قومی زبان

کوئی دیتا ہے کسی کو بھی تو کیا دیتا ہے

کوئی دیتا ہے کسی کو بھی تو کیا دیتا ہے دست احسان کو میزان پہ لا دیتا ہے کوئی تو سنگ لب راہ سا مونس ٹھہرے راہ کا موڑ جو چپکے سے بتا دیتا ہے شہر گم گشتہ کا وہ کتبہ جو ہے گرد آلود ہر مسافر اسے جینے کی دعا دیتا ہے یہ مرا عہد ہے تاویل سکونت دے کر گھر کے دروازے کو دیوار بنا دیتا ...

مزید پڑھیے

انا جب سان چڑھتی ہے تو جذبے کاٹ دیتی ہے

انا جب سان چڑھتی ہے تو جذبے کاٹ دیتی ہے دلوں میں جب اتر جاتی ہے رشتے کاٹ دیتی ہے جلا دیتی ہے الفت کی وفا کی ساری تعمیریں ہوس کی آگ برسوں کے تقاضے کاٹ دیتی ہے مقرر دل نشیں لہجہ بھی اپنائے تو کیا کہنا ذرا سی بات لوگوں کے کلیجے کاٹ دیتی ہے عدالت کی کسوٹی پر کسا جاتا ہے جب مجرم قلم ...

مزید پڑھیے

بوسہ اوس بت کی جبیں کا لیا چندن ہو کر

بوسہ اوس بت کی جبیں کا لیا چندن ہو کر ہوا ہم دوش میں زنار برہمن ہو کر برسا کرتے ہیں جدائی میں تری برسوں تک ابر دیدہ کبھی بھادوں کبھی ساون ہو کر گورا رخ بوسے سے نیلا ہوا اور غیظ سے سرخ نسترن بن گیا لالہ گل سوسن ہو کر دسترس پا نہ سکا جب کبھی ڈھب سے ہیہات پہنچا دل ساعد محبوب میں ...

مزید پڑھیے

الم کی بات سے آزار جاں سے کچھ نہیں ہوتا

الم کی بات سے آزار جاں سے کچھ نہیں ہوتا وہ عالم ہے کہ احساس زیاں سے کچھ نہیں ہوتا وقار گلستاں کی پاسداری بات ہے ورنہ چمن کے نام پر حسن بیاں سے کچھ نہیں ہوتا عمل کی قوت تسخیر سے دنیا بدلتی ہے شکایت ہائے جور آسماں سے کچھ نہیں ہوتا یقیں محکم اگر ہو گردش دوراں بدل ڈالے گماں کتنا ہی ...

مزید پڑھیے

جب دل میں کبھی وہ مرے مہمان رہے ہیں

جب دل میں کبھی وہ مرے مہمان رہے ہیں ویرانے میں بھی جشن کے سامان رہے ہیں اکثر یہ ہوا مصلحت عشق کی خاطر ہر بات سمجھتے ہوئے انجان رہے ہیں انجام پہ نظریں ہیں مگر کچھ نہیں کہتے ہم وقت کی رفتار کو پہچان رہے ہیں خود میں نے بھی چاہا تھا جنہیں پورے نہ ہو پائیں ایسے بھی مرے دل میں کچھ ...

مزید پڑھیے

نہ محبت نہ محبت کی ادا ہے یارو

نہ محبت نہ محبت کی ادا ہے یارو نہ ملامت نہ شکایت نہ جفا ہے یارو غم کی تلخی ہے مگر کتنا مزہ ہے یارو عالم‌ شوق کا عالم ہی جدا ہے یارو رونق بزم بھی افسردہ چلی ساتھ ہی ساتھ کون بادیدۂ نم اٹھ کے چلا ہے یارو کوئی مرہم نہ مداوا نہ کہیں صدق و صفا یہ بھی اک میرے زمانے کی ادا ہے یارو میرے ...

مزید پڑھیے

عشق کے راز ہائے پنہاں کو (ردیف .. ے)

عشق کے راز ہائے پنہاں کو کون سمجھا ہے کس نے جانا ہے فرق موت و حیات یہ سمجھو اک حقیقت ہے اک فسانہ ہے اب ذرا تیز گام اے رہرو ہو گئی شام دور جانا ہے ہر قدم پر فریب کھائے ہیں حسن ظن کا بھی کیا ٹھکانا ہے جس کو تم کہہ رہے ہو دیوانہ اس کی ٹھوکر میں اک زمانا ہے برق آئے ہزار بار آئے ہم کو ...

مزید پڑھیے

نفس نفس میں ترا احترام لے کے چلے

نفس نفس میں ترا احترام لے کے چلے جہاں جہاں بھی چلے تیرا نام لے کے چلے رخ صبیح پہ لہرائی ہیں سیہ زلفیں طلوع صبح میں وہ حسن شام لے کے چلے سمجھتا کون بہاروں کے ان اشاروں کو وہ ایک ہم تھے جو محفل میں جام لے کے چلے بہ نام پیر مغاں تشنہ لب رہے برسوں اب ایک دور ہمارا بھی نام لے کے ...

مزید پڑھیے

نگاہیں اٹھ رہی ہیں میری جانب اک زمانے کی (ردیف .. ے)

نگاہیں اٹھ رہی ہیں میری جانب اک زمانے کی بھرم کھل جائے گا کوشش نہ کیجے مسکرانے کی زمانے کے ستم ان کی جفا مری فدا کاری یہی شاید بنیں گی سرخیاں میرے فسانے کی جہاں سے بجلیوں کا قافلہ گزرا ہے گلشن میں وہیں بنیاد رکھ چھوڑی ہے میں نے آشیانے کی خزاں کے رخ پہ زہریلا تبسم میں نے دیکھا ...

مزید پڑھیے

کیا پست اپنے عزم سفر ہو کے رہ گئے

کیا پست اپنے عزم سفر ہو کے رہ گئے آنکھوں میں چور خواب سحر ہو کے رہ گئے وہ سبزۂ شرار کا چشمہ ابل پڑا باغ و بہار زیر و زبر ہو کے رہ گئے گزرا ادھر سے شعلۂ طوفان بھی نہیں لیکن نواح شہر کھنڈر ہو کے رہ گئے بے خوف سنگ ریزے چلانے لگے ہیں لوگ ہم کس مکاں کے شیشہ و در ہو کے رہ گئے مجھ کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1864 سے 6203