قومی زبان

وائے قسمت کہ قریب اس نے نہ آنا چاہا

وائے قسمت کہ قریب اس نے نہ آنا چاہا عمر بھر ہم نے جسے اپنا بنانا چاہا کیا کہیں اس کو غم دنیا نے کتنا گھیرا ہم نے جس دل کو ترے غم سے سجانا چاہا کر دیا اور بھی مدہوش زمانے نے اسے تیرے دیوانے نے جب ہوش میں آنا چاہا ہو گئی اور سوا لذت غم کی تاثیر جب کبھی ہم نے ترے غم کو بھلانا ...

مزید پڑھیے

تری دنیا میں یہ کیا ہو رہا ہے

تری دنیا میں یہ کیا ہو رہا ہے ہنسی ہونٹوں پہ ہے دل رو رہا ہے ہوا بدکاریوں کی چل رہی ہے ضمیر انسانیت کا سو رہا ہے پڑی ہیں خون کی چھینٹیں سبھی پر جسے دیکھو وہ دامن دھو رہا ہے بشر کا خون ہے پانی سے سستا تماشہ اک مسلسل ہو رہا ہے اسی کے منحرف ہم بھی ہیں قادرؔ جو دعویٰ آج تک ہم کو رہا ...

مزید پڑھیے

اپنی محبتوں کا یہ اچھا صلہ ملا

اپنی محبتوں کا یہ اچھا صلہ ملا جو بھی ملا مجھے وہ مجھی سے خفا ملا تجھ سے بچھڑ کے بھی میں نہ تجھ سے بچھڑ سکا جس راہ پر گیا میں ترا نقش پا ملا اہل کرم کی بھیڑ سے گزری ہے زندگی تجھ سا مگر کوئی نہ کرم آشنا ملا دنیا جفا شعار رہی ہے یہ سچ سہی اے رہ نورد راہ وفا تجھ کو کیا ملا اس کو قیود ...

مزید پڑھیے

مٹنے کا جنوں لٹنے کا ارماں نظر آیا

مٹنے کا جنوں لٹنے کا ارماں نظر آیا آپ آئے تو کچھ جینے کا ساماں نظر آیا سوچا تھا مرے ہاتھ میں دامن ہے تمہارا دیکھا تو خود اپنا ہی گریباں نظر آیا دیکھا جو کبھی غور سے اس جان وفا کو معصوم نگاہوں میں بھی طوفاں نظر آیا اس دور میں جینے کا کیا جب بھی ارادہ اس وقت مجھے مرنا ہی آساں نظر ...

مزید پڑھیے

ہائے رے عہد گزشتہ کی کرم فرمائیاں

ہائے رے عہد گزشتہ کی کرم فرمائیاں انجمن در انجمن تنہائیاں تنہائیاں عشق کو حاصل ہیں ان کی بھی کرم فرمائیاں عمر بھر کرتے رہے ہیں جو ستم آرائیاں مل کے دونوں نے مجھے رسوائے دنیا کر دیا کچھ میری نادانیاں تھیں کچھ تری دانائیاں لفظ و معنی میں الجھ کر رہ گئے احباب سب کاش کوئی دیکھ ...

مزید پڑھیے

حیراں ہیں سارے آئینے ماضی و حال کے

حیراں ہیں سارے آئینے ماضی و حال کے جلوے بکھر گئے ہیں یہ کس خوش جمال کے اس بد گماں کی ہوں گی نہ کم بدگمانیاں ہم چاہے رکھ دیں اپنا کلیجہ نکال کے دنیا سے بے نیاز ہوں خود سے بھی بے خبر کیا کیا کرم ہیں مجھ پہ غم لا زوال کے للہ دل کی بات پہ پردہ نہ ڈالیے اسباب کچھ تو ہوں گے ضرور اس ملال ...

مزید پڑھیے

بیکار بھی اس دور میں بیکار نہیں ہے

بیکار بھی اس دور میں بیکار نہیں ہے دیوانہ ہے وہ کون جو ہشیار نہیں ہے اس دور ترقی پہ بہت ناز نہ کیجے اس دور میں سب کچھ ہے مگر پیار نہیں ہے ہر چیز کی بہتات ہے اس دور میں لیکن وہ چیز جسے کہتے ہیں کردار نہیں ہے اس بات پہ ناراض ہیں نا خوش ہیں کھنچے ہیں وہ بات کہ جس بات کا اظہار نہیں ...

مزید پڑھیے

رفیق و مونس و ہمدم کوئی ملا ہی نہیں

رفیق و مونس و ہمدم کوئی ملا ہی نہیں وہ کیا جئے جسے جینے کا آسرا ہی نہیں اسے حقیقت عظمیٰ سمجھ کے اترائے وہ نقش زیست جو سچ پوچھئے بنا ہی نہیں خدا کے واسطے کچھ روشنی گھٹا دیجے نظر ہے خیرہ کچھ ایسی کہ سوجھتا ہی نہیں حواس و ہوش و خرد سب وہاں سلامت ہیں جہاں نگاہ کا جادو کبھی چلا ہی ...

مزید پڑھیے

تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھے

تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھے جب بھی خیال آیا بڑا ڈر لگا مجھے جب بھی کیا ارادۂ ترک تعلقات کیا جانے کیوں وہ شوخ حسیں تر لگا مجھے پرکھا تو ظلمتوں کے سوا اور کچھ نہ تھا دیکھا تو ایک نور کا پیکر لگا مجھے خود اپنی ذات پر بھی نہ رہ جائے اعتبار اے وقت ہو سکے تو وہ نشتر لگا مجھے کیا ...

مزید پڑھیے

ملا انہیں بھی مزہ دل پہ چوٹ کھانے کا

ملا انہیں بھی مزہ دل پہ چوٹ کھانے کا ارادہ رکھتے تھے جو ہم کو آزمانے کا وہ آ گئے تو در و بام سے کرن پھوٹی نصیب جاگ اٹھا اس غریب خانے کا انہیں خدا نہ کرے شرمسار ہونا ہو ہمیں ملال نہیں کچھ فریب کھانے کا نہ آہ نیم شبی کچھ نہ نالۂ سحری انہیں تو عذر کوئی چاہیے ستانے کا مٹیں تو کیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1913 سے 6203