قومی زبان

عشق کی راہ میں جو دار و رسن ہے کیوں ہے

عشق کی راہ میں جو دار و رسن ہے کیوں ہے سر کٹانے کی ہر اک دل میں لگن ہے کیوں ہے جس کی خوشبو سے معطر ہیں وفا کی راہیں میرے سینے میں وہ زخموں کا چمن ہے کیوں ہے جس میں لکھی ہے تواریخ کئی صدیوں کی وقت کے سر پہ پڑی ایسی شکن ہے کیوں ہے کیا اسے عشق سے محروم رکھا قدرت نے شمس کے سینے میں جو ...

مزید پڑھیے

سنگ ہو یا آئنہ سب کی کہانی ایک ہے

سنگ ہو یا آئنہ سب کی کہانی ایک ہے آگ سب کی ایک ہے اور سب کا پانی ایک ہے کچھ حقیقت آشنا ہیں اب بھی گو تھوڑے سہی اس نئی دنیا میں بھی دنیا پرانی ایک ہے قلب اور احساس سے یکساں ہے سب کا سلسلہ ہوں جنوں والے کہیں بھی راجدھانی ایک ہے حاکمان عہد نو سب مصلحت کے ہیں غلام ہو کہیں کا کوئی ...

مزید پڑھیے

خود کو دیکھوں کہ میں جہاں دیکھوں

خود کو دیکھوں کہ میں جہاں دیکھوں اک نظر سے کہاں کہاں دیکھوں سر کو رکھ کر زمیں کے قدموں پر کب تلک سوئے آسماں دیکھوں ہو کے بھی تو وہاں نہیں ملتا تجھ کو جا کر جہاں جہاں دیکھوں میں اسی کشمکش میں ڈوب گیا پار اتروں کہ درمیاں دیکھوں سنگ بھی ہیں شکستہ شیشے بھی جسم دیکھوں کہ اپنی جاں ...

مزید پڑھیے

حصار جسم سے آزاد ہونے والا ہوں

حصار جسم سے آزاد ہونے والا ہوں کسی کو پا کے کسی شے کو کھونے والا ہوں جو مٹ گئے ہیں وہ اقدار جمع کرنے ہیں بکھر گئے ہیں جو موتی پرونے والا ہوں ہے قحط آب کا منظر تو چار سو لیکن میں اپنی چشم حقیقت بھگونے والا ہوں میں اپنے درد کے طوفاں دبائے سینے میں ہنسا چکا ہوں زمانے کو رونے والا ...

مزید پڑھیے

کوئی شعلہ ہے کہ شبنم نہیں دیکھا جاتا

کوئی شعلہ ہے کہ شبنم نہیں دیکھا جاتا جادۂ عشق پہ موسم نہیں دیکھا جاتا آنا ہوتا ہے تو آ جاتا ہے طوفان ضرور خشک ساحل ہے کہ ہے نم نہیں دیکھا جاتا دیکھا جاتا ہے کہ کون آ گیا منزل پہلے راہ میں کس نے لیا دم نہیں دیکھا جاتا دیکھا جاتا ہے دیے کس نے جلائے کتنے صرف ظلمات کا ماتم نہیں ...

مزید پڑھیے

کبھی عروج کبھی وہ زوال دیتا ہے

کبھی عروج کبھی وہ زوال دیتا ہے کوئی تو ہے جو فلک پر اچھال دیتا ہے وہی تو سنگ تراشوں کا دست پنہاں ہے وہی تو سیپ سے موتی نکال دیتا ہے عذاب لگنے لگے جب حیات تب بھی وہی فشار زیست سے آ کر نکال دیتا ہے اسی پہ مجھ کو بھروسہ ہے دیکھیے کیا ہو جو روز اک نیا فتنہ اچھال دیتا ہے نفس نفس پہ ...

مزید پڑھیے

وفا کی راہ میں دشواریاں بہت سی ہیں

وفا کی راہ میں دشواریاں بہت سی ہیں مگر جنوں کی بھی تیاریاں بہت سی ہیں جلال اپنی محبت کا سب سے اونچا ہے بدن میں ایسے تو بیماریاں بہت سی ہیں ہمارے پاس فقط دل کا درد ہے لیکن تمہارے پاس تو عیاریاں بہت سی ہیں ہر ایک شخص کی فکریں جدا جدا ٹھہریں جہان عام میں خودداریاں بہت سی ہیں وفا ...

مزید پڑھیے

بھنور سے بچ کے وہ ساحل کے پاس ڈوب گیا

بھنور سے بچ کے وہ ساحل کے پاس ڈوب گیا جہاں کا دیکھ کے خوف و ہراس ڈوب گیا عجب سے خوف میں لپٹا ہے گاؤں کا پنگھٹ سنا ہے پھر سے کوئی دیوداس ڈوب گیا مجھے شراب ہی اتنی ملی تھی دنیا سے کہ مارے شرم کے میرا گلاس ڈوب گیا گوارہ ہو نہ سکا اس کو بحر کا احسان لبوں پہ لے کے قیامت کی پیاس ڈوب ...

مزید پڑھیے

کیا ہوا کیوں ہوا کس لئے کیا خبر جو ہوا سو ہوا تو اسے بھول جا

کیا ہوا کیوں ہوا کس لئے کیا خبر جو ہوا سو ہوا تو اسے بھول جا جاگ کر رات بھر ہو گئی ہے سحر اب نہ خود کو جلا تو اسے بھول جا کون آیا یہاں چل پڑیں آندھیاں کون ویران کر کے گیا گلستاں کس نے رکھ دیں لب گل پہ چنگاریاں یہ کسے ہے پتہ تو اسے بھول جا رات کی بات تھی پھر سحر ہو گئی وقت چلتا رہا ...

مزید پڑھیے

مرا درد دل ہے رواں دواں مرا زخم دل بھی گلاب ہے

مرا درد دل ہے رواں دواں مرا زخم دل بھی گلاب ہے مری خوشبوؤں سی ہے داستاں یہ جہان میری کتاب ہے میں قلم کا ایک سپاہی ہوں مری ذہنیت میں ہے شاعری جہاں فکر کی ہے بلندیاں مرا حرف حرف وہ باب ہے کبھی میرے دل میں تو دیکھنا کہ جہاں تمام سمٹ گئے کرے ذکر جس کا ہر اک زباں مرے درد کا وہ شباب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2158 سے 6203