جام
مرے ذوق ادب کو دیر میں آرام آئے گا کہیں پچھلے پہر تک شاعرہ کا نام آئے گا ابھی تو سلسلہ ہے شاعروں کی بے نوائی کا صراحی آئے گی خم آئے گا تب جام آئے گا
مرے ذوق ادب کو دیر میں آرام آئے گا کہیں پچھلے پہر تک شاعرہ کا نام آئے گا ابھی تو سلسلہ ہے شاعروں کی بے نوائی کا صراحی آئے گی خم آئے گا تب جام آئے گا
پہلی بار آئی دلہن سسرال وہ بھی بے نقاب شرم آنکھوں سے جھلکتی ہے نہ ہے چہرے پہ آب جیسے رخ پر جھریاں ہوں جیسے بالوں میں خضاب کرکرا سا ہو گیا شادی کا حاصل کیا کروں اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں کان کس کے گرم کر دوں چانٹا کس کے جاڑ دوں کس کا دامن پھاڑ دوں کس کا گریباں پھاڑ ...
جانے کیا پھر جی میں آئی چل پڑے ہم نے اک سگریٹ جلائی چل پڑے غیب سے آئی تھی ہم کو اک صدا چھوڑ کر ساری خدائی چل پڑے اس سے پہلے روکتے دیوار و در آگ خود گھر کو لگائی چل پڑے آج جانے کا کہیں دل تو نہ تھا بس کسی کی یاد آئی چل پڑے اس قدر تھی رہ گزر سے نسبتیں جب سفر کی بات آئی چل پڑے شب گئے ...
ہو نہ پائیں گے یقیں تو اک گماں ہو جائیں گے یہ کبھی مت سوچنا ہم رائیگاں ہو جائیں گے ہم ابھی تو چپ ہیں لیکن بولنے پر آئے تو جتنے بھی اہل زباں ہیں بے زباں ہو جائیں گے سب سے اچھا ہے کہ اپنا راز خود ہم کھول دیں ورنہ سب کے سامنے اک دن عیاں ہو جائیں گے گر یوں ہی چلتی رہی پیہم خیالوں کی ...
کون ہے مجھ میں جو مرتا ہی چلا جاتا ہے روح تک درد اترتا ہی چلا جاتا ہے کوئی منحوس ہوا ہے مرے گھر کے اندر جو سمیٹوں وہ بکھرتا ہی چلا جاتا ہے مرنے والے ہیں کہ جیتے ہی چلے جاتے ہیں جینے والا ہے کہ مرتا ہی چلا جاتا ہے زخم سہمے ہوئے چپ چاپ پڑے رہتے ہیں درد بے خوف ابھرتا ہی چلا جاتا ...
تیرے چہرے کو بے نقاب کریں زندگی چل ترا حساب کریں ہم پہ کیسی ہے یہ سنک حاوی جو بنایا ہے وہ خراب کریں اس سے ہم بعد میں کریں گے وضو پہلے اس آب کو شراب کریں سب کا اپنا مقام ہوتا ہے کیوں چراغوں کو آفتاب کریں ہم کہاں ہیں ہمیں نہیں معلوم کس طرح خود کو دستیاب کریں کوئی شکوہ نہ دل میں ...
پاگل ہوں پوری کی پوری جھکی ہوں اس سے بڑھ کر کیا بتلاؤں کیسی ہوں تیری خاطر کیا کیا سوچا تھا میں نے تیری خاطر کیا کیا سوچا کرتی ہوں راس آتا ہے گڑیوں کا یہ کھیل مجھے اندر سے شاید میں اب بھی بچی ہوں بہتر ہوگا اپنی انا پر قابو رکھ ورنہ میں بھی اپنی ضد کی پکی ہوں ایسا لگتا ہے مجھ کو ...
میں کہاں تھی کہاں سے کہاں ہو گئی آخرش یہ ہوا میں دھواں ہو گئی دل میں جذبہ تھا جو وہ فنا ہو گیا اک محبت تھی جو داستاں ہو گئی سارے ارمان میرے دھرے رہ گئے ساری کوشش مری رائیگاں ہو گئی مجھ کو دیکھا تو دینے لگی گالیاں میری تنہائی کیا بد زباں ہو گئی تجربہ یہ نیا اس سفر میں ہوا دھوپ ...
کس طرح پیاس کو پانی سے الگ رکھا جائے موج دریا کو روانی سے الگ رکھا جائے اب مرا ذکر کیا جائے کسی اور طرح مجھ کو اب میری کہانی سے الگ رکھا جائے ورنہ ہو جائے گی اب اس سے محبت مجھ کو مجھ کو اس دشمن جانی سے الگ رکھا جائے کیسے راجا کے فرائض کو کیا جائے کم کیسے تنہائی کو رانی سے الگ ...
سر سے پاؤں تلک ہوا ہوں میں چلتی پھرتی ہوئی خلا ہوں میں میرا اپنا کوئی وجود نہیں عہد ماضی کا سلسلہ ہوں میں میں کوئی اور ہوں کہ میں ہی ہوں سوچ میں پڑ گئی ہوں کیا ہوں میں رکنا چاہوں تو ایک منزل ہوں چلنا چاہوں تو راستہ ہوں میں کون سن پائے گا بھلا مجھ کو اک بہت دور کی صدا ہوں میں مٹ ...