چاند چمکنے لگتا ہے
اونچے اونچے پیڑ کھڑے ہیں چیلوں کے کہساروں کی ڈھلانوں پر جو نیچے دوڑی جاتی ہیں چاند سے چہرے والی ندی کے ملنے کو چاروں جانب چھائی چپ کے پہلو سے درد کی صورت اٹھنے والی تیز ہوا گرد و پیش سے بے پروا اپنی رو ایک ہی لے میں گاتی ہے اس کی یہ بیگانہ روی دیوانہ ہی بناتی ہے اک پتھر پر بیٹھا ...