قومی زبان

چاند چمکنے لگتا ہے

اونچے اونچے پیڑ کھڑے ہیں چیلوں کے کہساروں کی ڈھلانوں پر جو نیچے دوڑی جاتی ہیں چاند سے چہرے والی ندی کے ملنے کو چاروں جانب چھائی چپ کے پہلو سے درد کی صورت اٹھنے والی تیز ہوا گرد و پیش سے بے پروا اپنی رو ایک ہی لے میں گاتی ہے اس کی یہ بیگانہ روی دیوانہ ہی بناتی ہے اک پتھر پر بیٹھا ...

مزید پڑھیے

بے بسی

ایک بے کیف شام کے بس میں رینگتے سائے اونگھتی راہیں چند سہمے ہوئے چہچہے اور میں زندگی رنگ و بو سے بیگانہ سرنگوں دل گرفتہ اور اداس آہ اس کے قہقہے اور میں چاہتا ہوں گزر سکوں اک بار آرزوؤں کے چیستانوں سے ہوں جہاں لاکھوں چہچہے اور میں ہر نفس میں ہو نغمۂ ناہید خاک پا ہو میری بہار ...

مزید پڑھیے

گل کو خوشبو چاند کو اسلوب تابانی ملے

گل کو خوشبو چاند کو اسلوب تابانی ملے میرے جذبے سے جہاں کو حسن لافانی ملے اجلی اجلی سی فضا میں رنگ بکھرے پیار کا حسن کاروں کو مرا احساس تابانی ملے دیو قامت پیکروں سے دل مرا گھبرا گیا اب تو یا رب عام سی اک شکل انسانی ملے اس ہجوم رنج و غم میں اک ذرا سا زہر بھی زندگی کو اس طرح سے ...

مزید پڑھیے

وہ وفور لالہ و گل نہیں وہ نشاط قلب و نظر نہیں

وہ وفور لالہ و گل نہیں وہ نشاط قلب و نظر نہیں جو ارم بکف تھی دم سحر وہ بہار شاخ و شجر نہیں یہ زمانہ فرصت غم اگر مجھے دے تو میں بھی دکھا سکوں کہ تجلیاں مرے شوق کی فقط ایک رقص شرر نہیں تری یاد باعث راحت تپش خیال تو ہے مگر میں ہجوم شوق کو کیا کروں مرے بس میں دیدۂ تر نہیں یہ رضائے یار ...

مزید پڑھیے

یادوں کے دریچوں سے بیتے ایام کی خوشبو آتی ہے

یادوں کے دریچوں سے بیتے ایام کی خوشبو آتی ہے تسکین کے جھونکے آتے ہیں آرام کی خوشبو آتی ہے کچھ بول کہ مستقبل کی گرہ ہم بے خبروں پہ کھل جائے ساقی تری میٹھی باتوں سے الہام کی خوشبو آتی ہے کس گلشن غیر ارضی میں مجھے رہوار صبا لے آیا ہے ہر سمت سے مجھ کو ایک گل بے نام کی خوشبو آتی ہے اک ...

مزید پڑھیے

ادھر بھی کبھی چارہ گر دیکھ لینا

ادھر بھی کبھی چارہ گر دیکھ لینا ہرا کیوں ہے زخم جگر دیکھ لینا اجالے یہیں آ کے دم توڑتے ہیں کبھی شام کو میرا گھر دیکھ لینا گراں تجھ پہ گزرے نہ میری رفاقت کڑے کوس ہیں ہم سفر دیکھ لینا نہیں عارضی دل کی غم پروری کچھ یوں ہی اپنی ہوگی بسر دیکھ لینا یہ ہنگامۂ قصر پرویز اے دل رہے گا ...

مزید پڑھیے

کوئی سنتا ہی نہیں ان کی صدا میرے بعد

کوئی سنتا ہی نہیں ان کی صدا میرے بعد ہائے کیا وقت اندھیروں پہ پڑا میرے بعد وقت سے پہلے ہی اب اس کی سحر ہوتی ہے ہوئی منسوخ شب غم کی سزا میرے بعد غیر کو اس نے شب وصل میں ڈانٹا دو بار مل گیا مجھ کو وفاؤں کا صلہ میرے بعد کوئی جاتا نہیں بچوں کی قطاریں لے کر ہسپتالوں میں وہ چرچا نہ رہا ...

مزید پڑھیے

چناریں وادیوں میں مشتعل ہیں

چناریں وادیوں میں مشتعل ہیں دریغا سرو ابھی تک پا بہ گل ہیں اٹھے ہیں لالۂ خونیں کفن پھر یہی شعلے جہان مستقل ہیں اگر دو گام پر منزل ہے پھر کیوں چٹانیں زندگی کی منفعل ہیں گلوں پر بے دلی کا رنگ کیوں ہے عنادل صحن‌ گلشن میں خجل ہیں رفو ہو جائیں گے چاک بہاراں خزاں کے گھاؤ دیکھو ...

مزید پڑھیے

جوانی

تو نے دیکھا ہے اسے جاتے ہوئے ارض حجاز کتنا موزوں تھا جواں قد دراز دل میں کھبا جاتا ہے تو نے چاہا ہے اسے مصر ابوالہول جمال کتنے مردانہ تھے اس کے خد و خال درد بڑھا جاتا ہے تو نے پایا ہے اسے شمع شبستان فرانس کس قدر گرم تھا اس کا ہر سانس جسم جلا جاتا ہے تو نے روندا ہے اسے جنگ لٹا میرا ...

مزید پڑھیے

جہاں میں ہوں

جہاں میں ہوں ہزاروں خواہشیں آسودگی کی زندگی کا پیرہن بن کر مری مجبوریوں کو اپنے دامن میں چھپاتی ہیں تخیل کا جہاں آباد گاہے کچھ نئے لیکن ہزاروں وقت خوردہ خوش نظر گوشوں کی زندانی طلسماتی فضا میں دل کشی کا نور بھرتا ہے انہی گوشوں میں آوارہ خرامی کی حکایت مجھ کو کیف سرمدی کے بے زباں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1830 سے 6203