قومی زبان

سایہ نہیں ہے دور تک سائے میں آئیں کس طرح

سایہ نہیں ہے دور تک سائے میں آئیں کس طرح ہم آ گئے ہیں کس طرف تم کو بتائیں کس طرح یہ پھول پتے چاندنی یہ صورتیں من موہنی ایسے میں اپنی جانکنی ان سے چھپائیں کس طرح عالم بہاراں کا سہی منظر گلستاں کا سہی بستی بیاباں کی سہی دامن بچائیں کس طرح جس پھول کی ہر پنکھڑی ہوتی ہے موتی کی ...

مزید پڑھیے

جانے دو ان نغموں کو آہنگ شکست ساز نہ سمجھو

جانے دو ان نغموں کو آہنگ شکست ساز نہ سمجھو درد بھری آواز تو سن لو درد بھری آواز نہ سمجھو جاؤ بہارو جاؤ جاؤ ویرانوں کے پاس نہ آؤ عالم شوق آسودہ کو حسرت کا غماز نہ سمجھو زخم لگانا آتا ہے ان پھولوں سے نازک لوگوں کو بھی بہتر ہے ان پھول سے نازک لوگوں کے انداز نہ سمجھو خاموشی کے ...

مزید پڑھیے

میں اکثر سرد راتوں میں

میں اکثر سرد راتوں میں زمین خانۂ دل پر اکیلے بیٹھ جاتا ہوں پھر اپنا سر جھکا کر یاد عہد رفتگاں دل میں سجاتا ہوں خیال ماضیٔ دوراں مرے اس جسم کے اندر عجب طوفاں اٹھاتا ہے ہزاروں میل کا لمبا سفر پیدل کراتا ہے میں یادوں کے دھندلکوں میں تمہارے نقش پا کو ڈھونڈنے جب بھی نکلتا ہوں تو اک ...

مزید پڑھیے

آج رسوا ہیں تو ہم کوچہ و بازار بہت

آج رسوا ہیں تو ہم کوچہ و بازار بہت یا کبھی گیت بھی گاتے تھے سر دار بہت اپنے حالات کو سلجھاؤ تو کچھ بات بنے مل بھی جائیں گے کبھی گیسوئے خم دار بہت دل کے زخموں کو بھی ممکن ہو تو دیکھو ورنہ چاند سے چہرے بہت پھول سے رخسار بہت آج ماحول میں فتنے ہیں سر دیر و حرم آج بہتر ہے پرستش کو در ...

مزید پڑھیے

وہ لوگ جن کو حیات اپنی غموں میں ڈوبی ہوئی ملے گی

وہ لوگ جن کو حیات اپنی غموں میں ڈوبی ہوئی ملے گی اگر مرے ساتھ ساتھ آئیں تو اک نئی زندگی ملے گی انہیں کو ہاں بس انہیں کو اے قیسؔ منزل زندگی ملے گی مصیبتوں کے ہجوم میں بھی لبوں پہ جن کے ہنسی ملے گی قفس کی تاریک خلوتوں پر ہیں معترض کیوں یہ اہل دنیا چمن میں بھی آشیاں جلیں گے تو پھر ...

مزید پڑھیے

یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے

یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے رات اک حادثہ بن گئی ہے یہ مری شان بادہ کشی ہے اس نظر نے پلائی تو پی ہے تیرے غم نے مری زندگی کو لذت زندگی بخش دی ہے چپ بھی ہو جاؤ اے لٹنے والو رہنماؤں پہ بات آ گئی ہے یہ تری ہجو بادہ ہی زاہد وجہ بادہ کشی بن گئی ہے عقل کیا رہبری کر سکے گی جو ہمیشہ بھٹکتی ...

مزید پڑھیے

دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میں

دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میں ہاں بظاہر ترے ہاتھوں کا کھلونا ہوں میں اب جہاں چاند لب بام ابھرتا ہی نہیں جانے کیوں پھر انہیں گلیوں سے گزرتا ہوں میں کتنا نادان تھا میں ڈوب گیا جل بھی گیا وہ بہت کہتا رہا آگ کا دریا ہوں میں آرزو تھی کہ گلابوں کے دلوں میں رہتا یہ سزا پائی ...

مزید پڑھیے

آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے

آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے میری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہے رات دریا آئینے میں اس طرح آیا کہ میں یہ سمجھ کر سو گیا دریا نہیں اک خواب ہے کامنی صورت میں بھی اک آرزو ہے محو خواب سانولی رنگت میں بھی اک وصل کا کمخواب ہے میری خاطر کچھ سنہری سانولی مٹی بھی تھی ورنہ اس ...

مزید پڑھیے

آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرنا

آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرنا شام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرنا ہر آنگن میں دیئے جلانا ہر آنگن میں پھول کھلانا اس بستی میں سب کچھ کرنا ہم سے محبت مت کرنا اجنبی ملکوں اجنبی لوگوں میں آ کر معلوم ہوا دیکھنا سارے ظلم وطن میں لیکن ہجرت مت کرنا اس کی یاد میں ...

مزید پڑھیے

میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کے

میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کے وہ چراغ بجھ گئے ہیں مری عمر جاوداں کے نہ یہ لالہ زار اپنے نہ یہ رہ گزار اپنی وہی گھر زمیں کے نیچے وہی خواب آسماں کے یہ پیالہ ہے کہ دل ہے یہ شراب ہے کہ جاں ہے یہ درخت ہیں کہ سائے کسی دست مہرباں کے مجھے یاد آ رہے ہیں وہ چراغ جن کے سائے کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1911 سے 6203