آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھ
آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھ ماہ کو تولے گا شاید اپنی رعنائی کے ساتھ سیر کر عالم کی غافل دیدنی ہے یہ طلسم لطف ہے ان دونوں آنکھوں کا تو بینائی کے ساتھ دل کہیں ہے جاں کہیں ہے میں کہیں آنکھیں کہیں دوستی اچھی نہیں محبوب ہرجائی کے ساتھ اس میں ذکر یار ہے اس میں خیال یار ...