تمہاری زلف کے چرچے پریشانوں میں رہتے ہیں
تمہاری زلف کے چرچے پریشانوں میں رہتے ہیں مری دیوانگی کے ذکر دیوانوں میں رہتے ہیں نہیں پروائے ایماں کافران عشق کو ہرگز انہیں کعبہ سے کیا مطلب جو بت خانوں میں رہتے ہیں تلاش اس رشک لیلیٰ کی جو رہتی ہے ہمیں ہر دم اسی سے قیس کے مانند وہ ویرانوں میں رہتے ہیں میان محفل احباب ہے وہ ...