بزم خوباں سے اٹھے دار و رسن تک پہنچے
بزم خوباں سے اٹھے دار و رسن تک پہنچے آپ ہی آپ مرے پاؤں گگن تک پہنچے ایک میں ہی تھا جو صیاد کی جھولی میں گرا اڑ گئے سارے پرندے جو چمن تک پہنچے صرف دل ہی کو جلانا تو کوئی بات نہیں عشق اک آگ اگر ہے تو بدن تک پہنچے بندشوں ہی کی نمائش ہے حیات آدم ایک دھاگے سے بندھے اور کفن تک ...