فرض
پیچ در پیچ مسائل میں سدا
زندگی نے مجھے الجھائے رکھا
اور میں پیٹ کے دوزخ کے لئے
روز و شب تنگ سیہ رستوں پر
لے کے امید کا چھوٹا سا دیا
کبھی اس گوشے کبھی اس گوشے
عزت نفس و انا ساتھ لئے
بیج محنت کے سدا بوتی رہی
بستر عیش کے سپنے لے کر
فرش سنگیں پہ سدا سوتی رہی
اپنی ہستی کو مٹا کر اکثر
کار دشوار کو آسان کیا
اپنے بچوں کے تعیش کے لئے
ہو کے بیگانۂ آرام و سکوں
ہر گھڑی کام فقط کام کیا
آج جب بچے جواں سال ہوئے
بے نیازانہ یہ کہہ کر گزرے
آج تک آپ نے جو کچھ بھی کیا
ہم پہ احسان نہیں ہے یہ نہ قرض
یہ حقیقت میں ہے ماں باپ کا فرض