بوئے گل موج پر آتی ہے بہت رات گئے

بوئے گل موج پر آتی ہے بہت رات گئے روح احساس پہ چھاتی ہے بہت رات گئے غم کی پروائی سنکتی ہے تو ہر چوٹ مری معجزہ اپنا دکھاتی ہے بہت رات گئے یہ بھی اس ناز تغافل کا گلہ ہے اے دل آہ جو ہونٹ پہ آتی ہے بہت رات گئے کون روتا ہے لئے ہاتھوں پہ ارمان کی لاش ایک آواز سی آتی ہے بہت رات گئے اپنی ...

مزید پڑھیے

اک صبح عارضی تھی کہ پل میں گزر گئی

اک صبح عارضی تھی کہ پل میں گزر گئی اک شام مستقل تھی کہ ظالم ٹھہر گئی جلوے کے ازدحام میں کچھ سوجھتا نہیں نظارے کی ہوس میں متاع نظر گئی یارو یہ کس نوائے محبت کی گونج تھی دیکھو تو ساری بزم کو دیوانہ کر گئی ان کی تو اک ادائے تغافل کی بات تھی میرے تو خواب شوق کی دنیا بکھر گئی سمٹی ...

مزید پڑھیے

باندھ کر کمر جب بھی ہم پئے سفر نکلے

باندھ کر کمر جب بھی ہم پئے سفر نکلے زندگی کے سب رستے تیری رہ گزر نکلے سوچتے ہیں کیوں آخر ذوق سجدہ ریزی میں ہم جہاں جبیں رکھیں وہ ترا ہی در نکلے جو تھے ناپنے والے زخم دل کی گہرائی اپنی شوخ نظروں سے کتنے بے خبر نکلے سوچتے ہیں کیا ہوگا حال پھر بہاروں کا شہر لالہ و گل سے ہم جو روٹھ ...

مزید پڑھیے

یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے

یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے بس ایک نام کی خاطر یہ نام کس کے لیے مرا وجود بصد اہتمام کس کے لیے تمام عمر جلا صبح و شام کس کے لیے یہاں تو کوئی نہیں اونگھتے دیوں کے سوا بھرا ہے تم نے محبت کا جام کس کے لیے امنڈ پڑی ہے خدائی عجیب عالم ہے سنا گیا وہ سزائے دوام کس کے لیے بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2218 سے 6203