قومی زبان

مہجور ہر انجمن ہیں ہم لوگ

مہجور ہر انجمن ہیں ہم لوگ اپنے میں جلا وطن ہیں ہم لوگ جو سبزہ و برگ سے ہو محروم وہ شبنم بے کفن ہیں ہم لوگ اے اپنی ہی خلوتوں میں محبوس شاید تری انجمن ہیں ہم لوگ خود اپنے شعور جاں سے ملبوس بے پیکر و پیرہن ہیں ہم لوگ اے عالم رنگ رنگ تخلیق آزردہ جان و تن ہیں ہم لوگ خود اپنے وجود ...

مزید پڑھیے

غروب مہر کا ماتم ہے گلستانوں میں

غروب مہر کا ماتم ہے گلستانوں میں نسیم صبح بھی شامل ہے نوحہ خوانوں میں جہاں تھے رقص طرب میں کبھی در و دیوار بلائیں ناچ رہی ہیں اب ان مکانوں میں اندھیری رات بھیانک کھنڈر مہیب فضا بھٹک رہا ہوں اجل کے سیاہ خانوں میں یہ آمد آمد طوفان شب خدا کی پناہ طیور شام سمٹ جائیں آشیانوں ...

مزید پڑھیے

نکلو حصار ذات سے تو کچھ سجھائی دے

نکلو حصار ذات سے تو کچھ سجھائی دے گنبد میں بازگشت صدا ہی سنائی دے ہر اک افق فریب نظر ہے کہ آسماں جھک کر گلے زمین کے ملتا دکھائی دے یا توڑ دے بہ پاس انا کاسہ خود گدا ورنہ در بخیل کی یارب گدائی دے مشرق میں آدمی کو اگر پھانس بھی چبھے مغرب کا ہر مکین تڑپ کر دہائی دے قہر خدا خداؤں کے ...

مزید پڑھیے

خوب ناصح کی نصیحت کا نتیجہ نکلا

خوب ناصح کی نصیحت کا نتیجہ نکلا ہم نے اشکوں کو سنبھالا تو کلیجہ نکلا تیرے رندوں کو جلاتی رہی صحراؤں کی دھوپ کتنا بے فیض تری زلفوں کا سایہ نکلا عید کا چاند جو دیکھا تو تمنا لپٹی ان سے تقریب ملاقات کا رشتہ نکلا حیف کہ پھول ہیں محتاج نسیم و شبنم مرحبا چیر کے پتھر کو جو سبزہ ...

مزید پڑھیے

اب کے بکھرا تو میں یکجا نہیں ہو پاؤں گا

اب کے بکھرا تو میں یکجا نہیں ہو پاؤں گا تیرے ہاتھوں سے بھی ویسا نہیں ہو پاؤں گا مجھ کو بیمار کرے گی تری عادت اک دن اور پھر تجھ سے بھی اچھا نہیں ہو پاؤں گا یہ تو ممکن ہے کہ ہو جاؤں ترا خیر اندیش ہاں مگر اس سے زیادہ نہیں ہو پاؤں گا اب مری ذات میں بس ایک کی گنجائش ہے میں ہوا دھوپ تو ...

مزید پڑھیے

کچھ اس ادا سے محبت شناس ہونا ہے

کچھ اس ادا سے محبت شناس ہونا ہے خوشی کے باب میں مجھ کو اداس ہونا ہے میں آج سوگ منانا سکھانے والا ہوں ادھر کو آئیں جنہیں محو یاس ہونا ہے نشست روح میں پاکیزگی ہے شرط مگر بدن کی بزم میں بس خوش لباس ہونا ہے میں خود ہی ہوتا ہوں اپنی نشاط کا باعث سو مجھ کو خود مرے غم کی اساس ہونا ...

مزید پڑھیے

حرص کے باب میں یوں خود کو تمہارا کر کے

حرص کے باب میں یوں خود کو تمہارا کر کے ہاتھ ملتا ہوں میں اپنا ہی خسارہ کر کے اب مرے ذہن میں بس لذت دنیا ہے رواں تھک چکا ہوں تری الفت پہ گزارہ کر کے ہم ابھی صحبت دنیا میں ہیں مصروف مگر کوئی شب تم کو بھی دیکھیں گے گوارہ کر کے ہم سے خاموش طبیعت بھی ہیں دنیا میں کہ جو اس کو ہی چاہتے ...

مزید پڑھیے

رنگ لاتی بھی تو کس طور جبیں سائی مری

رنگ لاتی بھی تو کس طور جبیں سائی مری جب خود اس کو نہ تھی درکار شناسائی مری یہ مری چیز ہے سو اس کا بھروسہ ہے مجھے خود مرے کام نہ آئے گی مسیحائی مری اس نے اک بار تو جھانکا بھی تھا مجھ میں لیکن اس سے دیکھی نہ گئی وسعت تنہائی مری تم یہ کیا سوچ کے گزری تھی مرے ماضی سے تم یہ کیا سوچ کے ...

مزید پڑھیے

آخری وقت تری راہ سے ہٹ جائیں گے

آخری وقت تری راہ سے ہٹ جائیں گے تو اگر ہو گیا راضی تو پلٹ جائیں گے تیری نظروں کے تقاضوں کو تو سہہ لیں گے مگر ہم ترے لمس کی شمشیر سے کٹ جائیں گے لوٹتے وقت وہ مانگے گا خوشی سے رخصت اور ہم روتے ہوئے اس سے لپٹ جائیں گے

مزید پڑھیے

وصل کی رت ہو کہ فرقت کی فضا مجھ سے ہے

وصل کی رت ہو کہ فرقت کی فضا مجھ سے ہے عشق کی راہ میں سب اچھا برا مجھ سے ہے یہ حقیقت ہے کہ تجھ سے ہے مرا ہونا مگر بندگی میری ہے سو تو بھی خدا مجھ سے ہے تو تو بس چھوڑ گیا تھا میرے سینہ میں اسے تیری فرقت کا مگر زخم ہرا مجھ سے ہے میرے ہی ہونے سے تاری ہے دوانوں پہ جنوں تیرے نزدیک بھی یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1732 سے 6203