قومی زبان

حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگ

حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگ آج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگ آنکھ پر نم ہونٹ لرزاں دل غموں سے پاش پاش اس طرح بھی زندگی کا سامنا کرتے ہیں لوگ اے زمانے کی روش تیری وفا کوشی کی خیر عہد و پیماں توڑ کر وعدہ وفا کرتے ہیں لوگ اے وفور زندگی یہ بھی ترا اعجاز ہے زہر ...

مزید پڑھیے

سوچو تو قیامت ہے چھلاوا ہے بلا ہے

سوچو تو قیامت ہے چھلاوا ہے بلا ہے دیکھو تو فقط راہ میں نقش کف پا ہے مانا کہ ترے حق سے تجھے کم ہی ملا ہے یہ بھی کبھی سوچا ہے کہ کیا تو نے دیا ہے میں قافلۂ وقت کے ہم راہ چلوں کیا جو شخص ہے پیچھے کی طرف دیکھ رہا ہے اوروں کے تقابل میں سدا پست رہا ہوں یہ بھی مری نا کردہ گناہی کی سزا ...

مزید پڑھیے

دل مضمحل ہے ان کے خیالوں کے باوجود

دل مضمحل ہے ان کے خیالوں کے باوجود اک سیل تیرگی ہے اجالوں کے باوجود اللہ ری عارفانہ تجاہل کی شوخیاں سمجھے نہ میرا حال مثالوں کے باوجود بدلا نہ چشم شوق کا کوئی بھی زاویہ بگڑے ہوئے زمانے کی چالوں کے باوجود وارفتگئ شوق عجب تازیانہ تھی بڑھنا پڑا ہے پاؤں کو چھالوں کے باوجود ان ...

مزید پڑھیے

پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوں

پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوں آج انسان خود انسان سے بیزار ہے کیوں آج کے دور نے یہ کون سی کروٹ لی ہے آج کے دور میں معصوم گنہ گار ہے کیوں بے گناہوں کا لہو شہر میں ارزاں ہی سہی آسماں پر بھی وہی رنگ نمودار ہے کیوں میں تو مر جانے کو تیار ہوں دشمن کے لیے میرا دشمن بھی مگر مرنے کو ...

مزید پڑھیے

غم گناہ سے فکر نجات سے الجھے

غم گناہ سے فکر نجات سے الجھے تمام عمر ہم افسون ذات سے الجھے توہمات سے اک جنگ تھی جو جاری رہی سحاب مرگ نہ ابر حیات سے الجھے نفس نفس پہ نگاہیں تری بدلتی رہیں قدم قدم پہ نئے حادثات سے الجھے تجھے جو مان لیا ہم نے بس وہ مان لیا زباں صفت پہ نہ کھولی نہ ذات سے الجھے کبھی خرد سے نپٹنا ...

مزید پڑھیے

اس کی یاد کا عطر لگا کر نکلا تھا

اس کی یاد کا عطر لگا کر نکلا تھا کیا سودا میں سر میں لے کر نکلا تھا صبح کے سورج کا چہرہ تھا رخشندہ رات کے خوں کا غازہ مل کر نکلا تھا جانے کیوں اپنے کو شیشہ جانا پھر خود ہی ہاتھ میں سنگ اٹھا کر نکلا تھا اس نے راہ کے سارے پتھر توڑ دئے وہ جو پہلی ٹھوکر کھا کر نکلا تھا رنگینی اور ...

مزید پڑھیے

یہ جھوٹوں کا زمانہ ہے کوئی سچ بات مت کہنا

یہ جھوٹوں کا زمانہ ہے کوئی سچ بات مت کہنا چنانچہ رات بے شک ہو مگر تم رات مت کہنا جرائم سے تمہارے کوئی پردہ خاک اٹھائے گا نفی کرتے رہو سختی سے تم اثبات مت کہنا ضمیر اک ایسی دولت ہے کہ جو مشکل سے ملتی ہے کسی کو اپنے منہ سے قبلۂ حاجات مت کہنا یہی تو آج کل مجذوب ہونے کی علامت ہے کہ ...

مزید پڑھیے

پھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئے

پھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئے لو پھر وصال یار کے لمحے جواں ہوئے اک بات بڑھ کے باعث ناراضگی ہوئی کچھ لفظ منہ سے نکلے تو آہ و فغاں ہوئے تیرے سبھی دروغ وجاہت میں چھپ گئے اور میری صاف بات پہ کتنے گماں ہوئے کیوں کر کریں گے یاد وہ درد فراق میں ہم اس قدر قریب بھی ان کے کہاں ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہم

رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہم ہم یہ سمجھے تھے کہ ان کو بھولتے جاتے ہیں ہم اس کو کیا کیجے کہ یہ بھی کھیل ہے تقدیر کا ڈھونڈھتے ہیں جب انہیں اپنا پتہ پاتے ہیں ہم چند آہوں پر ہماری ہے پریشانی انہیں سیکڑوں صدمے ہیں جو خاموش پی جاتے ہیں ہم ایسی دنیا سے شکایت کیا گلہ کیا ...

مزید پڑھیے

گیا وہ دور تو خوابوں کے سلسلے بھی گئے

گیا وہ دور تو خوابوں کے سلسلے بھی گئے دل و نگاہ کے پر کیف حوصلے بھی گئے وہی گئے تو پھر اب شکوہ و شکایت کیا شکایتیں گئیں شکوے گئے گلے بھی گئے بکھر کے رہ گئی تصویر آرزوؤں کی امید و آس و تمنا کے قافلے بھی گئے یہی نہیں کہ بہت سی لطافتیں روٹھیں ادا و ناز کے رنگین مرحلے بھی گئے بجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1912 سے 6203