جل گئیں آنکھیں سبھی خوش رنگ چہرے اڑ گئے
جل گئیں آنکھیں سبھی خوش رنگ چہرے اڑ گئے ایسی گرمی تھی کہ آئینوں کے پارے اڑ گئے شام تک بھی جب کوئی نکلا نہ دانہ ڈالنے آنکھ بھر بھر کر منڈیروں سے پرندے اڑ گئے خوشبوؤں کے رتھ سے اترے بال پوچھا اور پھر تتلیوں کے دوش پر کافوری لمحے اڑ گئے بے خیالی مجھ کو میری سوچ تک لے آئی ...