قومی زبان

بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے

بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے دل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہے مدت ہوئی دل تاراج ہوئے مدت ہوئی رشتوں کو ٹوٹے دنیا ہے کہ ظالم آج بھی وہ رنگین فسانے مانگے ہے دل ہے کہ وہ ہے مرجھایا سا ہر آس کا چہرہ ہے اترا ہر دوست مرا پھر بھی مجھ سے خوشیوں کے خزانے ...

مزید پڑھیے

ہم پھرے شہر میں آوارہ و رسوا برسوں

ہم پھرے شہر میں آوارہ و رسوا برسوں دل کے مندر میں ترے وہم کو پوجا برسوں وہ بدن چاند کے جیسا تھا مرے عکس کے ساتھ دن کی رونق میں بھی اک خواب سا دیکھا برسوں قرب نے کھول دئے حسن کے عقدے سارے زندگی کھاتی رہی عشق کا دھوکا برسوں اب تو ہنسنے کی اجازت غم دوراں دے دے وقت رو رو کے بہت ہم نے ...

مزید پڑھیے

چھوڑیں انا کو ہم تو تری جستجو کریں

چھوڑیں انا کو ہم تو تری جستجو کریں پڑھنی ہے گر نماز تو پہلے وضو کریں کرنے کو دل کی بات کریں سب سے ہم مگر وہ دل کہاں سے لائیں ترے روبرو کریں ملنے کا لطف جب ہے کہ وہ ہوں ہمیں میں گم کرنے کو ہم تلاش انہیں کو بہ کو کریں کیوں اس جفا شعار سے چھیڑیں وفا کی بات کیوں ذکر تشنگی کا لب آب جو ...

مزید پڑھیے

شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالی

شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالی جھکی ہے بلا پر بلا کالی کالی بہت ایسے کالے ہرن ہم نے دیکھے دکھاتے ہیں آنکھیں وہ کیا کالی کالی ڈٹے مل کے رند سیہ‌‌ مست جس دم جھکی میکدے پر گھٹا کالی کالی شب ماہ میں وہ پھرے بال کھولے ہوئی چاندنی جا بجا کالی کالی یہ سجدے کو خود جھک پڑے گی چمن پر کہ ...

مزید پڑھیے

گردن شیشہ جھکا دے مرے پیمانے پر

گردن شیشہ جھکا دے مرے پیمانے پر سن برستا رہے ساقی ترے میخانے پر گرمیٔ حسن بڑھی سرد ہوا عاشق زار شمع کے پھول سے بجلی گری پروانے پر گرمیاں ہیں تو مرا دیدۂ تر حاضر ہے چھوٹے مژگاں کا ہزارا ترے خس خانے پر غش ہوا گردن ساقی پہ کبھی آنکھ پہ لوٹ کبھی شیشہ پہ گرا میں کبھی پیمانے پر وہ ...

مزید پڑھیے

جب آنکھ بند ہوگی دیدار دیکھ لیں گے

جب آنکھ بند ہوگی دیدار دیکھ لیں گے کب تک چھپوگے ہم سے اے یار دیکھ لیں گے کھڑکی قفس کی چاہے صیاد بند کر دے ہم روزن قفس سے گلزار دیکھ لیں گے واعظ نہ میکدے میں شیخی بگھار آ کر ساقی الگ رہے گا مے خوار دیکھ لیں گے کوچے میں ان بتوں کے اے قدرؔ پھر پھرا کر ہم قدرت خدا کے اسرار دیکھ لیں ...

مزید پڑھیے

جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کا

جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کا وہی ہے تمغہ مری جبیں کا وہی سلیماں مرے نگیں کا گئی نہ مر کر بھی کینہ خواہی ملا کے مٹی میں کی تباہی مری طرح سے کہیں الٰہی فلک بھی پیوند ہو زمیں کا تڑپ نہ پوچھو دل حزیں کی کہوں میں تم سے کہاں کہاں کی اسی سے ہے گردش آسماں کی اسی سے ہے ...

مزید پڑھیے

ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کا

ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کا کام کر جائے سپاہی نام ہو سردار کا کوچۂ شہرگ سے کیا تیرا محل نزدیک ہے دم گلے میں آ کے اٹکا ہے ترے بیمار کا مثل عیسیٰ ان کی خدمت میں رسائی ہو گئی پڑھ گئے کوٹھے پہ ہم زینہ لگا کردار کا رات کو آنکھوں کے نیچے پھر گئی تصویر یار واہ کیا چمکا ستارہ ...

مزید پڑھیے

ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے

ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے جو گرے تو نقش قدم بنے جو اٹھے تو بانگ درا ہوئے جو ہوا سے زلف بکھر گئی نظر ان کی صاف بدل گئی جو اسیر حلقۂ ناز تھے وہ قتیل تیغ ادا ہوئے ہوا بعد وصل عجب مزا کہ خموش بیٹھے جدا جدا ہمہ تن میں صبر و سکوں ہوا ہمہ تن وہ شرم و حیا ہوئے اٹھے ہم ...

مزید پڑھیے

پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہے

پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہے اک خطا ہو گئی بشر ہی تو ہے اتنا بھاری نہ ڈالیے موباف بل نہ کھائے کہیں کمر ہی تو ہے میری آہوں سے ان کے دل میں اثر کبھی یوں بھی اڑے خبر ہی تو ہے پاؤں پھیلائے ہم نے مرقد میں چلتے چلتے تھکے سفر ہی تو ہے قدرؔ نے کیا زبان پائی ہے لوگ کہتے ہیں یہ سحر ہی تو ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1914 سے 6203