اک رات بخت سوں میں رنداں کا سات پایا
اک رات بخت سوں میں رنداں کا سات پایا عرفاں کے ملک دیں پر حق سوں برات پایا من عرف نفسہ کا انجن لگا کو دیکھا ہر چیز ذات حق بن میں بے ثبات پایا یو نفس دوں ہوا سوں پکڑے لیا تھا میری مرشد کی کفش اٹھائیں اس سوں نجات پایا یو قول و فعل میرا مجھ اختیار سوں نیں ہت پنج مات کی میں آپس کی ذات ...