قومی زبان

جواں رت تھی پھر افسانے بھی نکلے

جواں رت تھی پھر افسانے بھی نکلے مرے منہ پر بہت دانے بھی نکلے سبھی آئے مری جانب سنبھل کر مگر کچھ تم سے دیوانے بھی نکلے ادھورے شعر سے کچھ خواب اپنے ہمیں نیندوں سے بھٹکانے بھی نکلے تمہارے ساتھ رستے باغ جیسے تمہارے بعد ویرانے بھی نکلے وہ جب ٹھنڈا ہوا غربت کے ہاتھوں اسی مٹھی سے ...

مزید پڑھیے

کیسے نکلوں خمار سے باہر

کیسے نکلوں خمار سے باہر بازوؤں کے حصار سے باہر درد نکلا ہے صبر کی حد سے اشک نکلے قطار سے باہر چند لمحوں کی مختصر قربت اور یادیں شمار سے باہر اس لیے اس کی یاد میں گم ہوں بھولنا اختیار سے باہر اور جائیں کہاں مہ و انجم روز و شب کے مدار سے باہر طفل دل پھر اداس بیٹھا ہے کوئی لے ...

مزید پڑھیے

کہانیاں نہ ختم ہوں گی اختتامیوں کے ساتھ

کہانیاں نہ ختم ہوں گی اختتامیوں کے ساتھ مجھے قبول کر مری تمام خامیوں کے ساتھ تو اپنے حسن و ناز کے غرور میں ہی جل بجھی وہ لوٹ لے گا بزم اپنی خوش کلامیوں کے ساتھ یہ کیا ہوا کہ اس کے باوجود بازی ہار دی کھڑی تھی میں تو سر اٹھائے اپنے حامیوں کے ساتھ

مزید پڑھیے

غمی خوشی بانٹی تھی اپنے بستر سے

غمی خوشی بانٹی تھی اپنے بستر سے میری ہم سفری تھی اپنے بستر سے چار طرف ریشم تھا اس میں الجھ گئی مشکل سے پھر بچی تھی اپنے بستر سے سلوٹ سلوٹ تارے کرتے ہوئے شمار سحر مثال اتری تھی اپنے بستر سے نیندیں پلک میں بھر کر روئی کی مانند ادھر ادھر بھٹکی تھی اپنے بستر سے جنگل کی جانب پھر ...

مزید پڑھیے

گھٹی گھٹی خاک میں دبی اس صدا سے آگے

گھٹی گھٹی خاک میں دبی اس صدا سے آگے ہے اور صحرائے مرگ کرب و بلا سے آگے مرے مسیحا تلاش کر دھڑکنوں کے جگنو یہاں وہاں زندگی پڑی ہے فنا سے آگے نگل گئی ہنستے کھیلتوں کو پلک جھپکتے ستم گری میں زمیں بڑھی انتہا سے آگے انہیں کی سانسوں کو لے اڑے آندھیوں کے ریلے جو اونچا اڑنے کی چاہ میں ...

مزید پڑھیے

اور ابھی وہ بات نہیں تھی

اور ابھی وہ بات نہیں تھی پورے چاند کی رات نہیں تھی فیصلہ اب آسان ہوا ہے شامل میری ذات نہیں تھی جیت کے بھی میں ہار گئی ہوں اس کی مات بھی مات نہیں تھی اندر بھی اک حبس کا موسم باہر بھی برسات نہیں تھی کیوں پالا یہ دکھ رخشندہؔ دل کی جب اوقات نہیں تھی

مزید پڑھیے

ڈھونڈھنا ملنا بچھڑنا کہیں کھونا رک جائے

ڈھونڈھنا ملنا بچھڑنا کہیں کھونا رک جائے یہ جو ہوتا ہے طبیعت میں یہ ہونا رک جائے غم کی بد روح سے کچھ اور توقع مت رکھ رات کے پچھلے پہر اوس کا یہ رونا رک جائے ہر مہینے کی طرح پھر سے بڑھے اخراجات پھر کہیں ننھے سے بچہ کا کھلونا رک جائے اس لیے دبلے ہوئے جاتے ہیں سب اہل عشق کھانا پینا ...

مزید پڑھیے

عکس موجود نہ سایا موجود

عکس موجود نہ سایا موجود مجھ میں اب کچھ نہیں میرا موجود نکل آتا ہوں میں اکثر باہر کوئی خود میں رہے کتنا موجود کبھی دریا سے ہے قطرہ غائب کبھی قطرے میں ہے دریا موجود میں ذرا بھی نہیں اس میں لیکن مجھ میں وہ سارا کا سارا موجود جب تلک پیاس ہے تجھ میں باقی بس تبھی تک ہے یہ دریا ...

مزید پڑھیے

جس کو بھی دیکھو ترے در کا پتہ پوچھتا ہے

جس کو بھی دیکھو ترے در کا پتہ پوچھتا ہے قطرہ قطرے سے سمندر کا پتہ پوچھتا ہے ڈھونڈتا رہتا ہوں آئینے میں اکثر خود کو میرا باہر مرے اندر کا پتہ پوچھتا ہے ختم ہوتے ہی نہیں سنگ کسی دن اس کے روز وہ ایک نئے سر کا پتہ پوچھتا ہے ڈھونڈتے رہتے ہیں سب لوگ لکیروں میں جسے وہ مقدر بھی سکندر کا ...

مزید پڑھیے

آسماں اس کے لیے اور زمیں اس کے ساتھ

آسماں اس کے لیے اور زمیں اس کے ساتھ شہر کا چل دیا ہر ایک حسیں اس کے ساتھ بس یہی سوچ کے میں بھوکی رہی کتنے دن ہوگی اک دعوت شیراز کہیں اس کے ساتھ ناؤ کو چار طرف گھیرے کھڑے تھے گرداب یہ مگر فیصلہ میرا تھا نہیں اس کے ساتھ کیسے میں خالی کرا سکتی تھی یہ دل اپنا گھر کے دیوار و در و عکس و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1693 سے 6203