قومی زبان

وہ دلبر ہیں تو گویا دلبری کرنی پڑے گی

وہ دلبر ہیں تو گویا دلبری کرنی پڑے گی انہیں کے نام دل کی ڈائری کرنی پڑے گی وہ ان کو جانتے ہیں اور ان کے حال دل کو سو ان کے دوستوں سے دوستی کرنی پڑے گی ہمارے درمیاں یہ دکھ ہی قدر مشترک ہیں سو ہم کو اجتماعی خودکشی کرنی پڑے گی بدن کو روح سے محروم کر ڈالا گیا ہے بسر اس طور ہی اب زندگی ...

مزید پڑھیے

جیسے جی چاہے مرا حوصلہ پرکھا جائے

جیسے جی چاہے مرا حوصلہ پرکھا جائے دور اک دشت میں تنہا کہیں پھینکا جائے توڑنا اور کئی بار بنانا مجھ کو دوستو اتنا بھی آسان نہ سمجھا جائے رکھا جائے مجھے جنت سے کسی منظر میں پاؤں کے نیچے ہی جنت کو نہ رکھا جائے دیکھنے والے حسیں آنکھ بہت دیکھتے ہیں جو پس چشم ہے غم اس کو بھی دیکھا ...

مزید پڑھیے

سمندر بھی ہوا عبرت نشاں پانی ہی پانی

سمندر بھی ہوا عبرت نشاں پانی ہی پانی مرے چاروں طرف ہے الاماں پانی ہی پانی عجب دنیا ہے اس کو فکر دنیا ہی نہیں ہے فقط دیکھا ہے تو گریہ کناں پانی ہی پانی نگاہ نم سے اس نسبت بھی رشتہ جوڑے رکھا کہ میں ہوں ایک صحرا اور وہاں پانی ہی پانی تمہارے ساتھ جس دم تن بدن بارش میں بھیگا لہو بن ...

مزید پڑھیے

حرف تا حرف افتاد کی شاعری

حرف تا حرف افتاد کی شاعری دل کی اک شہر برباد کی شاعری کب سمندر کناروں کا محتاج ہے کب دل موج آزاد کی شاعری بانسری کی مدھر لے سے باہر نکل سن ذرا روح ناشاد کی شاعری ترک ہوتی نہیں ایسی کچھ عادتیں فکر داد ہوس داد کی شاعری توبہ توبہ کہ رکھی ہے فٹ پاتھ پر میرؔ صاحب سے استاد کی ...

مزید پڑھیے

غم کو دل کا قرار کر لیا جائے

غم کو دل کا قرار کر لیا جائے اس خزاں کو بہار کر لیا جائے پھر جنوں کو سوار کر لیا جائے خود کو پھر تار تار کر لیا جائے زندگی کی کمان سے نکلے تیر کو آر پار کر لیا جائے خودکشی کو ادھار رکھتے ہوئے موت کا انتظار کر لیا جائے تجربوں کو بھلا کے چاہتے ہیں تجھ پہ پھر اعتبار کر لیا ...

مزید پڑھیے

لکھ لکھ کے آنسوؤں سے دیوان کر لیا ہے

لکھ لکھ کے آنسوؤں سے دیوان کر لیا ہے اپنے سخن کو اپنی پہچان کر لیا ہے آخر ہٹا دیں ہم نے بھی ذہن سے کتابیں ہم نے بھی اپنا جینا آسان کر لیا ہے دنیا میں آنکھیں کھولی ہیں موندنے کی خاطر آتے ہی لوٹنے کا سامان کر لیا ہے سب لوگ اس سے پہلے کہ دیوتا سمجھتے ہم نے ذرا سا خود کو انسان کر لیا ...

مزید پڑھیے

کچھ اس قدر میں خرد کے اثر میں آ گیا ہوں

کچھ اس قدر میں خرد کے اثر میں آ گیا ہوں سمٹ کے سارا کا سارا ہی سر میں آ گیا ہوں زمیں اچھال چکی آسماں نے تھاما نہیں میں کائنات میں بالکل ادھر میں آ گیا ہوں یہ زندگی بھی مرے حوصلوں پہ حیراں ہے سمجھ رہی تھی کہ میں اس کے ڈر میں آ گیا ہوں ذرا سا فاصلہ میں نے بھی طے کیا تو ہے اگر سے دو ...

مزید پڑھیے

دن کو دن رات کو میں رات نہ لکھنے پاؤں

دن کو دن رات کو میں رات نہ لکھنے پاؤں ان کی کوشش ہے کہ حالت نہ لکھنے پاؤں ہندو کو ہندو مسلمان کو لکھوں مسلم کبھی ان دونوں کو اک ساتھ نہ لکھنے پاؤں بس قلم بند کئے جاؤں میں ان کی ہر بات دل سے جو اٹھتی ہے وہ بات نہ لکھنے پاؤں سوچ تو لیتا ہوں کیا لکھنا ہے پر لکھتے سمے کانپتے کیوں ہے ...

مزید پڑھیے

شرمندہ اپنی جیب کو کرتا نہیں ہوں میں

شرمندہ اپنی جیب کو کرتا نہیں ہوں میں بازار آرزو سے گزرتا نہیں ہوں میں پہچان ہی نہ پاؤں خود اپنے ہی عکس کو اتنا بھی آئنے میں سنورتا نہیں ہوں میں ان کاموں کی بناتا ہوں فہرست بار بار جو کام مجھ کو کرنے ہیں کرتا نہیں ہوں میں

مزید پڑھیے

شوق کی حد کو ابھی پار کیا جانا ہے

شوق کی حد کو ابھی پار کیا جانا ہے آئینے میں ترا دیدار کیا جانا ہے ہم تصور میں بنا بیٹھے ہیں اک چارہ گر خود کو جس کے لئے بیمار کیا جانا ہے دل تو دنیا سے نکلنے پہ ہے آمادہ مگر اک ذرا ذہن کو تیار کیا جانا ہے توڑ کے رکھ دئے باقی تو انا نے سارے بت بس اک اپنا ہی مسمار کیا جانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1694 سے 6203