قومی زبان

باد و باراں کی نگاہوں میں نمی اچھی لگی

باد و باراں کی نگاہوں میں نمی اچھی لگی ہم کو اپنی زندگی کی بیکلی اچھی لگی قدر کب اس زندگی کی زندگی میں ہو سکی موت آئی روبرو تو زندگی اچھی لگی بڑھ کے جس نے تھام لی لغزش مری بے ساختہ آج اس معصوم کی یہ سادگی اچھی لگی گونج پر زنجیر کی اک رقص بسمل نے کیا ظلم کی وحشی فضا میں نغمگی اچھی ...

مزید پڑھیے

فکر آشیاں

عمل کچھ ہے زبان باغباں کچھ اور کہتی ہے نئی آب و ہوائے گلستاں کچھ اور کہتی ہے بھروسہ کیا کریں اہل گلستاں لالہ و گل پر عنادل کی زبان پر بیاں کچھ اور کہتی ہے نہ ہوتا کوئی ڈر صیاد و گلچیں کا نشیمن میں مگر غفلت تری اے پاسباں کچھ اور کہتی ہے سناتی ہیں بہاریں ہم کو پیغام طرب لیکن بہاروں ...

مزید پڑھیے

جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

ندامت سے سبکساری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے صداقت سے گراں باری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے مزاجوں میں وہ مکاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے دلوں کو سچ سے بے زاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے تخیل میں بظاہر انقلاب آیا تو ہے لیکن ستم کی گرم بازاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے سمجھتے تھے کہ آزادی مسرت ...

مزید پڑھیے

کنج عزت سے اٹھو صبح بہاراں دیکھو

کنج عزت سے اٹھو صبح بہاراں دیکھو دوستو نغمہ گرو رقص غزالاں دیکھو مٹ گیا راہ گزاروں سے ہر اک نقش خزاں ورق گل پہ لکھے اب نئے عنواں دیکھو مطرباں بہر قدم بوسیٔ شیریں سخناں محفل گل میں چلو جشن بہاراں دیکھو مژدہ پھر خاک خزاں رنگ کی قسمت جاگی آ گیا جھوم کے ابر گہر افشاں دیکھو ہم نوا ...

مزید پڑھیے

سو رہا تھا تو شور برپا تھا

سو رہا تھا تو شور برپا تھا اٹھ کے دیکھا تو میں اکیلا تھا خاک پر میرے خواب بکھرے تھے اور میں ریزہ ریزہ چنتا تھا چار جانب وجود کی دیوار اپنی آواز میں ہی سنتا تھا عمر بھر بوند بوند کو ترسے سامنے گھر کے ایک دریا تھا لب دریا کھڑے رہے دونوں وہ بھی پیاسا تھا میں بھی پیاسا تھا

مزید پڑھیے

بازگشت چار سو صداؤں کی

بازگشت چار سو صداؤں کی بات کیا کیجیے نظاروں کی دل میں خوشبو بسی ہے صندل کی رقص کرتی ہوئی فضاؤں کی سات رنگوں کی قوس ہے ہر سو پھول در پھول ان قطاروں کی قصۂ ہجر کی کہانی میں بات ہے صرف چاند تاروں کی ہم نے اوڑھی ہے اک سیاہ چادر آپ کے زلف کی گھٹاؤں کی حسن کا کیا موازنہ کیجے خود ...

مزید پڑھیے

جب ہوئے خواب میں وصال ہوئے

جب ہوئے خواب میں وصال ہوئے تم کو دیکھے تو ماہ و سال ہوئے ہم تمہیں بھول کر بھی یاد کریں کس قدر صاحب کمال ہوئے ہو گئے اپنی ذات میں یکتا بے مثالی کی اک مثال ہوئے اپنی خاموشیوں کے حجرے میں شور کرتا ہوا دھمال ہوئے لطف لینے کو ان کی حیرت کا ہم بھی آئینۂ جمال ہوئے لمحۂ وصل تو گزر ہی ...

مزید پڑھیے

ترا پیکر ترا سایا نہیں ہے

ترا پیکر ترا سایا نہیں ہے کوئی بھی تو ترے جیسا نہیں ہے جو گزرا ہے تری چاہت سے ہٹ کر وہ میری زیست کا لمحہ نہیں ہے سمندر میں چھپے ہیں کتنے طوفاں یہ ساحل کو بھی اندازہ نہیں ہے مری ہر سانس ہے تجھ سے عبارت عبادت کا مجھے دعویٰ نہیں ہے

مزید پڑھیے

ہوا چلی تو بہت دیر تک رکی ہی نہیں

ہوا چلی تو بہت دیر تک رکی ہی نہیں تمہاری یاد کہ جیسے کبھی تھمی ہی نہیں سماعتوں میں مری گونجتی رہی ہر دم وہ ایک بات جو اس نے کبھی کہی ہی نہیں نہ جانے کس لئے اس کا ہی انتظار رہا وہ ایک شخص کہ جس سے کبھی ملی ہی نہیں ہوا نے جب بھی اڑایا گئی فلک کی طرف عجیب خاک تھی جو خاک میں ملی ہی ...

مزید پڑھیے

دنیا کو ہر چیز دکھائی جا سکتی ہے

دنیا کو ہر چیز دکھائی جا سکتی ہے پتھر میں بھی آنکھ بنائی جا سکتی ہے دل کی مٹی کی زرخیزی ایسی ہے کہ کیسی بھی ہو چیز اگائی جا سکتی ہے ہجر کا موسم وو موسم ہے جس میں جاناں آنکھوں میں بھی رات بتائی جا سکتی ہے پتھر کو ٹھوکر کی حد تک تم نہ جانو پتھر سے تو آگ لگائی جا سکتی ہے خود کے ہونے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1568 سے 6203