قومی زبان

بجھ گئیں عقلوں کی آنکھیں گل گئے جذبوں کے پر

بجھ گئیں عقلوں کی آنکھیں گل گئے جذبوں کے پر کہر کے کیچڑ میں تڑپے ہیں پرندے رات بھر جانے پھر کن دلدلوں سے آخری آواز دیں اپنی بے منشور عمریں اپنے بے منزل سفر میرے باہر چار سو مرتی صداؤں کا سراب تو بکھرنا چاہتا ہے تو مرے اندر بکھر تو کنول کی شکل میں پھوٹے گا اپنی ذات سے جسم کی ...

مزید پڑھیے

پرائے لوگوں نے طے کر لیا سفر میرا

پرائے لوگوں نے طے کر لیا سفر میرا کہ میرے پاؤں سے لپٹا رہا ہے گھر میرا میں عمر بھر کا سکوں دے کے بھی رہا مقروض وہ سود خور محبت ہے بار سر میرا میں تیری عمر کے ہر روپ کی امانت ہوں کہ پل رہا ہے تری سیپ میں گہر میرا وہ بے ستوں بھی مری ذات جوئے شیر بھی میں مجھے اجاڑ گیا تیشۂ ہنر ...

مزید پڑھیے

کس بھروسے پہ نکلتا گھر سے باہر میں اکیلا

کس بھروسے پہ نکلتا گھر سے باہر میں اکیلا چار سو اٹھے ہوئے ہاتھوں میں پتھر میں اکیلا مصلحت زادوں کی ناؤ ساحلوں پر جا لگی ہے رہ گیا سیلاب میں پسر پیمبر میں اکیلا میرے پرچم پر مری رسوائی کی تحریر ہے دشمنوں سے جا ملا ہے میرا لشکر میں اکیلا میں یہ کس کوئے‌ ہراساں میں ہوں تصویر ...

مزید پڑھیے

آدھی آدھی رات تک سڑکوں کے چکر کاٹیے

آدھی آدھی رات تک سڑکوں کے چکر کاٹیے شاعری بھی اک سزا ہے زندگی بھر کاٹیے شب گئے بیمار لوگوں کو جگانا ظلم ہے آپ ہی مظلوم بنیے رات باہر کاٹیے جال کے اندر بھی میں تڑپوں گا چیخوں گا ضرور مجھ سے خائف ہیں تو میری سوچ کے پر کاٹیے کوئی تو ہو جس سے اس ظالم کی باتیں کیجیئے چودھویں کا چاند ...

مزید پڑھیے

سنبھل کے دیکھا تو کانچ سا جسم کرچیوں میں بٹا ہوا تھا

سنبھل کے دیکھا تو کانچ سا جسم کرچیوں میں بٹا ہوا تھا خبر نہیں ہے کہ میرے اندر وہ اک دھماکہ سا کیا ہوا تھا وہ کھو گیا تھا تو یوں لگا تھا کہ عزت نفس لٹ گئی ہے میں روز کے ملنے والے لوگوں میں اک کھلونا بنا ہوا تھا خزاں کی وہ سرد رات بھی میں نے گھر سے باہر گزار دی تھی کہ میرے بستر پہ ...

مزید پڑھیے

شاعری میری تپسیا لفظ ہے برگد مرا

شاعری میری تپسیا لفظ ہے برگد مرا یہ زمیں ساری زمیں مشفق زمیں معبد مرا میں گیا کی روشنی ہوں میں حرا کا نور ہوں تو فنا کے ہاتھ سے کیوں ناپتا ہے قد مرا دھیان کے گونگے سفر سے بھی نکل جاؤں مگر راستہ روکے کھڑی ہے سانس کی سرحد مرا عمر بھر سورج تھا سر پر دھوپ تھی میرا لباس اب یہ خواہش ...

مزید پڑھیے

سخن میں جو روانی ہو گئی ہے

سخن میں جو روانی ہو گئی ہے خدا کی مہربانی ہو گئی ہے جو تیرے واسطے لکھی گئی تھی وہی میری کہانی ہو گئی ہے نیا الزام رکھ دو آدمی پر یہ دنیا اب پرانی ہو گئی ہے ترا موسم جو آیا ہے نظر میں غزل کتنی سہانی ہو گئی ہے تری آنکھوں میں ڈھلتی مسکراہٹ ہماری زندگانی ہو گئی ہے کہاں کا دل کہاں ...

مزید پڑھیے

عشق کے پنپنے کو فاصلہ ضروری ہے

عشق کے پنپنے کو فاصلہ ضروری ہے ساز کے دھڑکنے کو واقعہ ضروری ہے ہر جدائی کے پیچھے کوئی راز ہوتا ہے خواب کے بکھرنے کو وسوسہ ضروری ہے بات ٹوٹ جاتی ہے بات کو بنانے میں بات کو بنانے میں حوصلہ ضروری ہے خواب کے سمندر میں ناؤ ڈوب جاتی ہے خواب کو بچانے کا سلسلہ ضروری ہے نازؔ کی طبیعت ...

مزید پڑھیے

یوں فرقتوں میں سلگتا ہے یاد کا موسم

یوں فرقتوں میں سلگتا ہے یاد کا موسم کہ جیسے دشت جنوں جاگ اٹھا ہے یک دم ہمیں خبر تھی کبھی کام آ ہی جائے گا جلایا دل کو اگر شام ہو گئی مدھم وہ دور ہے تو یوں ساکت ہوا چمن سارا رخ گلاب پہ جیسے رکی ہوئی شبنم جنوں میں مانگ لیا تھا کمال دل داری سو اذن عشق ہے یہ فاصلہ رہے قائم ہمارے سوز ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد آنکھوں میں ڈھلی ہے

کسی کی یاد آنکھوں میں ڈھلی ہے عجب سی دل گرفتہ سی نمی ہے غزل میں سوز اترا ہے کسی کا کسی کی دھڑکنوں کی راگنی ہے مری مسکان کب کی کھو چکی تھی پرانی البموں میں مل گئی ہے نہ جانے پھیلتی ہے کیوں جدائی مری دیوار تک تو آ چکی ہے دمکتا ہے چراغ دل ہمارا فلک تک روشنی پھیلی ہوئی ہے کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2194 سے 6203