قومی زبان

چند لا خطاب آنکھیں چند بے لقب چہرے

چند لا خطاب آنکھیں چند بے لقب چہرے حسرتوں کے آئینے بے حسب نسب چہرے پارے ثابت و سالم آئنوں میں ہیں جب کہ ہوتے جاتے ہیں آخر مسخ کس سبب چہرے پانیوں نے بالآخر ریشہ ریشہ کر ڈالا عکس ریزیاں کب تک کرتے جاں بہ لب چہرے ڈوب جب گئیں آنکھیں ساتھ ساتھ سورج کے نکلے سیر کرنے کو گھاٹیوں سے تب ...

مزید پڑھیے

آنکھوں آنکھوں لپٹی ہوئی حیرانی ہے

آنکھوں آنکھوں لپٹی ہوئی حیرانی ہے آئینہ آئینہ رو گردانی ہے خانہ داری پر ہے خلوت کا موسم وقت گزاری قصہ اور کہانی ہے مشکل تو یہ ہے اب مشکل کوئی نہیں جو بھی صورت ہے جانی پہچانی ہے سات بکھیڑے سات جھمیلے سب کے ساتھ چودہ گھر میں بکھری ایک کہانی ہے قصوں سے ہم زاد نکل آیا باہر حال کے ...

مزید پڑھیے

آہٹیں تازہ مقدر کی طرف

آہٹیں تازہ مقدر کی طرف آئنوں کے دھیان پتھر کی طرف وسوسے سینہ سپر موجود سے واہمے کی پشت خنجر کی طرف شیشہ شیشہ خوف ہر چہرے پہ نقش اک نشانہ سیکڑوں سر کی طرف حال پر دشمن کی پوشیدہ رخی آئنہ روشن سکندر کی طرف مسکرا کر آبلہ تن بڑھ گئے خار کے سرخاب بستر کی طرف روشنی باہر بڑی تیزاب ...

مزید پڑھیے

خشک آنکھوں کی کہانی دشت دشت اپنی ہی تھی

خشک آنکھوں کی کہانی دشت دشت اپنی ہی تھی نم ہواؤں میں صدائے بازگشت اپنی ہی تھی ڈھونڈتے پھرتے رہے تھے سایہ سایہ زندگی دھوپ کی گلیوں میں صبح و شام گشت اپنی ہی تھی جاگتی رہتی تھیں آنکھیں خانہ خانہ خوف خوف خواب کی روشن نمائی طشت طشت اپنی ہی تھی جنگلوں سے شہر تک شانہ بہ شانہ پشت ...

مزید پڑھیے

گرم یادوں کی ردا سرد رتوں کی آواز

گرم یادوں کی ردا سرد رتوں کی آواز بھیگی آنکھوں کی نوا سات سروں کی آواز ترچھے سورج نے سنی سایہ درازی کی دعا اور اونچی ہوئی کوتاہ قدوں کی آواز تب کہیں جا کے ہوئیں پھر مری جھلمل پلکیں ریزہ ریزہ ہوئی جب شیشہ گروں کی آواز میرے ہونٹوں پہ خموشی کا نہ کتبہ لکھنا گھٹ کے رہ جائے گی آواز ...

مزید پڑھیے

بس دیکھتے ہی دیکھتے صدیاں گزر گئیں

بس دیکھتے ہی دیکھتے صدیاں گزر گئیں آبادیاں پہاڑوں سے نیچے اتر گئیں سوچے ہوئے دنوں کے بدن دار آ بسے پھر یوں ہوا کہ راتیں مرادوں سے بھر گئیں باغیچۂ جہان مکانوں سے بھر گیا پھر اور دیس تتلیاں پرواز کر گئیں ہم زندگی سمیٹتے کس طرح شہر میں وہ انتشار تھا کہ نگاہیں بکھر گئیں آئینے ...

مزید پڑھیے

اسے تب دیکھتے شاداب تھا جب

اسے تب دیکھتے شاداب تھا جب وہ صحرا ہر طرف خوش خواب تھا جب کھڑے خوش فعلیاں کرتے تھے بگلے ندی میں گھٹنے گھٹنے آب تھا جب امیدی سیپیاں عرفان سی تھیں سمندر فکر کا پایاب تھا جب چمکتی خوشبوئیں تھیں مچھلیوں کی جزیرہ خواب کا دشتاب تھا جب قدم خود سے بڑھاتے تھے نہ رستے برستا چار سو ...

مزید پڑھیے

اندھیروں سے اگر آئینہ سامانی ہوئی ہوگی

اندھیروں سے اگر آئینہ سامانی ہوئی ہوگی بڑی مشکل سے کوئی شکل نورانی ہوئی ہوگی چراغوں کے پتے ملتے نہیں شب گاہ ہستی میں ہوائے شام تجھ سے کوئی نادانی ہوئی ہوگی نہیں مجھ سا کوئی تنہا زمانے میں ہوا ہوگا نہ آبادے میں اس صورت بیابانی ہوئی ہوگی نظر کے سامنے پھیلا ہوا دشتاب سا کیا ...

مزید پڑھیے

عکس در عکس آئنہ تقسیم

عکس در عکس آئنہ تقسیم ایک بندے پہ سو خدا تقسیم چشم در چشم موج موج فرات روح در روح کربلا تقسیم انفرادی شکار چہ معنی چار بازوں میں فاختہ تقسیم خنجروں پر لہو کی صد آہٹ سو زبانوں میں ذائقہ تقسیم خوان لے کر فرشتے اترے تھے مفلسی کر گئی انا تقسیم کھولتا کون پاؤں کی بندش ہر قدم پہ ...

مزید پڑھیے

خوشبوؤں کا شہر اجڑا گھر سے بے گھر ہو گئے

خوشبوؤں کا شہر اجڑا گھر سے بے گھر ہو گئے بادشاہت ہاتھ سے نکلی گداگر ہو گئے تیرگی میں جا پڑے روشن تقاضے صبح کے جھوٹ سچے تھے جبھی لوگوں کو ازبر ہو گئے جتنے عرصے ہم رہے خود سر انا کے زیر پا ذرے سورج بن گئے قطرے سمندر ہو گئے تھا قصور اپنا یہی بس آئنہ شانے پہ تھا چہرے کیا ابھرے سبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1977 سے 6203