بہار بن کے جب سے وہ مرے جہاں پہ چھائے ہیں
بہار بن کے جب سے وہ مرے جہاں پہ چھائے ہیں تجلیوں کی چاندنی ہے مکتبوں کے سائے ہیں ٹھہر ٹھہر کے خوش گوار انقلاب آئے ہیں سنبھل سنبھل کے وہ مرے جنوں پہ مسکرائے ہیں ہزار احتیاط کی ہے لاکھ غم چھپائے ہیں مگر تڑپ اٹھا ہے دل وہ جب بھی یاد آئے ہیں سمجھ سمجھ کے بارہا یہ بن پرے کی بات ...