قومی زبان

کشمکش

چاروں سمت سے طوفاں امڈیں اور میں اکیلا تنہا جان درد کی راہوں میں ہلکان کیا کروں جب اپنے ہی پر اپنے پیروں زمیں پہ آن دھنسے ہوں سوچتا ہوں اب پروں سے ناطہ توڑ لوں یا پاؤں یہیں پر چھوڑ دوں

مزید پڑھیے

ندامت

جس کے جھوٹے پیار پہ ہم نے سچائی کے سارے نغمے سارے قصے اس کے پاؤں پہ لا رکھے لیکن اس کی فطرت کے ہرجائی پن سے جو کچھ ہمیں میسر آیا اس کا کیا احوال سنائیں کیسے ماہ و سال بتائیں خود سے ہی شرمندہ ہیں سارے سپنے ٹوٹ گئے دیکھو پھر بھی زندہ ہیں

مزید پڑھیے

ابجد

کسی گم شدہ رہ رائیگانی کی ساعتوں کے غبار میں میں چھپا رہا کسی دیدۂ اشک بار میں میرا عکس شامل نہ ہو سکا کسی گوہر آب دار میں مری خواب خواب سی خواہشیں مرے خار خار سے رت جگے مرے آئنوں کی شکستگی مری بے بسی رہی ایک لمحے کی منتظر جو نہ آ سکا جو نہ آئے گا یوں ہی عمر بھر جو رلائے گا یوں ہی ...

مزید پڑھیے

چشم بینا اور احساس حقیقت چاہئے

چشم بینا اور احساس حقیقت چاہئے کثرت فطرت میں وحدت کی عقیدت چاہئے ضبط احساسات کی عینی شہادت چاہئے ہر عمل میں ترک لذت کی رعایت چاہئے کثرت فطرت میں رہ کر حسن وحدت چاہئے ہر عبادت میں عبودیت کی نیت چاہئے جلوہ ہائے نور کو آغوش خلوت چاہئے اور خلوت میں مکین دل کی جلوت چاہئے ہر نفس ...

مزید پڑھیے

پردۂ غم میں دکھایا جلوۂ کامل مجھے

پردۂ غم میں دکھایا جلوۂ کامل مجھے لے اڑی یا رب کہاں میری فضائے دل مجھے میری منزل کیوں نہ ہو مشکل سے بھی مشکل مجھے ہر قدم اک راہ ہے ہر راہ اک منزل مجھے ہر نفس میں آرزوئے دل ملی حائل مجھے ہر قدم پر پیش آئی اک نئی منزل مجھے اب یہ کیا ہے تو نے شان سرفروشی دیکھ لی خلق کیوں کہنے لگی ...

مزید پڑھیے

تصور کو صورت میں لایہ گیا ہے

تصور کو صورت میں لایہ گیا ہے جو پردہ تھا حائل اٹھایا گیا ہے فریب نظر کی ہیں رنگینیاں سب جو کثرت کو وحدت میں پایہ گیا ہے درون مکاں اک مکیں کا نہ ملنا یہی راز تھا جو چھپایا گیا ہے دھواں دل سے اٹھے تو یہ جان لینا چراغ سحر تھا بجھایا گیا ہے اک آواز ہے رہزن ہوش و تمکیں کوئی راگ اس ...

مزید پڑھیے

سنا جب تیرے دیوانے نے گلشن میں بہار آئی

سنا جب تیرے دیوانے نے گلشن میں بہار آئی قبا صحرا سے خود دامن میں لے کر نوک خار آئی نظر ہر رنگ میں جن کو شبیہ حسن یار آئی انہیں کیا غم خزاں آئی چمن میں یا بہار آئی کبھی سانسوں کے تاروں میں کبھی آنکھوں کے پردوں میں صدائے شوق کس کس ساز میں تجھ کو پکار آئی پڑی برق نظر صیاد کی جب ...

مزید پڑھیے

حجازی رنگ میں جو رنگ عرفاں دیکھ لیتے ہیں

حجازی رنگ میں جو رنگ عرفاں دیکھ لیتے ہیں وہ اپنے کفر میں بھی نور ایماں دیکھ لیتے ہیں کبھی رہتا تھا غم پائے طلب منزل کے دامن میں مگر اب پاؤں کو منزل بہ داماں دیکھ لیتے ہیں چھپے جا تو نظر سے لاکھ دل سے چھپ نہیں سکتا تری تنویر نزدیک رگ جاں دیکھ لیتے ہیں بس اتنی رہ گئی ہے اب قفس میں ...

مزید پڑھیے

عذاب

مجھے شک کی نظروں سے کیوں دیکھتے ہو مری بات سچ ہے مری بات سچ ہے میں کل رات ناگوں سے لڑتا رہا ہوں کنہیا نہیں میں جو ناگوں کو نتھ لوں میں ایسا بڑا کوئی انسان کب ہوں جو حرف شکایت بھی لب پر نہ لائے نہ جو یہ کہے میں تو بس باز آیا وہ گوریلا فوجیں ہیں یا ناگ کالے نکلتے ہی دن کے وہ جاتے کہاں ...

مزید پڑھیے

تنہا لمحوں کی سرگوشی

تنہا لمحوں نے آ آ کر کان میں سرگوشی کی اکثر پوچھا ساتھی یہ تو بتاؤ زہر کے کتنے جام پیے ہیں جھوٹوں کو کیا مکاروں کو پھٹکارا للکارا بھی ہے دار کے گہرے سائے میں کیا جھنڈا حق کا لہرایا ہے پیار کو اک آدرش بنا کر کب قصد تصلیب کیا ہے جب جب بزم میں آئے ہو تم گم سم چپ چپ سر لٹکائے طوق گلے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1733 سے 6203