قومی زبان

بزم خوباں سے اٹھے دار و رسن تک پہنچے

بزم خوباں سے اٹھے دار و رسن تک پہنچے آپ ہی آپ مرے پاؤں گگن تک پہنچے ایک میں ہی تھا جو صیاد کی جھولی میں گرا اڑ گئے سارے پرندے جو چمن تک پہنچے صرف دل ہی کو جلانا تو کوئی بات نہیں عشق اک آگ اگر ہے تو بدن تک پہنچے بندشوں ہی کی نمائش ہے حیات آدم ایک دھاگے سے بندھے اور کفن تک ...

مزید پڑھیے

گلی میں عشق کی چلا تو حسن کا فسوں چلا

گلی میں عشق کی چلا تو حسن کا فسوں چلا فریب کھا کے آدمی وہاں سے سرنگوں چلا رہا وہ ساتھ جب تلک مہک رہی تھی رہ گزر ہمارے ساتھ ساتھ جیسے لشکر سکوں چلا نبھا سکی نہ ساتھ عاشقوں کا کائنات بھی قدم قدم ملا کے صرف جذبۂ جنوں چلا تڑپ اٹھی ہے تشنگی لبوں پہ میرے اس قدر نہ آئے جام مجھ تلک یہ ...

مزید پڑھیے

اکتا کے کوئے یار سے عشاق چل پڑے

اکتا کے کوئے یار سے عشاق چل پڑے کار وفا کے دیکھیے مشتاق چل پڑے میں اٹھ گیا تو درد کی محفل اجڑ گئی میرے ہی ساتھ عشق کے مشاق چل پڑے نقش قدم پڑے ہیں یہ قدرت کے جا بجا دنیائے دل سے اٹھ کے بد اخلاق چل پڑے برگ حنا سے لکھ کے نصیحت زمین پر گلشن کو تیرے چھوڑ کے اوراق چل پڑے رشتوں کے ...

مزید پڑھیے

گھٹائیں رقص کرتی ہیں یہ موسم رقص کرتے ہیں

گھٹائیں رقص کرتی ہیں یہ موسم رقص کرتے ہیں وہ زلفوں کو جب اپنی کر کے پر نم رقص کرتے ہیں بڑی مستی بڑی گہرائی ہے ان شوخ آنکھوں میں انہیں میں مست ہو کر دونوں عالم رقص کرتے ہیں ہوائیں آنے لگتی ہیں کبھی جب ان کے دامن کی دئے بھی کر کے اپنی لو کو مدھم رقص کرتے ہیں تمہارے ہجر کی راتوں ...

مزید پڑھیے

اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے

اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے وہ زندگی جو ترے شہر میں گزار آئے یہ بے بسی بھی نہیں لطف اختیار سے کم خدا کرے نہ کبھی دل پہ اختیار آئے قدم قدم پہ گلستاں کھلے تھے رستے میں عجیب لوگ ہیں ہم بھی کہ سوئے دار آئے نہ چہچہے نہ سرود شگفتگی نہ مہک کسے اب ایسی بہاروں پہ اعتبار آئے جنوں کو ...

مزید پڑھیے

اب اہل دل ہیں کہ نایاب ہوتے جاتے ہیں

اب اہل دل ہیں کہ نایاب ہوتے جاتے ہیں غبار خاطر احباب ہوتے جاتے ہیں تمہارے آنے سے کچھ اضطراب کم ہوتا یہ کیا کہ اور بھی بیتاب ہوتے جاتے ہیں سکوں مآب سمجھتے تھے جن کناروں کو سمٹ کے حلقۂ گرداب ہوتے جاتے ہیں ہمیں بھی رات کو دن کہنا آتا جاتا ہے کہ ہم بھی حامل آداب ہوتے جاتے ہیں ہمیں ...

مزید پڑھیے

رہ وفا کے ہر اک پیچ و خم کو جان لیا

رہ وفا کے ہر اک پیچ و خم کو جان لیا جنوں میں دشت و بیاباں تمام چھان لیا ہر اک مقام سے ہم سرخ رو گزر آئے قدم قدم پہ محبت نے امتحان لیا گراں ہوئی تھی غم زندگی کی دھوپ مگر کسی کی یاد نے اک شامیانہ تان لیا تمہیں کو چاہا بہرحال اور تمہارے سوا زمین مانگی کسی سے نہ آسمان لیا بہ احتیاط ...

مزید پڑھیے

سمندر پر سکوں ہے دل کا طغیانی نہیں کوئی

سمندر پر سکوں ہے دل کا طغیانی نہیں کوئی ہوا پر شور ہے لیکن پریشانی نہیں کوئی تعجب ہے تو بس اپنی وفاداری کے جذبے پر ہمیں اس کے بدل جانے پہ حیرانی نہیں کوئی تسلسل خواب خوش آثار کا یوں ٹوٹ جانے پر تأسف ہے مگر اے دل پشیمانی نہیں کوئی ہم اپنے آپ ہی کے در پئے آزار رہتے ہیں ہمارا ہم سے ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد جب دل سے مرے لپٹی غزل کہہ دی

تمہاری یاد جب دل سے مرے لپٹی غزل کہہ دی تڑپ کر جب کبھی آہ و فغاں اٹھی غزل کہہ دی شب تنہائی کا دیتی ہے جس کو نام یہ دنیا مرے سینے پہ جب آ کر کبھی بیٹھی غزل کہہ دی کہا جب گیت تو پھر گیت سا مضمون لے آیا کہیں جب بھی غزل میں نے غزل جیسی غزل کہہ دی بکھر کر چاندنی جب صحن میں ہنسنے لگی مجھ ...

مزید پڑھیے

گلی میں حسن کی جو نقش پا چمکتا ہے

گلی میں حسن کی جو نقش پا چمکتا ہے ہمارے عشق ہی کا مرتبہ چمکتا ہے اسی لئے تو مجھے نیند ہی نہیں آتی تمام رات کوئی خط کھلا چمکتا ہے ہزاروں شاہ جو جھکتے ہیں سامنے اس کے کسی فقیر کی جھولی میں کیا چمکتا ہے کئی دنوں سے یہ عالم ہے درد کا دل میں کسی مزار پہ جیسے دیا چمکتا ہے میں آنکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2159 سے 6203