قومی زبان

سمے ہو گیا

پھر مقام رفاقت پہ مدغم ہوئیں سوئیاں دونوں گھڑیال کی رفت و آمد کے چکر میں گھنٹے کی آواز میں میرا دل کھو گیا اپنی ٹک ٹک میں بہتا رہا وقت کتنا سمے ہو گیا! سالہا سال پانی کے چشمے سے گیلے کیے لب عناصر نے جلتے الاؤ پہ ہاتھ اپنے تاپے مظاہر نے سینے کی دھڑکن سے نادید کے رنگ و روغن سے اشیا ...

مزید پڑھیے

اس شاہراہ پر

بہتی آنکھوں نے ہماری شناخت مٹا دی ہے چہرے سے عاری جسم سڑکوں پر لڑھکتا ہے نفرت کرتا ہے پیار کرتا ہے کوئی بھی جذبہ اسے اس کی شناخت نہیں لوٹاتا کانٹے مذاق اڑاتے ہیں ڈانس کرتے ہیں کیا انہیں آنکھوں کے ان سوراخوں میں اتارا جا سکتا ہے جن میں لاوا بہہ کر آتا ہے اور ہر اس راستے کو جلا دیتا ...

مزید پڑھیے

معزز شاعر کی کائنات

تمہارے دل کی سنگ لاخ وادی میں دشوار گزار اور پر پیچ راستوں کے بیچ کہیں کسی مقام پر ایک شکستہ حال جھونپڑی گرم ہوا کے تھپیڑوں سے اپنی زنگ آلود میخوں کے بل پر ویسے ہی پھڑپھڑا رہی ہے جیسے دیے کی جاں بہ لب لو اندھیروں کو شکست دینے کے بعد بجھنے لگتی ہے جن لہروں اور ان سے جنم لینے والی ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

درد سے بھرا گلاس ہونٹوں سے لگا کر پیتے پیتے میں نے اس کی شرابی آنکھوں میں جھانکا اور میرا جسم پیاس سے بھر گیا

مزید پڑھیے

غم مت کرنا

ستر سال تمہاری پسلی سے خود کو باندھ کر چلی ہوں کبھی بری ہوں کبھی بھلی ہوں میرے محبوب میں تمہاری نگاہوں کا سہارا لیتے لیتے تھک چکی ہوں تمہاری سانسوں کی ڈور میرے ماس میں رہ گزر بنا کر ہڈیوں کو سرد لہر اوڑھائے قصے سناتے نہیں تھکتی میری پلکیں چلمن بننے سے خوف کھاتی ہیں ایک آواز کہتی ...

مزید پڑھیے

غلط فہمی

انصاف کے ہتھوڑے میں ذرا بھی جان ہوتی لوگوں کے منہ پر برس جاتا ہوا میں معلق بے بسی محسوس کرتے ہوئے اپنی پیشانی لکڑی کی میز پر پٹکتا ہے

مزید پڑھیے

ابھی وقت ہے لوٹ جاؤ

سنو کثرت خاک میں بسنے والو سنو توسن برق رفتار پر کاٹھیاں کسنے والو یہ پھر کون سے معرکے کا ارادہ تمہاری نسوں میں یہ کس خواب فاتح کا پھر باب وحشت کھلا ہے فصیلوں پہ اک پرچم خوں چکاں گاڑ دینے کی نیت کئی لاکھ مفتوح جسموں کو پھر حالت سینہ کوبی میں روتے ہوئے دیکھنے کی تمنا یہ کس آب ...

مزید پڑھیے

اسی آگ میں

اسی آگ میں مجھے جھونک دو وہی آگ جس نے بلایا تھا مجھے ایک دن دم شعلگی دم شعلگی مرا انتظار کیا بہت کئی خشک لکڑیوں شاخچوں، کے حصار میں جہاں برگ و بار کا ڈھیر تھا دم شعلگی مجھے ایک پتے نے یہ کہا تھا گھمنڈ سے ادھر آ کے دیکھ کہ اس تپیدہ خمار میں ہمیں ہم ہیں لکڑیوں شاخچوں کے حصار میں یہاں ...

مزید پڑھیے

بڑا پر ہول رستہ تھا

بڑا پر ہول رستہ تھا بدن کے جوہر خفتہ میں کوئی قوت لاہوت مدغم تھی کسی غول بیابانی کی گردش میرے دست و پا کی محرم تھی دہان جاں سے خارج ہونے والی بھاپ میں تھے سالمات درد روشن گزر گاہوں کے سب نا معتبر پتھر خلا میں اڑنے والی پست مٹی کے سیہ ذرے پہاڑ اور آئنے سائے کرے پیڑوں کے پتے پانیوں ...

مزید پڑھیے

بیج اندر ہے

بیج اندر ہے لیکن میں باہر ہوں اپنی زمیں سے فقط مشت دو مشت اوپر خلا میں اگا ہوں مری کوئی جڑ ہی نہیں ہے نہیں علم تالیف کی روشنی نے ہوا اور پانی نے کس طرح سینچا نمی کیسے میرے مساموں میں آئی جدائی سہی میں نے کیسے مقرر جو ازلوں سے تھا بیچ کا فاصلہ وسط نا وسط کا مرحلہ میں نے کیسے گوارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1788 سے 6203