قومی زبان

اک رات بخت سوں میں رنداں کا سات پایا

اک رات بخت سوں میں رنداں کا سات پایا عرفاں کے ملک دیں پر حق سوں برات پایا من عرف نفسہ کا انجن لگا کو دیکھا ہر چیز ذات حق بن میں بے ثبات پایا یو نفس دوں ہوا سوں پکڑے لیا تھا میری مرشد کی کفش اٹھائیں اس سوں نجات پایا یو قول و فعل میرا مجھ اختیار سوں نیں ہت پنج مات کی میں آپس کی ذات ...

مزید پڑھیے

پابندئ اوقات دعا کس کے لیے ہے

پابندئ اوقات دعا کس کے لیے ہے راتوں کی عبادت کا صلہ کس کے لیے ہے ہیں کس کے لیے مدھ بھری آنکھوں کے اشارے گلنار سے ہونٹوں کی فضا کس کے لیے ہے ہم لوگ دعا دیں گے تری زلف سیہ کو معلوم ہو یہ شہر سبا کس کے لیے ہے کیا نام ہے اس شخص جواں بخت کا اے دوست خلوت کی یہ دھیمی سی صدا کس کے لیے ...

مزید پڑھیے

غریبوں پر نزول ہر بلائے ناگہاں کیوں ہو

غریبوں پر نزول ہر بلائے ناگہاں کیوں ہو یہ ون وے مستقل ٹریفک بھلا اے آسماں کیوں ہو اگر آنا ہوا تو ایک فلمی گیت گائے گا مری میت پہ وہ حسب روایت نوحہ خواں کیوں ہو یہ کیا انداز ہے یا رب سمجھنا جس کو مشکل ہے ظریفانہ ستم مرغوب خوئے دوستاں کیوں ہو اٹھا کے سر سے اونچا پہلے وہ مجھ کو ...

مزید پڑھیے

درون میکدہ کس درجہ حسرت ریز ہے ساقی

درون میکدہ کس درجہ حسرت ریز ہے ساقی جو گرد آلود کرسی ہے تو ٹوٹی میز ہے ساقی نہ کیوں حور جناں کے ذکر سے محظوظ ہو واعظ یہ اس کے توسن دل کے لیے مہمیز ہے ساقی مرے اوقات گریہ ٹائم ٹیبل پر مقرر ہیں یہ بندہ عشق کے بارے میں بھی انگریز ہے ساقی جلا کر رکھ دیا ہے اس نے شہر آرزو میرا ترا ...

مزید پڑھیے

حسرت و یاس کا اک نقش پریشاں سمجھا

حسرت و یاس کا اک نقش پریشاں سمجھا حال افتادہ دل شام غریباں سمجھا قابل داد ہے اس شخص کی رنگینی فکر دل خوں گشتہ کو جو زیست کا عنواں سمجھا بے رخی نے تری غارت کیا معمورۂ شوق آج دیکھا تو اسے شہر خموشاں سمجھا یاس نے چھین لی کیا عشق کی بالغ نظری وسعت کون و مکاں کو جو یہ زنداں ...

مزید پڑھیے

جوانوں میں محبت نیم جاں معلوم ہوتی ہے

جوانوں میں محبت نیم جاں معلوم ہوتی ہے بڑے بوڑھوں میں لیکن نوجواں معلوم ہوتی ہے ٹھکانے کا کوئی فقرہ یہ فرماتی نہیں ورنہ تری ماں تو بڑی معقول ماں معلوم ہوتی ہے دیا ہے حق نے میری ساس کو کیا پھول سا چہرہ بروز عید بھی یہ نوحہ خواں معلوم ہوتی ہے مرے محبوب تیرے حسن کا یہ اک کرشمہ ...

مزید پڑھیے

بحر آلام میں دل ڈوب گیا آج کی شب

بحر آلام میں دل ڈوب گیا آج کی شب ایک محشر سا ہے سینے میں بپا آج کی شب ہے مسلط مرے احساس کی ننھی لو پر تنگ ہوتی ہوئی ظلمت کی ردا آج کی شب یاس وہ چھائی کہ یوں ہوتا ہے محسوس مجھے سخت نا خوش ہے خدائی سے خدا آج کی شب ہائے مایوس نگاہوں کی یہ تخلیق کہ ہے جس طرف دیکھیے اک دام بلا آج کی ...

مزید پڑھیے

جب جوش بہاراں تھا ان چاندنی راتوں میں

جب جوش بہاراں تھا ان چاندنی راتوں میں ہر ذرہ گلستاں تھا ان چاندنی راتوں میں جب اپنی اداؤں سے اک زہرہ جبیں پیکر غارت گر ایماں تھا ان چاندنی راتوں میں جنت تھی بہت دل کش شاداب نظاروں کی ہر لمحہ رگ جاں تھا ان چاندنی راتوں میں جب سرو کی صف کا وہ محراب نما سایہ تصویر شبستاں تھا ان ...

مزید پڑھیے

آج کی رات

دیکھنا جلوۂ جاناں کا اثر آج کی رات پھول ہی پھول ہیں تا حد نظر آج کی رات رائیگاں جا نہ سکا آنکھ سے اس کا بہنا رنگ لایا ہے مرا خون جگر آج کی رات دامن شوق کو تھامے ہوئے ہیں شرم و حیا دل دھڑکتا ہے بہ انداز دگر آج کی رات حسن و تقدیس کی دلچسپ حکایت پڑھ کر دھن رہا ہے دل حیرت زدہ سر آج کی ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

رات کے خوابوں کا اک طرفہ سماں ہوتا ہے صبح کے گونجتے آوازے سے چونک اٹھتا ہوں سانس لیتا ہوں بہر کیف گماں ہوتا ہے انگلیاں پھیرتا ہوں اپنے بدن پر اب تو کارواں ہوش کا یادوں کا رواں ہوتا ہے یہ نیا دن ہے مگر وقت کہاں ٹھہرا ہے سامنے کھونٹی سے لٹکا ہے مرا گرم لباس جس پہ خود ساختہ پابندیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1829 سے 6203