قومی زبان

پھر فکر سخن میں کر رہا ہوں

پھر فکر سخن میں کر رہا ہوں افلاک سے میں گزر رہا ہوں لفظوں کے کھلا رہا ہوں غنچے ظلمت میں ستارے بھر رہا ہوں یہ شمس و قمر ہیں دیکھے بھالے ان سب کا میں ہم سفر رہا ہوں مٹی سے جنم جنم کا رشتہ دھرتی کا سنگار کر رہا ہوں جنت مری فکر کی ہے معراج دوزخ سے تو میں گزر رہا ہوں دنیا کے قصیدے ...

مزید پڑھیے

زرد پتے

خزاں کے پتے گل و یاسمن کی وادی میں اڑا کے لائے ہیں باد شمال کے طوفاں یہ زرد پتے ہیں یرقاں زدہ درختوں کے یہ زرد پتے ہیں مدقوق زندگی کے نشاں خزاں کا سایہ نہ پڑ جائے اس گلستاں پر اٹھاؤ پرچم گل اے چمن کے متوالو ہوا کے رخ کو بدل دو بہار کی موجو اڑا دو سمت مخالف میں زرد پتوں کو

مزید پڑھیے

نئی بستی

بوڑھی دہلی کے کھنڈروں میں بستی نے انگڑائی لی ہے ماضی کے اس ویرانے میں رنگ برنگے پھول کھلے ہیں پورب پچھم اتر دکھن اک مرکز پر آن ملے ہیں لیکن اس بستی کے باسی اک دوجے سے بیگانے ہیں سب مطلب کے دیوانے ہیں بابو لوگوں کی یہ بستی کاغذ کے پھولوں کا چمن ہے رنگ برنگے ان پھولوں میں بوئے محبت ...

مزید پڑھیے

یہ دنیا آنی جانی ہے کوئی دائم نہیں رہتا

یہ دنیا آنی جانی ہے کوئی دائم نہیں رہتا سدا خوشیاں نہیں رہتیں ہمیشہ غم نہیں رہتا لہو کو گرم رکھتی ہے مسائل کی گراں باری دل مردہ اسے کہیے کہ جس میں غم نہیں رہتا یہی بستی ہے جس کے ہر گلی کوچے سے نسبت تھی مگر اب یاں کوئی ہمدم کوئی محرم نہیں رہتا نکل اب اپنے مسکن سے مقدر ہے ترا ...

مزید پڑھیے

کیسے امیر کس کے گدا تاجدار کیا

کیسے امیر کس کے گدا تاجدار کیا دارالفنا میں جبر ہے کیا اختیار کیا وہ تیز دھوپ ہے کہ پگھلنے لگے ہیں خواب زلفوں کے سائے دیں گے فریب بہار کیا آباد کر خرابۂ ذہن و خیال کو شہروں میں ڈھونڈھتا ہے سکون و قرار کیا سمٹے تو مشت خاک ہے یہ آدمی کی ذات بکھرے تو پھر یہ عرصۂ لیل و نہار کیا میں ...

مزید پڑھیے

نہ پھول ہوں نہ ستارہ ہوں اور نہ شعلہ ہوں

نہ پھول ہوں نہ ستارہ ہوں اور نہ شعلہ ہوں گہر ہوں درد کا اور اشک بن کے رہتا ہوں وہ ایک بچہ ہے حسرت سے دیکھتا ہے مجھے میں اس کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا کھلونا ہوں یہ سوچ کر کہ بچھڑنا ہے ایک دن خود سے میں اپنے آپ سے پہروں لپٹ کے رویا ہوں عجیب شخص مری زندگی میں آیا تھا نہ یاد رکھوں اسے اور ...

مزید پڑھیے

ایک بے رنگ سے غبار میں ہوں

ایک بے رنگ سے غبار میں ہوں تیری آواز کے حصار میں ہوں بے خزاں ہے تصور ہستی میں ابھی عالم‌ بہار میں ہوں میرا ہر فعل مجھ سے پوشیدہ جانے میں کس کے اختیار میں ہوں ابھی توڑو نہ یہ طلسم‌ وفا میں ابھی پیار کے خمار میں ہوں زندگی تجھ سے کچھ نہیں شکوہ اپنے قاتل کے انتظار میں ہوں

مزید پڑھیے

گھر کو اب دشت کربلا لکھوں

گھر کو اب دشت کربلا لکھوں آج خود اپنا مرثیہ لکھوں سادہ کاغذ پہ خون کے آنسو اب اسے خط میں اور کیا لکھوں برگ گل پر صبا کے دامن پر نام تیرا ہی جا بجا لکھوں ذکر آئے جو تیری منزل کا چاند سورج کو نقش پا لکھوں ہو ترا ہی جمال پیش نظر جب قلم سے خدا خدا لکھوں میں تو زندہ ہوں مر چکا ہے ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی دوست نہ دشمن عجیب دنیا ہے

نہ کوئی دوست نہ دشمن عجیب دنیا ہے یہ زندگی ہے کہ تنہائیوں کا صحرا ہے بدلتے رہتے ہیں ہر موڑ پر سفر کے رفیق غم حیات مگر ساتھ ساتھ چلتا ہے یہ شہر درد ہے لوگوں سنبھل سنبھل کے چلو ہر ایک ذرہ میں آباد دل کی دنیا ہے بنائے گا یہ نیا آسمان فکر و نظر غبار راہ جو پامال ہو کے اٹھا ہے جو ...

مزید پڑھیے

گلی گلی مری وحشت لیے پھرے ہے مجھے

گلی گلی مری وحشت لیے پھرے ہے مجھے کہ سنگ و خشت کی لذت لیے پھرے ہے مجھے نہ کوئی منزل مقصود ہے نہ راہ طلب بھٹکتے رہنے کی عادت لیے پھرے ہے مجھے نہ مال و زر کی تمنا نہ زندگی کی ہوس نہ جانے کون سی قوت لیے پھرے ہے مجھے حرم سے دیر تلک دیر سے حرم کی طرف نہ جانے کس کی عقیدت لیے پھرے ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1561 سے 6203