قومی زبان

آج دریچے میں وہ آنا بھول گیا

آج دریچے میں وہ آنا بھول گیا میں بھی اپنا دیا جلانا بھول گیا آج مجھے بھی اس کی یاد نہیں آئی وہ بھی میرے خواب میں آنا بھول گیا خط لکھا ہے لیکن خط کے کونے پر وہ ہونٹوں سے پھول بنانا بھول گیا چلتے چلتے میں اس کو گھر لے آیا وہ بھی اپنا ہاتھ چھڑانا بھول گیا روٹھ کر اک بستر پہ دونوں ...

مزید پڑھیے

کبھی ہنس کر کبھی آنسو بہا کر دیکھ لیتا ہوں

کبھی ہنس کر کبھی آنسو بہا کر دیکھ لیتا ہوں میں ہر چہرے کو آئینہ دکھا کر دیکھ لیتا ہوں بہت بے چین کر دیتی ہیں جب تنہائیاں گھر کی در و دیوار پر شکلیں بنا کر دیکھ لیتا ہوں چھپاتا ہے بہت مجھ کو مرا سایہ مگر پھر بھی میں خود کو روشنی سے دور جا کر دیکھ لیتا ہوں نظر آتا نہیں جب حرف کوئی ...

مزید پڑھیے

وہ بستر میں پڑی رہی

وہ بستر میں پڑی رہی شام گلی میں کھڑی رہی سوتے ہوئے بھی ہاتھوں میں پھولوں کی چھڑی رہی وہ کہیں باہر کھڑا رہا رات فریم میں جڑی رہی پیروں میں دن پڑا رہا ہاتھوں میں ہتھکڑی رہی ہونٹ بوند کو ترس گئے ریت میں چھاگل پڑی رہی اس دن کتنے پھول کھلے اس دن کتنی جھڑی رہی دیا طاق میں پڑا ...

مزید پڑھیے

گھر کو ویرانہ کریں عیش کی پروا نہ کریں

گھر کو ویرانہ کریں عیش کی پروا نہ کریں تیری آنکھوں کا اشارہ ہو تو کیا کیا نہ کریں دست وحشت ہو تو کیوں بات جنوں کی جائے جیب و دامن ہیں تو کیوں گل کی تمنا نہ کریں آپ سے میری گزارش ہے کیوں یوں شام و سحر میری خواہش سے زیادہ مجھے دیکھا نہ کریں کون دیکھے چمن دہر میں گل کی صورت ہم اگر ...

مزید پڑھیے

کہاں کسی کو ہوش تھا کہاں کسی میں تاب تھی

کہاں کسی کو ہوش تھا کہاں کسی میں تاب تھی تری نظر سے انجمن کی انجمن خراب تھی ادا ادا بہار تھی نظر نظر شراب تھی کسی کی گرمئی شباب گرمئی شباب تھی کسی کو اس کا علم کیا کسی کو اس کی کیا خبر کہ میری زندگی بھی ایک زندگی کا خواب تھی بڑے قلق کی بات ہے کہ تم نہ اس کو پڑھ سکے ہماری زندگی تو ...

مزید پڑھیے

یاد آیا ہے جب کوئی دیپک جلے

یاد آیا ہے جب کوئی دیپک جلے دل کے آنگن میں غم کے جھکورے چلے راس آئی نہ شاید چمن کی ہوا دیکھ وحشی ترے سوئے صحرا چلے آرزو کوئی دل میں ہے اب اس طرح جس طرح راکھ میں کوئی شعلہ پلے زندگی کیا ہے یہ دیکھنا ہو جسے میرے ہم راہ وہ میکدے کو چلے مہربانی ہو یا کوئی ان کا ستم مجھ سے ترسے ہوئے ...

مزید پڑھیے

میری جانب تری نظر نہ ہوئی

میری جانب تری نظر نہ ہوئی کیوں حریف دل و جگر نہ ہوئی فاصلوں کے دہکتے صحرا میں قرب کی چھاؤں معتبر نہ ہوئی کتنی راتوں کا زہر پی کر بھی پیاس آسودۂ سحر نہ ہوئی یوں دبے پاؤں زندگی گزری حادثوں کو بھی کچھ خبر نہ ہوئی شمع بردار وقت تھے پھر بھی ہم سے تزئین بام و در نہ ہوئی تیری پرواز ...

مزید پڑھیے

جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے

جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے کھو گئی بجلیوں میں نظر ہی تو ہے یہ جہاں پتھروں کا نگر ہی تو ہے سانس لینا یہاں اک ہنر ہی تو ہے چین سے رہنے دیتا نہیں ایک جا یہ ہمارا جنون سفر ہی تو ہے راہزن ہی سہی راہ منزل میں وہ سوچتا ہوں مرا ہم سفر ہی تو ہے تم تو دامن بچاتے ہو اب اس طرح جیسے ...

مزید پڑھیے

کون ہوں کیوں زندہ ہوں سوچتا رہتا ہوں

کون ہوں کیوں زندہ ہوں سوچتا رہتا ہوں خوابوں کی دنیا میں جاگتا رہتا ہوں رنگ اور خوشبو سے دھندلائے رستوں میں ہوا کی انگلی تھام کے چلتا رہتا ہوں آوازوں کی گٹھری سر پہ اٹھائے ہوئے خاموشی کے زینے چڑھتا رہتا ہوں جہاں سے میرے جسم کو اک دن اگنا ہے میں اس بانجھ زمین کو ڈھونڈھتا رہتا ...

مزید پڑھیے

یہ تیرے مرے ہاتھ

یہ تیرے مرے ہاتھ خوشبو سے بندھے ہاتھ کچھ بھی نہ کہا اس نے اور چوم لیے ہاتھ وہ چھت سے دکھاتی ہے مہندی سے رنگے ہاتھ ہم دور نکل آئے ہاتھوں میں لیے ہاتھ روشن ہوئے مٹی میں مٹی سے بھرے ہاتھ بجھتی ہوئی شمعوں پر محراب ہوئے ہاتھ

مزید پڑھیے
صفحہ 2217 سے 6203