قومی زبان

تلاش پھر کوئی کھوئی سی رہ گزار میں تھی

تلاش پھر کوئی کھوئی سی رہ گزار میں تھی پھر آج اک شام صبح کے انتظار میں تھی وجود گرچہ ہواؤں کی زد پہ تھا ہمارا چراغ کی لو ہتھیلیوں کے حصار میں تھی نگاہ کے سارے اختیارات سلب سے تھے کشش نہ جانے وہ کون سی خار زار میں تھی امید سے تھیں یہاں وہاں تک تمام آنکھیں طلب برہنہ وصال کے کار ...

مزید پڑھیے

حسن ہے اس بار پورے جلوہ سامانی کے ساتھ

حسن ہے اس بار پورے جلوہ سامانی کے ساتھ آئنے ٹوٹے ہیں پہلی بار حیرانی کے ساتھ اور ہی چہرہ نکالیں سرخیاں دھانی کے ساتھ اب کے ساون کاش برسے آگ بھی پانی کے ساتھ کب مرے سر کی ضرورت پیش آ جائے اسے کوچہ کوچہ پھر رہا ہوں دشمن جانی کے ساتھ رات آتی ہے تو تنہائی لپٹ کر جانے کیوں رو دیا ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ بھولے سے کبھی بھی تیرا نام نہ آئے گا

ہونٹوں پہ بھولے سے کبھی بھی تیرا نام نہ آئے گا میری رسوائی کا جا تجھ پر الزام نہ آئے گا اب کے کھلے ہی رہ جائیں گے آشاؤں کے دروازے پتھرا جائیں گی سب آنکھیں لیکن شیام نہ آئے گا ہو جائے گا خشک اچانک اک دن پیڑ تعلق کا خالص خون کا آخری قطرہ بھی کچھ کام نہ آئے گا شوق سے تم الزام تراشو ...

مزید پڑھیے

بستر پر بے چین نراشا کے سلوٹ سلوٹ جاگے

بستر پر بے چین نراشا کے سلوٹ سلوٹ جاگے تنہائی کی رام دہائی ہم کروٹ کروٹ جاگے کوئی سایہ کوئی خوشبو کوئی صدا کوئی دستک امیدوں کی سیج سجائے ہم آہٹ آہٹ جاگے پیت کے میٹھے مدھر منوہر بول لئے آتا ہے کوئی سانجھ کا ٹیلہ بولا کھڑکی دروازے چوکھٹ جاگے بھور ہوئی تو دھیرے دھیرے گیتوں کے ...

مزید پڑھیے

کر گئی گل تاب رنگوں کی فراوانی ہمیں

کر گئی گل تاب رنگوں کی فراوانی ہمیں نور سا رنگ دے گیا شوق غزل رانی ہمیں دامن دل بے ضمیری سے بچا پائے نہ ہم لگ گیا آخر کو شہر غیر کا پانی ہمیں مفت میں بیٹھے بٹھائے ساری دنیا دیکھ لی مل نہ پائی تھی کبھی ایسی تن آسانی ہمیں خود پسندی دیکھی تیری خود سری بھی دیکھ لی اور کیا دکھلائے گا ...

مزید پڑھیے

اک دوجے کے باسی ان کو اور بسیرا کیا معلوم

اک دوجے کے باسی ان کو اور بسیرا کیا معلوم اپنے پن کے باشندوں کو میرا تیرا کیا معلوم سورج بولے تو سو جائیں سورج بولے تو جاگیں کیا جانیں یہ دیا جلانا ان کو اندھیرا کیا معلوم خواب کا جھوٹ جیون سچ میں تل تل مرنا جن کا بھاگ یہ راتوں کے قیدی ان کو سانجھ سویرا کیا معلوم بستی سے باہر ...

مزید پڑھیے

سب کو خلاف مت کر

سب کو خلاف مت کر آئینہ صاف مت کر قد یوں بڑا نہ ہوگا لاف و گزاف مت کر رہنے دے جو ہے جیسا کوئی خلاف مت کر جو کہہ رہا ہے سن لے بس اعتراف مت کر جب جانتا نہیں کچھ تو اختلاف مت کر سچائی سامنے ہے اب انحراف مت کر سب ہو چکا ہے ثابت اب لام قاف مت کر مت بوجھ ذہن پر رکھ دل کے خلاف مت کر

مزید پڑھیے

ظاہر کو آج ٹالتا ہوں

ظاہر کو آج ٹالتا ہوں باطن ترا کھنگالتا ہوں اے آسمان سرخ رو ہو اپنا لہو اچھالتا ہوں آئینہ دار تو ہی بن جا میں خود پہ خاک ڈالتا ہوں آ دیکھ زندگی کہ کیسے سائے میں جسم ڈھالتا ہوں ہوتا ہے سرد جب اندھیرا سورج ترا نکالتا ہوں تو اپنے آستیں سے نالاں اک میں کہ خود کو پالتا ہوں پرویزؔ ...

مزید پڑھیے

تھے زمیں پر نہ آسمان میں تھے

تھے زمیں پر نہ آسمان میں تھے ہم دعاؤں کے سائبان میں تھے گزرے لمحات سے چلو پوچھیں ہم کہاں اور کس جہان میں تھے کس طرح کرتے ہم غزل رانی اک طوالت بھری تکان میں تھے چاہتے تم کہیں سے پڑھ لیتے ہم تو ہر ایک داستان میں تھے کرتے کردار اپنی مرضی کے پیار کے قصے ہر زبان میں تھے عشق ...

مزید پڑھیے

سب سے جدا اور سب سے الگ میری تیری آواز

سب سے جدا اور سب سے الگ میری تیری آواز تو پر شور سمندر میں سوکھی جلتی آواز کوئی بھولا بھٹکا بادل کہہ بیٹھے لبیک آخر کب تک خالی جائے مٹی کی آواز آدھے رستے ہی میں سورج کر دیتا ہے خاک جب بھی کبھی آکاش کو دیتی ہے دھرتی آواز ذہنوں میں جب سناٹوں کا برپا ہو کہرام پھر کیسے سن پائے کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1979 سے 6203