قومی زبان

نہ ترا اے نگار بہتر ہے

نہ ترا اے نگار بہتر ہے رخ پہ لہو کا نکھار بہتر ہے کیا حقیقی و کیا مجازی ہوئے عشق کا کاروبار بہتر ہے خرمن عقل کے جلانے کوں عشق کا یک شرار بہتر ہے دشمن بد گہر سے لڑنے کوں لطف حق کا حصار بہتر ہے سرنسک یار کی جدائی کوں موت کا انتظار بہتر ہے

مزید پڑھیے

تمہارے بعد

امی تمہارے بعد ہر بار ہم ایک دوسرے سے آخری بار ملتے ہیں زندگی بے یقینی کا سایہ بن کر رہ گئی ہے موت ہمارے نمبر لگا چکی ہے ہم تم سے ملنے کی خاطر اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں زمین پر اپنے دن شمار کرتے ہیں ہمیں تم سے کشید کیا گیا ہمارے خون کے گروپ اور دماغ کی بناوٹ میں تمہیں بھر ...

مزید پڑھیے

نالاں نہیں کچھ ترے ستم پر

نالاں نہیں کچھ ترے ستم پر ایسی ہی بنی ہے اپنے دم پر ہر داغ پر ایک زخم آیا قاتل کا یہ سکہ ہے درم پر لو اہل جہاں نوید فرحت مائل ہے دل اپنا اخذ غم پر کیسی ہی صدا مہیب آ جائے نالے کا گماں کریں وہ ہم پر سالکؔ سے لیا ہے تم نے دل مفت یاں اور بھی بیچتے ہیں کم پر

مزید پڑھیے

آدمی

جس کی لغت میں آج نہیں ہے کلرک ہے کل آؤ جس کا مسلک دیں ہے کلرک ہے ہر دم جو یوں ہی چیں بہ جبیں ہے کلرک ہے روٹین کا جو مرد امیں ہے کلرک ہے پر حسن اتفاق سے یہ بھی ہے آدمی چہرے پہ ان کے دبکی ہوئی ایک رات ہے ان کے لئے یہ حاصل کل کائنات ہے اس سے زیادہ لطف کی یہ واردات ہے اے دل مگر یہ کان میں ...

مزید پڑھیے

موت

واعظ اپنے چہرے پہ نباتات اگا لوں تو چلوں عطر کچھ مل لوں ذرا خود کو سجا لوں تو چلوں مرغ بریانی دہی قورمہ کھا لوں تو چلوں اور پھولا ہوا یہ پیٹ چھپا لوں تو چلوں وزیر اک شبستان تمنا ہے جہاں کچھ بھی نہیں بر نہ آئی ہوئی امیدوں سے ہوں غم آگیں اف یہ پھیلی ہوئی شاداب و خوش آئند زمیں اس پہ ...

مزید پڑھیے

کرائے کا مکان

عجب شے ہے کرائے کا مکاں بھی مکاں بھی ہے یہ ظالم لا مکاں بھی بڑی عجلت میں بنوایا گیا ہے لئی سے چھت کو چپکایا گیا ہے ہے واقع ایک نالی کے کنارے میسر ہیں مجھے کیا کیا نظارے نظیر ان کی جہان خواب میں ہے بہاراں کی شب مہتاب میں ہے نہ کیوں ہو جسم میرا رنج سے چور فقط دو میل ہے یہ شہر سے ...

مزید پڑھیے

او دیس سے آنے والے بتا

کیا اب بھی وہاں کا ہر شاعر تنقید کا مارا ہے کہ نہیں افلاس کی آنکھ کا تارا ہے وہ راج دلارا ہے کہ نہیں وہ اک گھسیارا ہے کہ نہیں او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی وہاں پر گنجا سر اسکالر سمجھا جاتا ہے کیا اب بھی وہاں کا ہر ایم اے غالبؔ پر کچھ فرماتا ہے اور جیل کی ظلمت میں کھو کر اقبالؔ ...

مزید پڑھیے

مفلسوں کا قومی ترانہ

یہی مری خواب گاہ عشرت یہی ہے میرا نگار خانہ دھوئیں کی رنگین بدلیوں میں پکا رہی ہے جہاں وہ کھانا یہیں اندھیروں سے مل کے ہم چاندنی کے چھکے چھڑا رہے ہیں یہیں ہمارا صلہ مقرر ہوا ہے ادبار جاودانہ یہیں اسے گیلی لکڑیوں نے خوشی کے آنسو بہاتے دیکھا یہیں اسے راکھ کی تہوں نے بنا دیا غیر ...

مزید پڑھیے

تخلیق

میں کتنی دیر سے آنکھیں بند کیے بیٹھی ہوں جیسے سانس لینے کو اور زندگی کرنے کو کوئی بہانہ نہ مل رہا ہو جیسے آنسو اور درد بے معنی ہوں جیسے اپنا وجود دوسروں کی ضروریات کا ایک ذریعہ ہو جیسے ہنسی اور خوشی اور رنگ برنگی دنیا کسی خواب کا حصہ ہوں میں کب سے آنکھیں بند کیے بیٹھی ہوں اور یکے ...

مزید پڑھیے

اسم

مجھ پر وارد ہوا ہے کوئی اسم جس کا حجم زمان و مکاں سے بڑا ہے بے پر ہے مگر اڑتا ہے بے آواز ہے مگر بولتا ہے بے گھر ہے مگر ہر گھر میں ہے سانس لیتا ہے میرے ساتھ جیتا ہے میرے درد میں رہتا ہے میرے درد میں رہتا ہے مجھ میں لمحہ لمحہ اترتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1828 سے 6203