قومی زبان

یہ تو نہیں کہ ان سے محبت نہیں مجھے

یہ تو نہیں کہ ان سے محبت نہیں مجھے پہلی سی والہانہ عقیدت نہیں مجھے اب میں ہوں اور اپنی طلب اپنی آرزو اپنے سوا کسی کی ضرورت نہیں مجھے جیسے کسی نے دولت کونین بخش دی غم وہ ملا کہ شکوۂ قسمت نہیں مجھے ہے ترک معصیت میں بھی پہلو گناہ کا کیا اعتبار وعدۂ رحمت نہیں مجھے جلوہ کچھ اس ادا ...

مزید پڑھیے

غم کہ تھا حریف جاں اب حریف جاناں ہے

غم کہ تھا حریف جاں اب حریف جاناں ہے اب وہ زلف برہم ہے اب وہ چشم گریاں ہے وسعتوں میں دامن کی ان دنوں گریباں ہے ہم نفس کہیں شاید موسم بہاراں ہے رنگ و بو کے پردے میں کون یہ خراماں ہے ہر نفس معطر ہے ہر نظر گلستاں ہے دیر کیا حرم کیا ہے بندگی یہ کیا جانے ہم جہاں پہ ہیں واعظ کفر ہے نہ ...

مزید پڑھیے

ترے خیال سے فرصت جو عمر بھر نہ ہوئی

ترے خیال سے فرصت جو عمر بھر نہ ہوئی کب اپنے آپ سے گزرے ہمیں خبر نہ ہوئی نہیں کہ تیری توجہ کبھی ادھر نہ ہوئی مجھے سوال کی جرأت ہی عمر بھر نہ ہوئی بہ قید ہوش محبت عذاب دیدہ و دل جگر کا خون تو کیا جرأت نظر نہ ہوئی سحر کے نام پہ بزم نشاط کی برہم چراغ ہم نے بجھائے مگر سحر نہ ...

مزید پڑھیے

اتفاقاً ملے تھے وہ سر راہ

اتفاقاً ملے تھے وہ سر راہ پھر نہ اٹھی کسی طرف بھی نگاہ ہے تبسم بجائے خود اک آہ اے غم عاشقی خدا کی پناہ غم اٹھاتا ہوں شکر کرتا ہوں عشق بے چارگی خدا کی پناہ زندگی اس قدر ذلیل نہ کر اب وہ ملتے بھی ہیں تو بر سر راہ بے تعلق بھی ہیں وہ مجھ سے رازؔ میری بربادیوں پہ بھی ہے نگاہ

مزید پڑھیے

عجیب شان سے نکلے ہیں آج دیوانے

عجیب شان سے نکلے ہیں آج دیوانے لبوں پہ مہر خموشی نظر میں افسانے مرے جنوں کی کوئی حد نہیں رہی شاید بہ نام عشق وہ آئے ہیں آج سمجھانے نگاہ لطف محبت کی موت ہے اے دل خدا کرے کہ وہ مجھ کو کبھی نہ پہچانے نگاہ مست کی ہیں آفرینیاں توبہ نظر اٹھی تھی کہ گردش میں آئے پیمانے

مزید پڑھیے

اچھا یہ کرم ہم پہ تو صیاد کرے ہے

اچھا یہ کرم ہم پہ تو صیاد کرے ہے پر نوچ کے اب قید سے آزاد کرے ہے چپ چاپ پڑا رہوے ہے بیمار تمہارا نالہ ہی کرے ہے نہ وہ فریاد کرے ہے اے باد صبا ان سے یہ کہہ دیجیو جا کر پردیس میں اک شخص تمہیں یاد کرے ہے فرزانہ اجاڑے ہے بھرے شہروں کو لیکن دیوانہ تو صحرا کو بھی آباد کرے ہے آوے ہے ...

مزید پڑھیے

دولت حرف و بیاں ساتھ لیے پھرتے ہیں

دولت حرف و بیاں ساتھ لیے پھرتے ہیں ہم محبت کا جہاں ساتھ لیے پھرتے ہیں اک تبسم پہ نہ جانا کہ ترے دیوانے غم کا اک کوہ گراں ساتھ لیے پھرتے ہیں جس پہ اک سانس کی تکرار سے بال آ جائے ہم وہ شیشے کا مکاں ساتھ لیے پھرتے ہیں آندھیاں اس کو بجھانے کے لیے ہیں بیتاب ہم جو یہ مشعل جاں ساتھ لیے ...

مزید پڑھیے

ہنگامے سے وحشت ہوتی ہے تنہائی میں جی گھبرائے ہے

ہنگامے سے وحشت ہوتی ہے تنہائی میں جی گھبرائے ہے کیا جانئے کیا کچھ ہوتا ہے جب یاد کسی کی آئے ہے جن کوچوں میں سکھ چین گیا جن گلیوں میں بدنام ہوئے دیوانہ دل ان گلیوں میں رہ رہ کر ٹھوکر کھائے ہے ساون کی اندھیری راتوں میں کس شوخ کی یادوں کا آنچل بجلی کی طرح لہرائے ہے بادل کی طرح اڑ ...

مزید پڑھیے

پاس تھے دور ہوئے جاتے ہیں

پاس تھے دور ہوئے جاتے ہیں کتنے مجبور ہوئے جاتے ہیں خود کیا ترک تعلق ہم سے خود ہی رنجور ہوئے جاتے ہیں عشق میں تیری قسم تیرے بغیر نالے دستور ہوئے جاتے ہیں حشر تک اب کوئی پردے میں رہے ہم بھی منصور ہوئے جاتے ہیں تجھ سے نسبت جو ہے دیوانوں کو کتنے مغرور ہوئے جاتے ہیں

مزید پڑھیے

یہ رنگ ہے تو کہاں ضبط کا رہے گا بھرم

یہ رنگ ہے تو کہاں ضبط کا رہے گا بھرم نہ اب وہ ناز تغافل نہ مجھ پہ جور و ستم یہ شاخ گل ہے کہ دل کی جراحتوں کا علم ہر ایک گل نظر آتا ہے زخم بے مرہم غبار راہ کہیں ہے نہ کوئی نقش قدم ابھی ابھی تو یہیں تھے مسافران عدم اب آ گئے ہیں تو آداب میکشی کی قسم بس ایک جام رفاقت جناب شیخ حرم اٹھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1562 سے 6203