کاش وہ روز حشر بھی آئے
تو میرے ہم راہ کھڑا ہو ساری دنیا پتھر لے کر جب مجھ کو سنگسار کرے تو اپنی بانہوں میں چھپا کر پھر بھی مجھ سے پیار کرے
تو میرے ہم راہ کھڑا ہو ساری دنیا پتھر لے کر جب مجھ کو سنگسار کرے تو اپنی بانہوں میں چھپا کر پھر بھی مجھ سے پیار کرے
پھولوں والے باغ میں بیٹھ کر ایک بڑا سا پنجرہ دیکھا جس میں کچھ انسان بھرے تھے پیلی رنگت وحشی آنکھیں بکھرے بالوں والے انساں چھوٹے سے اس تنگ پنجرے میں کچھ بیٹھے تھے کچھ لیٹے تھے لیکن سب کچھ سوچ رہے تھے شاید اپنی اپنی سزائیں یا پھر اپنے اپنے جرائم یا ان لوگوں کے بارے میں جو پنجرے سے ...
میں کافر ہوں مجھے خوشبو بھری وادی بلاتی ہے جہاں کرنیں اترتی ہیں تو دھرتی رقص کرتی ہے جہاں جھرنے مچلتے ہیں فضائیں گنگناتی ہیں جہاں نفرت نہیں ہوتی جہاں قاتل نہیں ہوتے جہاں غربت تو ہوتی ہے مگر مجرم نہیں ہوتے وہ وادی ہی تو جنت ہے محبت ہی عبادت ہے جہاں سب لوگ رقصاں ہیں خوشی کے رنگ ...
کتنے دن کے بعد ملے تھے رات کی رانی جگنو اور میں اس کی باتیں کرتے رہے تھے رات کی رانی جگنو اور میں پیلے پتوں کے سائے میں اک انجان اداسی تھی زرد فضا میں بیٹھے رہے تھے رات کی رانی جگنو اور میں آدھی رات کو چاند بھی تھک کر نہر کنارے ڈوب گیا تھا تاروں کے سنگ گاتے رہے تھے رات کی رانی ...
دل نے رونے کا اہتمام کیا میری آنکھوں سے یوں کلام کیا دکھ بھی چہرے پہ اوڑھ کر رکھا تیرے غم کو بھی ایسے عام کیا اشک اترا تو خون جمنے لگا تن بدن کو یوں نیل فام کیا ہم کبھی نیند بھر نہ سو پائے رات جاگے تو دن میں کام کیا پھول خوش رنگ تھے سبھی لیکن ہم کو اک خار نے غلام کیا سرو قامت ...
اس شہر بے اماں میں اماں چاہئے مجھے اس گھر کے پاس اپنا مکاں چاہئے مجھے میری سماعتوں کو خوشی کی نوید دے اس خوش بیاں سے ایسا بیاں چاہئے مجھے سڑکوں پہ خون ہو نہ فضاؤں میں گولیاں رم جھم ہو پیار کی وہ سماں چاہئے مجھے جب شام اوڑھ لے یہ ستاروں کی اوڑھنی دھیمے سروں کا چشمہ رواں چاہئے ...
میرا رستہ تکنے والا کوئی تو ہو میرے گھر میں رہنے والا کوئی تو ہو لب پہ دعائیں آنکھ میں آنسو جلتے ہیں ملنے اور بچھڑنے والا کوئی تو ہو برتن ٹوٹیں آوازیں ہوں شور مچے لڑنے اور جھگڑنے والا کوئی تو ہو مجھ کو گیت سنائے اپنی چاہت کے میرے پیار میں جلنے والا کوئی تو ہو
ترک تعلق کیسے ہوا تھا اب تو کچھ بھی یاد نہیں دل نے یہ صدمہ کیسے سہا تھا اب تو کچھ بھی یاد نہیں جب جب تم سے ملنا چاہا جب جب تم کو یاد کیا وہ لمحہ کیسے گزرا تھا اب تو کچھ بھی یاد نہیں نہر کنارے دھیرے دھیرے شام کی دیوی اتری تھی چاند نے ہم سے کیا پوچھا تھا اب تو کچھ بھی یاد نہیں پھول ...
جتنی تصویریں تھیں میری میری ہر تصویر میں وہ تھی جتنی تحریریں تھی میری میری ہر تحریر میں وہ تھی جتنے میرے رشتے ناطے میری ہر زنجیر میں وہ تھی میری ہر اک جیت میں شامل میری ہر تقدیر میں وہ تھی سب کچھ پایا اس کی دعا سے میری ہر جاگیر میں وہ تھی
حشر کیسا رہا بپا مجھ میں کوئی روتا رہا سدا مجھ میں دل میں اک جنگ تھی جو جاری رہی کوئی تو شخص تھا خفا مجھ میں موت آئی تو ساتھ چھوڑ دیا کوئی تو دے گیا دغا مجھ میں دل بھی آنکھوں کی بات سنتا رہا اک یہی تو تھا بے وفا مجھ میں