قومی زبان

صعوبت کا بدل آسودگی کا پل نہیں پکڑا

صعوبت کا بدل آسودگی کا پل نہیں پکڑا سفر میں دھوپ کے ہم نے کبھی چھاگل نہیں پکڑا کہیں ہم سے زیادہ اور کو ان کی ضرورت ہو یہی کچھ سوچ کر ہم نے کبھی بادل نہیں پکڑا کہ جب سے مردوں کی سوداگری ہاتھ آ گئی اس کے شکاری نے پلٹ کر پھر کبھی جنگل نہیں پکڑا پرندے جو گئے لوٹے نہیں پھر آشیانوں ...

مزید پڑھیے

تب سے وفا کا تذکرہ گونگے کا خواب ہو گیا

تب سے وفا کا تذکرہ گونگے کا خواب ہو گیا جب سے میں دل بدر ہوا خانہ خراب ہو گیا پائے نگاہ آ لگے جب لب منزل طلب آنکھیں پر آب ہو گئیں دریا سراب ہو گیا اپنے جہاز لے کے تب آئے جہاز ران کب میرا جزیرۂ وجود جب تہہ آب ہو گیا چشم وزیر مملکت اس پہ ہوئی جو مہرباں تب سے وہ ننگ شہر بھی عالی ...

مزید پڑھیے

ہر کوئی کیوں چپ بیٹھا ہے صاحب جی کچھ تو بولو

ہر کوئی کیوں چپ بیٹھا ہے صاحب جی کچھ تو بولو خاموشی کا کیا قصہ ہے صاحب جی کچھ تو بولو آج قلم کا روزہ ہے کیا یا کاغذ تقوے سے ہے قاصد کیوں فرصت لکھتا ہے صاحب جی کچھ تو بولو انگنائی کے پیڑ پہ پنچھی ذکر میں کیوں مصروف نہیں یہ سناٹا سا کیسا ہے صاحب جی کچھ تو بولو مجبوری سے مختاری تک ...

مزید پڑھیے

تیرے ساتھ چہرے ہیں میرے سنگ آئنہ

تیرے ساتھ چہرے ہیں میرے سنگ آئنہ دیکھ آج ہوتا ہے کس پہ تنگ آئینہ بول خود شناسی پھر کس طرح سے ممکن ہو پیش کر رہا ہو جب سات رنگ آئینہ خود پرستیوں نے بھی خوب روشنی بخشی بن گیا اندھیروں میں ایک سنگ آئینہ لخت لخت آوازیں فرد فرد پہچانیں شور شور خاموشی وجہ جنگ آئینہ تیرے شہر کا قصہ ...

مزید پڑھیے

جب تک تعلقات ہمارے بنے رہے

جب تک تعلقات ہمارے بنے رہے ہم ایک دوسرے کے سہارے بنے رہے جب تک کھلے ہوئے تھے دلوں میں غرض کے پھول تم بھی ہمارے ہم بھی تمہارے بنے رہے خواہش کے اور چھور سے واقف تھے ہم مگر دریا کے آر پار کنارے بنے رہے ارمان ہانپتے رہے دو کھڑکیوں کے بیچ آنکھوں کے درمیان اشارے بنے رہے خوشبو ...

مزید پڑھیے

رائیگاں جاتی نہ کیوں پھر ہمہ کوشی اس کی

رائیگاں جاتی نہ کیوں پھر ہمہ کوشی اس کی تھی غرض کار بہت حلقہ بگوشی اس کی ہر طرف اس نے دیا جسم نمائی کو رواج خوب مشہور ہوئی سایہ فروشی اس کی بر سر عام مری چپ کی جو تشہیر ہوئی مشتعل ہو اٹھی آواز بگوشی اس کی منعکس ہو نہ سکی کوئی بھی صورت اس سے یعنی بیکار گئی آئنہ پوشی اس کی آ گیا ...

مزید پڑھیے

انتہائی بھیڑ میں اک ابتدا ہے آخری

انتہائی بھیڑ میں اک ابتدا ہے آخری پھر نہ ہوگا بعد میں یہ سانحہ ہے آخری اپنا اپنا چہرہ لے کر آ گئے ہیں سب کے سب وقت کے ہاتھوں میں جبکہ آئنہ ہے آخری دیکھیے بنتا ہے کون اس کی ملامت کا ہدف تیر اس ظالم کے ترکش میں بچا ہے آخری ایک مٹھی آسماں بس ایک مٹھی آسماں اس پرندے کی یہی بس التجا ...

مزید پڑھیے

صحن روشن نہ اک مکاں روشن

صحن روشن نہ اک مکاں روشن چہرہ چہرہ اداسیاں روشن ذہن در ذہن وصل بے زاری جسم در جسم سردیاں روشن گاؤں در گاؤں تیرگی کے پڑاؤ شہر در شہر بجلیاں روشن بھر سفر دھوپ کفر کرتی ہوئی نا طرف سر پہ سائباں روشن سوچتے رہ گئے نظر والے کر گئے یار جسم و جاں روشن کتنے عالم حیات سے چھوٹے تب ہوا ...

مزید پڑھیے

کہو فرار سے باندھے نہ پاؤں میں آنکھیں

کہو فرار سے باندھے نہ پاؤں میں آنکھیں قدم قدم پہ بچھی ہیں دشاؤں میں آنکھیں نہ جانے کون سی ہوگی تلاش کی منزل بھٹک رہی ہیں ابھی تک خلاؤں میں آنکھیں کراہ اٹھی تھی سرگوشی کوئی چپکے سے لگی تھی ٹھیس کہ اگ آئیں پاؤں میں آنکھیں پرندے اب نہیں منظر گزارنے والے ہزار خواب سجائیں فضاؤں ...

مزید پڑھیے

ہر سو موسم نور پہ تھا جب میلادوں ست سنگوں کا

ہر سو موسم نور پہ تھا جب میلادوں ست سنگوں کا تھا جھنکار پہ راگ بسنتی صوفی سنت ملنگوں کا گھر گھر نچنے ناچ رہے ہیں مہا نگر کے تالوں پر گاؤں کے بارہ ماسوں میں دم ٹوٹ گیا مردنگوں کا میرے عہد کے بچے ہندو مسلم سکھ عیسائی ہیں امن کی بگیا میں ہے اب تو ہر پل موسم دنگوں کا کیا خوش مرضی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1978 سے 6203