قومی زبان

میں

فضا کی چیخ ہوں میں اک فغاں ہوں اندھیری رات میں ماتم کناں ہوں ہر اک دور بہاراں میرے بس میں میں اپنے خار و گل کی پاسباں ہوں ازل سے ہوں ابد تک میں رہوں گی پیام درد ہوں دل میں نہاں ہوں مرے اندر کی دیواریں گری ہیں بظاہر میں حصار بے کراں ہوں مجھے برسات میں آ کر جلا دے سمجھ لے برق میں ...

مزید پڑھیے

فرض

پیچ در پیچ مسائل میں سدا زندگی نے مجھے الجھائے رکھا اور میں پیٹ کے دوزخ کے لئے روز و شب تنگ سیہ رستوں پر لے کے امید کا چھوٹا سا دیا کبھی اس گوشے کبھی اس گوشے عزت نفس و انا ساتھ لئے بیج محنت کے سدا بوتی رہی بستر عیش کے سپنے لے کر فرش سنگیں پہ سدا سوتی رہی اپنی ہستی کو مٹا کر اکثر کار ...

مزید پڑھیے

کتنا دشوار یہ سانسوں کا سفر لگتا ہے

کتنا دشوار یہ سانسوں کا سفر لگتا ہے زندگی اب تو ترے نام سے ڈر لگتا ہے پس دیوار پڑوسی کوئی روتا ہے اگر اپنے احساس کا دامن مجھے تر لگتا ہے جھانکتے ہیں در و دیوار سے یادوں کے نقوش مجھ کو آسیب زدہ اپنا ہی گھر لگتا ہے تاج رکھے ہوئے جب دیکھے عجائب گھر میں ساتھ ان کے مجھے اسلاف کا سر ...

مزید پڑھیے

نہ جب اپنا ہی غم اپنا نہ جب اپنی خوشی اپنی

نہ جب اپنا ہی غم اپنا نہ جب اپنی خوشی اپنی تو پھر کیوں کر گزارے ہنس کے انساں زندگی اپنی محبت راز بن کر رہ نہیں سکتی زمانے میں کہ ہم نے داستان درد اوروں سے سنی اپنی پریشاں خاطری کا لطف کچھ باقی نہیں رہتا اگر حد سے گزر جائے پریشاں خاطری اپنی اچانک ناخدا خوش ہو کے گھبرا سا گیا ...

مزید پڑھیے

یہ جی میں ہے کہ محبت کا باب لکھوں گی

یہ جی میں ہے کہ محبت کا باب لکھوں گی جناب من کو میں عالی جناب لکھوں گی کبھی جو بھولے سے پڑھ لے وہ جان ہی لے گا میں راز عشق کو یوں بے حساب لکھوں گی جو حوصلہ ہے تو منہ پھیر کر گزر جائے میں اس کی چشم کرم کو عتاب لکھوں گی مرے نصیب کا دار و مدار ہے اس پر دل خراب کو خانہ خراب لکھوں ...

مزید پڑھیے

شرمندگیٔ دل کو چھپاؤ گے کہاں تک

شرمندگیٔ دل کو چھپاؤ گے کہاں تک آہوں کی رسائی ہے زمیں اور زماں تک بن اس کے ہے دشوار یہاں سانس بھی لینا آیا ہے کوئی دل میں اتر کر رگ جاں تک کانوں میں وہ امرت سا اتر جاتا ہے بن کر تاثیر مسیحائی کی آئے جو زباں تک ہر دل میں تمنا تو ہر اک آنکھ میں حسرت شیدائی الفت ہے یہاں پیر و جواں ...

مزید پڑھیے

دیا جلا بھی نہیں جو اسے بجھا دیا جائے

دیا جلا بھی نہیں جو اسے بجھا دیا جائے ہمیں بھی وقت سے پہلے ہی اب سلا دیا جائے یہی رضا ہے اگر کاتب مقدر کی تو جو پنپ نہ سکے پھر اسے مٹا دیا جائے رہے نہ زد میں کسی بھی بدلتے موسم کی نہال دل پہ وہی پھول اک کھلا دیا جائے کسی کو پانے کا احساس اس طرح سے رہے تو بزم دوست سے دشمن کو ہی اٹھا ...

مزید پڑھیے

آسان ہر اک بات کو دشوار کرو تم

آسان ہر اک بات کو دشوار کرو تم اقرار جہاں میں کروں انکار کرو تم جب بیچ بھنور زیست کی کشتی کبھی ڈوبے ملاح بنو اور مجھے پتوار کرو تم دامن پہ محبت کا کوئی داغ لگا کر پھر پیش زمانہ مجھے لاچار کرو تم زنجیر محبت یوں ہی پیروں میں سجا کر وحشت کا تماشا مری ہر بار کرو تم ہر بات پہ ٹھہرا ...

مزید پڑھیے

زندگی درد کا نصاب رہی

زندگی درد کا نصاب رہی اور کبھی نغمگی کا باب رہی خون آلود تھے سبھی چہرے میں مگر سرخئ گلاب رہی نیلے پانی پہ منعکس جو ہوئے میں وہ مہتاب و آفتاب رہی وہ مخاطب نہیں ہوا مجھ سے پھر بھی میں مرکز خطاب رہی نفرتوں کے جہان میں رضیہؔ میں محبت کا انتساب رہی حرف شائع نہ ہو سکے میرے وارث ...

مزید پڑھیے

رسم دنیا کو نبھاتے جائیے

رسم دنیا کو نبھاتے جائیے غم کو سینے سے لگاتے جائیے بذلہ سنجی سے نہ باز آئے اگر ہم نہ لوٹیں گے بلاتے جائیے حکم نو اک اور جاری ہو گیا چوٹ کھا کر مسکراتے جائیے خاک نظروں میں ہماری جھونکیے خاک میں ہم کو ملاتے جائیے آئنہ ہو کر رہوں گی آپ کا میری نظروں میں سماتے جائیے ظلمت شب کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1567 سے 6203