صعوبت کا بدل آسودگی کا پل نہیں پکڑا
صعوبت کا بدل آسودگی کا پل نہیں پکڑا سفر میں دھوپ کے ہم نے کبھی چھاگل نہیں پکڑا کہیں ہم سے زیادہ اور کو ان کی ضرورت ہو یہی کچھ سوچ کر ہم نے کبھی بادل نہیں پکڑا کہ جب سے مردوں کی سوداگری ہاتھ آ گئی اس کے شکاری نے پلٹ کر پھر کبھی جنگل نہیں پکڑا پرندے جو گئے لوٹے نہیں پھر آشیانوں ...