قومی زبان

آٹھواں شوہر

کنوارے بوڑھے نے شادی کی ایسی عورت سے کسی طرح بھی جو کچھ کم نہ تھی قیامت سے نصیب والی تھی چھ شادی کر چکی تھی وہ اب اپنے ساتویں شوہر کی زندگی تھی وہ کچھ ایسا ساتواں شوہر بھی ہو گیا بیمار یقیں تھا سب کو کہ یہ بھی اجل کا ہوگا شکار یہ بات سوچ کے عورت غریب رونے لگی پچھاڑ مار کے ہوش و حواس ...

مزید پڑھیے

نوکر

تم کنواری رہ کے شوہر ڈھونڈتی رہ جاؤ گی دیکھ لینا زندگی بھر ڈھونڈتی رہ جاؤ گی جلد سے جلد اپنے گھر میں نوکری دے دو مجھے ورنہ بے قیمت کا نوکر ڈھونڈتی رہ جاؤ گی

مزید پڑھیے

ڈاکوؤں کی کانفرنس

میں نے کل اک خواب دیکھا جو کبھی دیکھا نہ تھا سچ اگر پوچھو تو یارو سو کے بھی سویا نہ تھا اجنبی سے شہر میں پیہم رہا مصروف سیر ایک اک ذرہ جہاں کا تھا مری نظروں میں غیر رک گئے اک قصر نو کے سامنے میرے قدم ایک بینر پر نظر آئی عبارت یہ رقم اس جگہ پر طالبان امن کی ہے بزم عام قوم کی اصلاح کی ...

مزید پڑھیے

مشاعرہ ہوگا

بس ایک ہفتے میں اپنا مشاعرہ ہوگا ہوا ہے بھابی کے بیٹا مشاعرہ ہوگا نہ ساز و رقص کی محفل نہ بزم قوالی ہماری شادی میں تنہا مشاعرہ ہوگا تمہیں بتاؤ گلے باز شاعروں کے بغیر اگر ہوا بھی تو کیسا مشاعرہ ہوگا اٹھیں ہزار صدائیں مشاعرے کے خلاف ہمارا دعویٰ ہے ہوگا مشاعرہ ہوگا بلا بلائے بھی ...

مزید پڑھیے

قربانی

اک کنکٹے کا آج یہ اعلان عام ہے نیتا ہیں ہم ہمارا تو قربانی کام ہے نیتا کا دعویٰ سن کے میں یہ سوچنے لگا قربانی کنکٹے کی تو یارو حرام ہے

مزید پڑھیے

روز شام ہوتے ہی شمع کا وہ جل جانا

روز شام ہوتے ہی شمع کا وہ جل جانا رفتہ رفتہ پھر مجھ میں موم کا پگھل جانا مطمئن نہیں کرتا چاہے میرے حق میں ہو ٹھوکریں بنا کھائے یوں مرا سنبھل جانا بھول ایک لمحے کی عمر بھر پشیمانی چھوٹ کر کماں سے یوں تیر کا وہ چل جانا درمیان دونوں کے ہیں تمام اندیشے حادثے کا ہو جانا حادثے کا ٹل ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنا ہے ہمیں ان کے سہارے آگے

زندہ رہنا ہے ہمیں ان کے سہارے آگے یہ جو معصوم سے چہرے ہیں ہمارے آگے روک سکتے ہو تو کشتی کو یہیں پر روکو تنگ ہو جائیں گے دریا کے کنارے آگے آسمانوں کا سفر ہے یہ زمینوں کا نہیں غیب سے ہوں گے کئی اور اشارے آگے ان کے بارے میں مسافر کو بھلا کیا معلوم دیکھنے ہیں جو اسے اور نظارے ...

مزید پڑھیے

نیتا کلن

کتنی دولت ہے نیتا کلن پر ان کے جیسے امیر بن جاتے دستخط تو تمہیں بھی آتے ہیں ابا تم بھی وزیر بن جاتے

مزید پڑھیے

میرؔ و غالبؔ

ایک شاعر نے غزل بھیجی کسی اخبار میں تاکہ شہرت ہو ادب کے معتبر بازار میں کچھ دنوں تو اس کو چھپنے کا رہا اک انتظار پہنچا آخر مالک اخبار کے دربار میں ہو کے برہم جاتے ہی شکوہ اڈیٹر سے کیا یہ تو بتلائیں کمی کیا تھی میرے اشعار میں؟ آپ کو یہ کیا خبر تھا مجھ کو کتنا اضطراب نیند ہفتوں تک نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1974 سے 6203