قومی زبان

جل گئیں آنکھیں سبھی خوش رنگ چہرے اڑ گئے

جل گئیں آنکھیں سبھی خوش رنگ چہرے اڑ گئے ایسی گرمی تھی کہ آئینوں کے پارے اڑ گئے شام تک بھی جب کوئی نکلا نہ دانہ ڈالنے آنکھ بھر بھر کر منڈیروں سے پرندے اڑ گئے خوشبوؤں کے رتھ سے اترے بال پوچھا اور پھر تتلیوں کے دوش پر کافوری لمحے اڑ گئے بے خیالی مجھ کو میری سوچ تک لے آئی ...

مزید پڑھیے

دل پاروں کی ہم جو نگہبانی کرتے

دل پاروں کی ہم جو نگہبانی کرتے نور سہارے اپنی نگرانی کرتے ہوتے ہم بھی گر اجداد کی فطرت پر شعلہ زاروں میں گل افشانی کرتے پیار بھروسہ شفقت کھو دیتے سب کچھ کیسے بڑوں کی ہم نافرمانی کرتے کل جو اگر سختی سے پیش آئے ہوتے ہم بھی اپنے گھر میں سلطانی کرتے دور نگاہی دیدہ پھاڑے بیٹھی ...

مزید پڑھیے

پے بہ پے آئینہ بندی میرے اس کے درمیاں

پے بہ پے آئینہ بندی میرے اس کے درمیاں اک مسلسل خود فریبی میرے اس کے درمیاں رشتۂ خود اعتمادی میرے اس کے درمیاں کب رہی تھی خوش گمانی میرے اس کے درمیاں پیدا ہوتا کس طرح خود اعتمادی کا سوال کب رہی تھی خوش گمانی میرے اس کے درمیاں کون خفت مول لیتا پیش قدمی کرتا کون بزدلی پھیلی ہوئی ...

مزید پڑھیے

گزر جہاں کے خنجر دو دم سے کھیلتا ہوا

گزر جہاں کے خنجر دو دم سے کھیلتا ہوا خوشی سے کھیلتا ہوا الم سے کھیلتا ہوا ہوائے دیر و کعبہ و حرم سے دور دورہ ہوائے دیر و کعبہ و حرم سے کھیلتا ہوا کسی کے گیسوؤں کے پیچ و خم کا ہو کے رہ گیا کسی کے گیسوؤں کے پیچ و خم سے کھیلتا ہوا نگاہ مست میں جہان بھر کی مستیاں لئے وہ کون آ رہا ہے ...

مزید پڑھیے

پت جھڑ کے نظاروں کی طرف دیکھ رہا ہوں

پت جھڑ کے نظاروں کی طرف دیکھ رہا ہوں بے کیف بہاروں کی طرف دیکھ رہا ہوں تقدیر کے ماروں کی طرف دیکھ رہا ہوں میں ڈوبتے تاروں کی طرف دیکھ رہا ہوں پھر دوستوں یاروں کی طرف دیکھ رہا ہوں سانپوں کی قطاروں کی طرف دیکھ رہا ہوں ہیں دفن جہاں میری تمناؤں کے اہرام ان اجڑے دیاروں کی طرف دیکھ ...

مزید پڑھیے

آئے آنے کو ہزاروں غم ہزاروں غم گئے

آئے آنے کو ہزاروں غم ہزاروں غم گئے غم زیادہ سے زیادہ آئے کم سے کم گئے دم دلاسے حوصلے دیتے مسیحا دم گئے آئے بے حد خوش مگر با دیدۂ پر نم گئے اب نہ آنا تم پئے بیمار پرسی دوستو اب یہی الفاظ کافی ہیں تم آئے ہم گئے اڑ گئے تو اڑ گئے کافور کی مانند ہم جم گئے تو انجمن میں صورت یخ جم ...

مزید پڑھیے

کون و مکاں سے دور زمین و زمن سے دور

کون و مکاں سے دور زمین و زمن سے دور منزل مری ہے جنت و خلد و عدن سے دور تا عمر جس کا جسم رہا پیرہن سے دور نوحہ گر اس کی لاش بھی رکھیں کفن سے دور پل چھن نکل رہی ہیں غریبوں کی ارتھیاں اس طور ہو رہی ہے غریبی وطن سے دور آنکھیں برس رہی ہیں چمن کی حدود میں بادل برس رہے ہیں حدود چمن سے ...

مزید پڑھیے

حرم سرائے ناز ہے کہ در گۂ نیاز ہے

حرم سرائے ناز ہے کہ در گۂ نیاز ہے نگاہ نیم باز بھی نگاہ نیم باز ہے ادھر ادھر جہاں تہاں مجاز ہی مجاز ہے کہیں کہیں نشیب ہے کہیں کہیں فراز ہے نہ تشنگی نہ اشتہا نہ حرص ہے نہ آر ہے زبان غزنوی پہ اب ایاز ہی ایاز ہے نہ میکدے کی بات کر نہ بت کدہ کی بات کر وہاں بھی امتیاز ہے یہاں بھی ...

مزید پڑھیے

کو بہ کو ہوتا نہیں یا در بدر ہوتا نہیں

کو بہ کو ہوتا نہیں یا در بدر ہوتا نہیں خون ناحق کس طرف شام و سحر ہوتا نہیں ہر شجر اے دیدۂ تر بارور ہوتا نہیں ہر صدف کی گود میں جیسے گہر ہوتا نہیں سنتے آئے ہیں کہ شر کا بدلہ شر ہوتا نہیں آج کل کے دور میں ایسا مگر ہوتا نہیں ہے مرا ہونا نہ ہونا اس پرندے کی طرح ایک پر ہوتا ہے جس کا ایک ...

مزید پڑھیے

امکانوں سے آگے میرے دوش پڑی ہیں

امکانوں سے آگے میرے دوش پڑی ہیں جانی پہچانی آوازیں گوش پڑی ہیں تب سے ہوں کس سناٹے میں کیا بتلاؤں کچھ پہچانیں جب سے میرے ہوش پڑی ہیں تاریکی کیا ظاہر کر پائے گی ان کو روشنیوں میں جو شکلیں روپوش پڑی ہیں خواب اجداد کے بیٹوں کا رستہ تکتے ہیں دور فلک پر تعبیریں خاموش پڑی ہیں نطفے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1976 سے 6203