بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے
بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے دل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہے مدت ہوئی دل تاراج ہوئے مدت ہوئی رشتوں کو ٹوٹے دنیا ہے کہ ظالم آج بھی وہ رنگین فسانے مانگے ہے دل ہے کہ وہ ہے مرجھایا سا ہر آس کا چہرہ ہے اترا ہر دوست مرا پھر بھی مجھ سے خوشیوں کے خزانے ...