قومی زبان

چاندنی شعر کی کھلی ہر سو

چاندنی شعر کی کھلی ہر سو ہنس کے کہتی ہے شاعرہ ہے تو تھم گیا ہے سفر ستارے کا کس نے چوما ہے رات کا آنسو اترے آنچل پہ آسماں سے دیے زیر لب مسکرائی ہے خوشبو کون مہکا ہے آس پاس مرے کھل گئے میرے شعر کے گیسو آ گیا ہے سوال الفت کا لکھ رہی ہوں کمال کا جادو

مزید پڑھیے

وہ ہم سفر ہے مگر پھر بھی ہم زباں تو نہیں

وہ ہم سفر ہے مگر پھر بھی ہم زباں تو نہیں چھپا ہے مجھ سے مگر خود پہ بھی عیاں تو نہیں مرے خیال کی دنیا میں گرچہ رہتا ہے مرے خیال کی دنیا کا آسماں تو نہیں یہ میری فکر کے سورج میں جو شرارے ہیں یہ میری فکر کے محور کا امتحاں تو نہیں دھڑک رہے ہو مری آنکھ کے نظارے میں مرے مکان کے اندر ترا ...

مزید پڑھیے

خیال یار کی گلیوں سے جب گزرتے ہیں

خیال یار کی گلیوں سے جب گزرتے ہیں نئے غرور سے فرقت کے داغ جلتے ہیں نمی ہے آنکھ میں گو کہ تمہاری یادوں کی اسی بہانے کئی اور غم برستے ہیں وصال یار کا موسم تھا میری چوڑی تھی کلائیوں پہ ابھی تک وہ پل دھڑکتے ہیں نگاہ یار کو کیسے غزل کروں گی میں کہ اس کے دیکھنے سے قافیے بہکتے ...

مزید پڑھیے

ترک تعلقات پہ مجبور ہو گیا

ترک تعلقات پہ مجبور ہو گیا خوشبو سے اک گلاب بہت دور ہو گیا حرف و کتاب آج بھی ہیں منتظر ترے معنی ترے فراق میں رنجور ہو گیا گرچہ تمام عمر رہا خواب میں مرے دیکھا جو آنکھ بھر کے تو مستور ہو گیا ہر فیصلے کے بیچ ہے شامل ترا خیال تو میری کائنات کا منشور ہو گیا آئی ہے آنکھ اپنے نظارے ...

مزید پڑھیے

چور

میرے تن پر بھوک اگی تھی میری آنکھیں ننگی تھی اور میرے آنگن میں ہرجا غربت بھوک اور محرومی کے پھول اگے تھے میرے کانٹے ہاتھوں نے ان پھولوں کو توڑنا چاہا اور ہم سایے کے گھر سے جس کے گھر میں سونے چاندی اور پیسوں کی دیواریں تھیں اپنے نے کچھ خوشیاں چن لیں چور چور چور چور کچھ آوازیں پھر ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ایک دشت ہے کب سے رکا ہوا

آنکھوں میں ایک دشت ہے کب سے رکا ہوا پہلو میں اک چراغ ہے آدھا جلا ہوا مدت سے میرے دل میں ہے کوئی بسا ہوا محرم ہے میری ذات کا گرچہ چھپا ہوا رکھا ہوا ہے چاند کی دہلیز پر قدم رستہ ہے روشنی کا سمندر بنا ہوا پہلی نظر میں عمر کا سودا ہوا تھا طے سچ بات ہے کہ آنکھ کا وعدہ وفا ہوا خوشبو کا ...

مزید پڑھیے

چاند کچھ دیر کو آتے ہو چلے جاتے ہو

چاند کچھ دیر کو آتے ہو چلے جاتے ہو میری آنکھوں میں سماتے ہو چلے جاتے ہو میں بہت دیر سے تنہا ہوں اسی بام پہ ہوں تم تو ہر بام پہ آتے ہو چلے جاتے ہو چاند تم آتے ہو سنگ اپنے ستارے لے کر یوں مجھے تم بھی ستاتے ہو چلے جاتے ہو چاند تنہائی عجب چیز ہے کیا جانتے ہو تم تو محفل ہی سجاتے ہو چلے ...

مزید پڑھیے

ایسا چہرہ مرے بھی دھیان میں تھا

ایسا چہرہ مرے بھی دھیان میں تھا جو زمیں میں نہ آسمان میں تھا دل تو خالی پڑا تھا صدیوں سے ایک سایہ مرے مکان میں تھا مجھ میں شامل تھا وہ لہو کی طرح آنکھ میں دل میں اور جان میں تھا نام کیا تھا جو اتنا شیریں تھا ذائقہ اب بھی اس زبان میں تھا دھند پھیلی ہوئی تھی چاروں طرف شور ہی شور ...

مزید پڑھیے

کوڑوں کی سزا پانے والے پہلے شخص کے نام

تو میرے دور کا عیسیٰ ہے جس نے قوم کے سارے گناہوں ساری برائیوں ساری سزاؤں کو اپنے کندھے پہ اٹھا کر کوڑے کھائے ہم سب چور ہیں ہم سب زانی ہم سب رشوت خور لٹیرے پھر سب کے حصے کی سزا تم نے کیوں پائی اور ہم چاروں اور کھڑے تیرا تماشا دیکھ رہے تھے جیسے تم نے جرم کیا تھا اور ہم سارے پارسا ...

مزید پڑھیے

تمہیں ملنے میں آؤں گا

تری پیاسی نگاہیں چوم کر دل سے لگاؤں گا ترے آنچل کے سارے خواب پلکوں پر سجاؤں گا دسمبر کی وہ دھندلائی صبح تیرے لیے ہوگی تری خاطر میں آؤں گا سبھی دھندلائی صبحوں نے سبھی مرجھائی شاموں نے مری آنکھوں میں جلتے آس کے شعلے بجھائے ہیں لہو رنگ آنسوؤں کے دیپ پلکوں پر سجائے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 2195 سے 6203